اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہم سے کثرت سے احادیث پیغمبرﷺ مروی ہیں کیا وجہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ دیگر بزرگوں سے علم میں کم تھے یا انہیں آنحضرتﷺ کے پاس رہنے کا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے کم موقعہ ملا تھا اس سوال کا جواب تلاش کرتے وقت حدیث نبوی: انا مدينة العلم وعلى بابها واعلم امتی بعدی علیؓ بن ابی طالب زیر نظر رہے۔
مولانا مہرمحمد میانوالی
الجواب: اللہ تعالیٰ خالق کارخانہ گوناگوں نے فطری اصول کے مطابق ہر ایک صحابی کو ایک دوسرے سے مختلف اور متنوع قسم کی خوبیوں سے نوازا تھا خدا پنج انگشت یکساں نکرد ہر فرد اور شخصیت کو ایک ہی پیمانہ سے نہیں دیکھا جاسکتا کسی کو عمر کم ملی کسی کو زیادہ کسی کو وعظ وپند کی مجالس زیادہ نصیب ہوئیں کسی کو کم کسی کو سیاست سے لگاؤ رہا کسی کو تعلیم و تعلم سے کسی کو ہونہار اور لائق شاگرد اور پاکیزہ ماحول میسر آیا اور ان کے علمی حلقے اور درسگاہیں مشہور ہوئیں اور کچھ اپنے حبداروں کے ہاتھوں ہی اذیت ناک چرکے سہہ سہہ کر اپنے مولا سے جا ملے۔
ہر کے رابہر کارے ساختند میل اورا در دلش انداختند
بلا شبہ مذکورہ بالا تینوں حضرات اہلِ سنت کے ان مکثرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں جن کے نام مع مرویات یہ ہیں۔
1: حضرت ابوهريرہؓ المتوفى 58ھ
2: خادم رسولﷺ حضرت انس بن مالكؓ المتوفى 93ھ 2286
3: ام المؤمنين حضرت عائشہ سیدہ صدیقہؓ المتوفاة 58ھ 2210
4: عبد الله بن عباسؓ المتوفى 68ھ 1660
5: عبد الله بن عمرؓ المتوفی 70ھ 1630
6: جابر بن عبداللهؓ المتوفى 74ھ 1540
7: ابو سعید خدریؓ المتوفی 46ھ 1170
ان حضرات سے اہلِ بیت کے تقابل کی کیا ضرورت ہے۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جیسی ہستیاں بھی اس جماعت میں نہیں حالانکہ وہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے زیادہ علم رکھتے تھے۔
طبقات ابنِ سعد: جلد، 2 صفحہ، 489 اردو میں ہے کہ رسول اللہﷺ کے اکابر اصحاب آپﷺ سے حدیث بیان کرنے میں بہ نسبت اوروں کے بہت کم رہے مثلاً سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ،سیدنا ابو عبيدة بن الجراحؓ سیدنا سعيدة بن زید بن عمرؓ، سیدنا ابی بن کعبؓ سیدنا سعد بن عبادہؓ وغیرہم ان لوگوں سے کثیر احادیث نہیں آئیں جیسے نوجوان اصحاب مثلاً سیدنا جابرؓ، سیدنا ابو سعیدؓ، سیدنا ابو ہریرہؓ کے ہم پلہ لوگوں سے یہ سب کے سب فقہائے اصحابِ رسول اللہﷺ میں شمار کیے جاتے تھے رسول اللہﷺ کے ایسے بہت سے (اکابر) اصحاب آپﷺ کی وفات سے قبل اور بعد آپﷺ کا علم لے گئے ان سے کچھ زیادہ منقول نہیں اور بوجہ کثرت اصحابِ رسول اللہﷺ کے ان کی حاجت نہ ہوئی۔
دراصل کثرت روایت کا مدار علو مرتبت نہیں بلکہ دیگر وجوہ ہیں کہ ان حضرات نے روایت حدیث اور تعلیم و تعلم کو ہی نصب العین بنایا پھر عمریں بھی زیادہ پائیں اور ہزاروں ہونہار شاگرد نصیب ہوئے۔
نیز روایت و تحدیث کی عہدِ نبوی میں تو خاص حاجت نہ تھی بعد میں جوں جوں تمدنی و معاشرتی مسائل کثرت فتوحات سے پیدا ہوتے گئے علم حدیث و فتویٰ کی روایت روزافزوں بڑھتی گئی زیادہ عمر پانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو علم پھیلانے کا زیادہ موقع ملا یہی وجہ ہے کہ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ رہا ہمارے اعتقاد میں سب سے بڑے عالم تھے بخاری شریف: جلد، 1 صفحہ، 67 مثلاً پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان ہے وکان ابوبکرؓ اعلمنا مگر حضورﷺ کے بعد کمی عمر دو سال 3 ماہ، 10 دن اور امورِ خلافت میں مشغولیت کی وجہ سے احادیث کم مروی ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰؓ نے بالترتیب 539، 586 احادیث اور حضرت عثمانِ غنیؓ سے ان سے کم مروی ہیں مگر ان کی علمیت کے پیش نظر یہ بہت کم ہیں وجہ وہی ہے کہ دیگر ترین کی نسبت عمریں کم اور اہم ملکی و سیاسی کاموں میں مصروفیت زیادہ تھی۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضورﷺ کے بعد صرف چھ ماہ خانہ مرتضوی کو روشن کیا کم گوئی اور شرمیلاپن اس پر اضافہ ہے بقول شیعہ یہ چھ ماہ کا عرصہ خلافت اور باغِ فدک چھن جانے کے غم میں گزرا روایت کیا سناتیں حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما گو بڑی محترم ہستیاں ہیں اور عمریں بھی لمبی پائیں لیکن والد ماجد کے مقابلے میں علمی مزاج بہت کم رکھتے تھے سیاسیات میں زیادہ مشغول رہے تحدیث و افتاء کے حلقے اور مدارس قائم نہیں کیے بقول شیعہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی عمر کا اکثر حصہ شادیوں میں مصروف رہا کل شادیوں کے متعلق مجلسی نے لکھا ہے قرب اسناد میں معتبر سند کے ساتھ حضرت محمد باقرؒ سے روایت ہے اور ابنِ آشوب نے روایت کی ہے کہ حضرت حسنؓ نے 250 اور ایک روایت کے مطابق 300 عورتوں سے نکاح کیا حتیٰ کہ امر المؤمنین نے منبر پر فرمایا کہ سیدنا حسنؓ رضی اللہ عنہ بہت طلاق دیتے ہیں اپنی لڑکیاں اس کو نہ دیا کرو مگر لوگ کہتے کہ اگر وہ ایک رات بھی ہماری لڑکی سے شادی کرے پھر طلاق دے دے تو ہمارے شرف کے لیے کافی ہے۔
(جلاء العیون: صفحہ، 277)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کم گوئی عزلت پسندی اور خاموش تقویٰ میں اپنی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہؓ رضی اللہ عنہا کی طرح اپنی مثال آپ تھے لہٰذا ان سے بھی شرف تلمذ اور تحدیث کا لوگوں کو کم موقع ملا یہ وجہ قلت ان کی عظمت و شہرت کی وجہ سے ہے ورنہ فی نفسہ ان سے سبیوں احادیث مروی ہیں کہ شیعہ نے اتنی روایت نہیں کیں چونکہ وہ عہدِ نبوی میں بہت صغیر السن تھے صحبت کا موقعہ کم پایا تو اکثر احادیث حضورﷺ کے بجائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایت کی ہیں۔
کثیر الروایہ حضرات سے کثرت کی وجہ:
سیدنا ابو ہریرہؓ 7ھ میں مسلمان ہوئے گو صحبت نبوی 5 سال سے بھی کم پائی مگر وہ عاقل بالغ اور طلب علم میں شب و روز مصروف اور سفر و حضر میں حضورﷺ کے ملازم خاص رہتے تھے خود اسی اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں۔
کہ ہمارے مہاجر بھائی تجارت میں اور انصاری بھائی کھیتی باڑی میں مشغول رہتے تھے اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے ساتھ چمٹے رہتے تھے صرف روٹی آپ سے مل جاتی تھی اور ان اوقات میں حاضر ہوتے تھے جن میں دوسرے نہ ہوتے اور وہ کچھ حضرت ابو ہریرہؓ یاد رکھتے جو دوسرے یاد نہ کر سکتے۔(صحیحین)
دوسری روایت میں ہے کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ میں بہت حدیثیں سن کر آپ سے بھول جاتا ہوں آپﷺ نے فرمایا چادر پھیلاؤ میں نے پھیلا دی آپﷺ نے چلو بھر کر کچھ ڈالنے کا اشارہ کیا پھر فرمایا اپنے ساتھ ملاؤ میں نے وہ چادر سینے سے لگائی پھر اس کے بعد میں کچھ بھی سن کر نہ بھولا۔
(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 22 کتاب العلم)
ایک حدیث میں آپﷺ نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو حریصِ اعلیٰ سوال الحدیث بتایا ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے 9 سال ہدایت کے آفتاب عالمتاب کے پہلو میں گزارے آپ کے متعلق ارشاد ہے:
فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على الطعام۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 533)
سیدہ عائشہؓ کی فضیلت سب عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید گوشت اور روٹی کا آمیختہ کی فضیلت تمام کھانوں پر۔
کثرتِ علم کی طرف اشارہ ہے نیز آپ کا ارشاد ہے:
خذو اربع العلم من هذه الحميداء عائشہؓ۔
(بحوالہ اہلِ سنت پاکٹ بک: صفحہ، 339)
ترجمہ: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے چوتھائی علم حاصل کرو۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ذہن حافظہ ضرب المثل تھا علم سے دلچسپی اور فراغت اس پر مستزاد ہے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے متعلق حضورﷺ نے دعا فرمائی تھی:
اللهم علمه الكتب والحكمة۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 531)
ترجمہ: اے اللہ ان کو کتاب اور حکمت کا علم عطا فرما۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بلا کا ذہن و حافظہ رکھتے تھے ایک مرتبہ حضورﷺ نے علمی پہیلی بوجھی کوئی جواب نہ دے سکا ان کو سوجھ گیا تھا اس وقت ادبانہ بولے بعد میں اظہار کیا۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 14) اور آپﷺ نے ان کو مرد صالح فرمایا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ خادمِ خاص اور بیتِ نبوی کے ایک فرد تھے دس سال حضورﷺ کی اندر باہر سفر و حضر میں خدمت کی 10 سال کی عمر میں ماں نے حضورﷺ کے سپرد کر دیا تھا انتہائی ذہین اور علم دوست تھے آپ نے ان کو دعا دی تھی اے اللہ اس کے مال اولاد زیادہ کر اور جو کچھ علم وغیرہ اوصاف اس کو دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔
(مشکوٰۃ: صفحہ، 575) سیدنا جابر بن عبداللہؓ کے لیے آپﷺ نے 25 مرتبہ استغفار کی۔(ترمذی)
تو روایت علم و احادیث میں ان بزرگوں کی خصوصیت اور کثرت ایسی دعاؤں ہی کا نتیجہ ہے جیسے حضرت علیؓ کو آپﷺ نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو انہوں نے قضا نہ جاننے کا عذر کیا تو آپ نے دعا فرمائی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی دو آدمیوں میں فیصلہ کے متعلق مجھے جھجک نہیں ہوئی۔ (کتب احادیث)
الغرض تکثیر یا تقلیل روایات کی وجوہات ہر بزرگ کی اپنی دلچسپی ماحول اور مخصوص حالات پر تھیں مگر یہ خیال کرنا قطعاً غلط ہے کہ مسلمانوں کو اہلِ بیت سے نفرت تھی اور دوسروں سے محبت اس لیے ان سے کم اور دوسروں سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں ہاں ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جب امت کا باغی فرقہ قاتلانِ حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ کا تقرب حاصل کر کے غلو کرنے لگا جیسے وہ شیعہ علی کہلا کر حضرت علیؓ کی مسلسل نافرمانی سے آپ کو تکلیف اور حکومت کو نقصان پہنچا رہا تھا حتیٰ کہ نصف دنیا کی یہ حکومت عہدِ مرتضوی کے آخر میں صرف حجاز و کوفہ تک محدود رہ گئی اور سیدنا علیؓ ان سے جان چھڑانے کی آرزو کرتے تھے۔(جلاء العیون)
اسی طرح وہ تقیہ کی آڑ میں آپ پر جھوٹی روایات کا طوفان عرصہ تک برپا کرتا رہا حضرت علیؓ کے مخلص اور سچے ساتھی کم ہوتے گئے اور اقضیٰ امت سے دین روایت کرنے میں نہایت احتیاط کی ضرورت پڑی چنانچہ محدثین نے کڑی شرائط سے مرویات علوی کو جمع کیا اسی سلسلے میں حافظ ابنِ القیمؒ فرماتے ہیں:
قاتل الله الشيعة قد أكثروا الكذب علی علی وای علم افسدوا۔
(اعلام الموقعین: جلد، 1 صفحہ، 21)
اللہ شیعہ رافضہ کو برباد کرے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر خوب جھوٹ باندھا اور کتنے بڑے علم کو ضائع کر دیا لہٰذا سیدنا علی المرتضیٰؓ سے اہلِ سنت نے بکثرت احادیث روایت کیں مسند احمد میں ان کی تعداد 810 بتائی ہے تہذیب التہذیب آپ کے ترجمہ میں سے آپ کے شیوخ اور تلامذہ کی فہرست پیش خدمت ہے۔
حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضورﷺ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا مقداد بن اسودؓ اور سیدہ فاطمہؓ سے احادیث روایت کی ہیں آپ سے آپ کی اولاد میں سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسینؓ محمد اکبرؒ (ابنِ حنفیہؒ) عمرؒ فاطمہ محمد بن عمرؒ اور زین العابدینؒ نے مرسلاً روایت کی ہے باندی ام موسیٰ عبداللہ بن جعفرؒ ابنِ جعدہ بھانجا عبید اللہ بن ابی رافعؒ نے روایت کی ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سیدنا براء بن عازبؓ سیدنا ابو ہریرہؓ سیدنا ابو سعید خدریؓ سیدنا بشر بن سحم الغفاریؓ سیدنا زید بن ارقمؓ سیدنا عمر بن حریثؓ سیدنا نزال بن سبرہ ہلالیؓ سیدنا جابر بن سمرہؓ سیدنا جابر بن عبداللہؓ سیدنا ابو جحیفہؓ سیدنا ابو امامہؓ سیدنا ابولیلیٰ الانصاریؓ سیدنا ابو موسیٰؓ سیدنا مسعود بن الحکمؓ سیدنا ابوالطفيلؓ سیدنا عامر بن واثلہؓ نے روایت کی ہے۔
اور تابعین میں سے زر بن جیش زید بن وہب ابوالاسود الدولى حارث بن سوید تیمی حارث بن عبد الله اعور یرملہ مولیٰ اسامه بن زید ربعی بن حراش شریح بن ہانی بشریح النعمان عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ مروان بن الحکم اور بہت سی مخلوقات نے روایت کی ہے۔
شیعہ نے علم کیوں نہ روایت کیا:
سنی اصول پر تحقیقی جواب کے بعد اب میں شیعہ حضرات کو چیلنج دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کی کتب اصولِ اربعہ میں براہِ راست بواسط حضرت علیؓ یا حضرت ابوذرؓ و حضرت سلمانؓ و حضرت مقدادؓ سید الرسل محمد مصطفیٰﷺ سے کتنی احادیث مروی ہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کتنی ہزار مروی ہیں اور کون کون سے لوگوں نے روایت کی ہے حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ سے کتنے صد مروی ہیں۔
ارے آپ کی امامیہ جعفریہ شریعیت نبویہ محمدیہﷺ کا ٪95 ذخیره سیدنا باقر و سیدنا جعفر دو تابعی بزرگوں سے مروی ہے جنہوں نے سیدنا رسول خداد علی المرتضیٰؓ کو تو کجا حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ کو بھی نہیں دیکھا تابعیت کا شرف سنی اصول پر صرف ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھ کر پایا ہے جنہیں آپ مؤمن و مسلمان کامل نہیں مانتے ان کی سب روایات اپنی فرمودہ ہیں کچھ مرسل اور منقطع ہیں ان سے شریعت محمدیہﷺ کے ابطال پر تو استدلال ہوتا ہے کیونکہ وہ باعتقاد شدید احکام کے حلال و حرام کرنے میں مختار تھے نیز واجب الاتباع معصوم اور صاب الہام و کتاب شیعہ کے مثل نبی دینی پیشوا ہیں مگر شریعت محمدیﷺ ان سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی اب میں پلٹ کر سوال کرتا ہوں کیا حضورﷺ یا حضرت علیؓ و حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کا علم سیدنا جعفر صادقؓ سے کم تھا یا اہلِ بیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حضورﷺ کی صحبت کم نصیب ہوئی اور حضرت باقر صادقؓ و سیدنا جعفر صادقؓ کو زیادہ ملی؟ حالانکہ وہ اصولِ تشیع پر تابعی ہی نہیں تبع تابعی ہیں کہ ایماندار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی نہیں دیکھا پھر کیوں نوجوانان جنت اور قاضی امت سے شیعہ کی شرکت منقول نہیں اس سے یا تو یہ ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلِ بیتؓ ہرگز شیعہ نہ تھے شیعہ کے بانی و امام اول (بقول شیعہ) سیدنا باقر صادقؓ و سیدنا جعفر صادقؓ ہیں یا یہ کہ جسمانی زندگی کے قاتل ہونے کی طرح ان کی علمی و روحانی زندگی کے قاتل بھی بھی شیعہ حضرات ہیں۔
دو غلط حدیثیں:
رہی حديث انا مدينة العلم و علیؓ بابھا اسے امام ترمزیؒ نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ منکر ہے یعنی نا مقبول اور بہت کمزور ہے۔
علامہ سخاویؒ نے بھی یہی کہہ کر لکھا ہے کہ اس کی صحت کی کوئی وجہ نہیں ابنِ معینؒ کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے اس کی کوئی اصل نہیں ابوسعیدؒ اور یحییٰ بن سعیدؒ یہی کہتے ہیں علامہ جوزیؒ نے اس کو موضوعات میں لکھا ہے موضوعات کبیر نہ ملا علی قاریؒ صفحہ 40)
رہی اعلم امتی بعدی علیؓ بن ابی طالب یہ پہلی سے بھی ساقط الاعتبار اور موضوع ہے کتبِ حدیث تو کجا کتب موضوعات میں بھی نظر سے نہیں گزری اور مشتر صاحب نے حوالہ اس لیے نہیں دیا کہ مال مسروق پکڑا نہ جائے۔
الغرض شیعہ حضرات نے اپنا دین حضرت علیؓ سے روایت نہ کر کے ان جیسی احادیث کے موضوع ہونے پر خود ہی مہر تصدیق ثبت کردی جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔