تاریخ شیعیت (رافضیت) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تاریخ شیعیت (رافضیت)

  ابو عبداللہ

صفحہ 1 از 4

تاریخِ شیعیت (رافضیت)

شیعت کا لغوی معنیٰ”گروہ یا فرقہ“ ہے اور رافضیت کا لغوی معنیٰ”چھوڑ دینے والا“ ہے۔ چونکہ یہ لوگ اسلام کو چھوڑ کر اندرونی طور پر ایک گروہ یا فرقہ بن گئے تھے اس لیے ان کو شیعہ یا رافضی کہا جاتا ہے۔

تاریخِ شیعیت کو ہم تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں:

  1. حضورﷺ کے دور میں جب یہ لوگ عبداللہ بن ابی سمیت بعض دیگر سردارانِ منافقین کے ساتھ الگ الگ گروہوں میں تقسیم تھے ۔
  2. سیدنا عثمانؓ کے دور میں جب عبداللہ بن سباء نے ان تمام گروہوں کو منظم کیا اور نظریۂ امامت ان میں متعارف کروایا ۔
  3. عبید اللہ ثقفی سے لے کر آلِ بویہہ تک جب ان کے عقائد کی تدوین ہوتی رہی ۔

اس سے پہلے کہ ہم ان تین ادوار کو بیان کریں ہم آپ کو یثرب کے حالات سے آگاہ کرتے چلیں۔

اس وقت یثرب میں مشرکینِ عرب کے دو بڑے اور با اثر قبائل اوس اور خزرج کے علاوہ، اشوری اور رومی مظالم سے بھاگ کر آنے والے، یہودی بھی بڑی تعداد میں آباد تھے جو کہ عربی رنگ میں رنگ جانے کے باوجود بھی نسلی عصبیت اور نسلی تفاخر میں مبتلا تھے۔ جادو ٹونا، جھاڑ پھونک اور فال گیری کی وجہ سے اپنے آپ کو صاحبِ علم و فضل اور اسرائیلی عصبیت کی وجہ سے اپنے آپ کو قائد و پیشواء اور عربوں کو نہایت حقیر سمجھتے تھے۔ اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ یثرب کی معیشت پر مکمل کنٹرول بھی ان یہود کا تھا کیونکہ یہود کو دولت کمانے کے فنون میں بہت مہارت تھی۔ یثرب کی تجارت تو تھی ہی ان کے ہاتھ میں، مگر ان کی ذیادہ دلچسپی سودی لین دین میں تھی۔ اس کے لیے وہ عرب شیوخ اور سرداروں کو سود پر رقمیں دیا کرتے تھے۔ جس کو شیوخ اور سردار حصولِ شہرت کے لیے بے دریغ استعمال کر دیتے تھے۔ یہود ان سے قرض کی رقوم کے بدلے قرض داروں کی زمینیں، کھیتیاں اور باغات رہن رکھوا لیتے اور چند سال گزرنے کے بعد خود ان کے مالک بن جاتے تھے یہی نہیں بلکہ یہود جنگ و فساد کی آگ بھڑکانے میں بھی بڑے ماہر تھے۔ یہ لوگ قبائل کو ایک دوسرے کے خلاف لڑاتے اور خود تماشہ دیکھتے اور دشمنی کی آگ ٹھنڈی نہ ہونے دیتے تاکہ سودی لین دین کی بدولت دھرا نفع کمائیں۔

یثرب میں یہود کے تین قبائل مشہور تھے ۔

  1. بنو قینقاع (یہ یثرب کے اندر رہتے تھے اور خزرج کے حلیف تھے)
  2.  بنو نضیر ( یہ یثرب کے اندر رہتے تھے اور خزرج کے حلیف تھے)
  3.  بنو قریظہ ( یہ یثرب کے اَطراف میں رہتے تھے اور اوس کے حلیف تھے)

ایک مدت سے یہی قبائل اوس اور خزرج کے مابین جنگِ بعاث کے شعلوں میں عربوں کو ایندھن بنا کر اہلِ عرب کو اپنے معاشی شکنجہ میں جکڑ رہے تھے اور اب یہ یہودی ایک سازش کے تحت ایک طویل عرصے سے باہم دست و گریباں اوس اور خزرج قبائل کو اپنے حلیف اور آلہ کار عبداللہ بن ابی بن سلول کی سربراہی پر متفق کر چکے تھے اور اس کی بادشاہت کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ تاکہ یہودی عربوں کو صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر غلام بنا سکیں۔

یہ سن ہجری کے ابتدائی ایام تھے اور جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ اس دن نہ صرف عبداللہ بن ابی کی بادشاہت کا خواب چکنا چور ہو گیا بلکہ یہود کے تمام منصوبے بھی خاک میں مل گئے. کیونکہ یثرب مدینۃ النبیﷺ بن چکا تھا اور الله کے آخری نبیﷺ مدینہ تشریف لا چکے تھے۔ جو تمام تعصبات سے بالاتر ہر انسان کو انسان کی غلامی سے نکل کر صرف الله کی غلامی کے سایۂ عافیت میں آنے کی ترغیب دیتے تھے۔

اس وقت تو یہود کے علم و فضل کا غرور اور پیشوائیت کا غرور پاش پاش ہو گیا جب ان کے سامنے سب سے بڑے عالمِ حصین بن سلام نے یہود کی نظر میں انتہائی حقیر قوم عرب کے ایک شخص جو اللہ کے آخری نبیﷺ بھی تھے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے اور عبدالله بن سلام بن کر اسرائیلی تفاخر کی دھجیاں اڑا دیں۔ یہی وجوہات تھیں کہ یہود مسلمانوں سے سخت متنفر تھے کیونکہ تعصب نے انہیں اندھا اور بہرہ کر دیا تھا۔ اس تعصب کی وجہ سے ہی یہود نے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا بازار گرم رکھا اور آتشِ انتقام میں یہود نے بدر و احد اور خندق کے معرکوں میں اپنی صلاحیتیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیں۔ مگر فتح مکہ کے بعد تو ان کے تمام ارادوں پر اوس پڑ گئی اور اب جبکہ یہ مسلمانوں کو کسی میدان میں شکست نہ دے سکے تو انہوں نے اپنی فطرت کے زیرِ اثر گھر کا بھیدی بن کر لوگوں کا لنکا ڈھانے کی سوچی اور یہ لوگ منافقت کی آڑ میں مسلمان ہونا شروع ہو گئے۔

عبداللہ بن ابی، سعد بن حنیف، زید بن الصلت، نعمان اونیٰ ابن عمرو، راضع بن حریملہ، سلسلہ ابنِ برہام، رفاعہ بن زید، کنانہ ابنِ صوریا ان لوگوں سمیت بڑے بڑے یہود ان کے سرخَیل تھے اور انہوں نے اسی وقت مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش شروع کی مگر خود ایک فرقہ بن گئے۔ جس کی طرف قرآن نے واضح اشارہ دیا

وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَعًا 

ترجمہ: مسلمانو! مشرکین میں سے نہ ہو جانا جنہوں نے دینِ اسلام میں تفریق پیدا کی اور شیعہ ہو گئے۔

(سورۃ روم: آیت 31، 32)

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ

ترجمہ: بے شک جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور شیعہ ہو گئے (اے نبیﷺ) تیرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

(سورۃ الانعام آیت 159)

حضورﷺ کا زمانہ انبیاء میں سب سے آخری زمانہ ہے۔ آپﷺ نے منافقت کے پردے میں چُھپے اس دشمن سے آگاہ ہونے کے بعد فرمایا:

"قال رسول اللہﷺ: یظھر فی آخر الزمان قوم یسمون الرافضة، یرفضون الاسلام

رسول اللهﷺ نے فرمایا: آخری زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی اور جو رافضہ ہوگی اور جو اسلام سے نکل جائے گی۔

( مسندِ احمد جلد 1،صفحہ 103)

صرف یہی نہیں بلکہ نبی کریمﷺ نے ان روافض کی واضح نشانی بھی بتائی۔

 عن علیؓ قال قال رسول اللهﷺ سیأتی بعدی قوم لھم نبز یقال لھم الرافضة فان ادرکتھم فاقتلھم فانھم مشرکون قلت یا رسول اللّٰه ما العلامۃ لھم او فیھم قال یقرظونک ما لیس فیک ویطعنون علی السلف وینتحلون حبنا اھل البیت ولیسوا کذلك و رأیت ذلك یسبون ابابکرؓ وعمرؓ

صفحہ 1 از 4