سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 1 از 5

تکفیرِ صحابہؓ

یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی مسلمان کو کافر کہنے والا اور کسی کافر کو مسلمان کہنے والا خود دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن شیعہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ان قُدسی صِفات شخصیات کو نہ صرف یہ کہ مشقِ طعن بناتا ہے بلکہ انہیں خارج اَز اِسلام سمجھتا ہے جنہوں نے محمد رسول اللّٰہﷺ کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کیا۔ اور آپ نے ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ عظیم شخصیات رشکِ ملکوت بن گئیں ۔

 جن لوگوں (صحابہ کرامؓ) نے سب سے پہلے حضور اکرمﷺ کے پیغامِ اسلام کو قبول کیا اور اسے اپنے قلب و نظر میں ایسی جگہ دی کہ دنیائے کفر نے اس حقیقت کو صحابہ کرامؓ کے دلوں سے نکالنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگالیا، ہر قسم کی اذیتیں دے لیں ۔ شدائد و مصائب کے طوفان ان پر توڑے گئے لیکن اِسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کی محبت ان کے دلوں سے نہ نکالی جاسکی۔

 یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کے پیغامِ حق کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ ان کے اِیمان کو اللّٰہ رب العزت نے دنیائے انسانیت کے لیے معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا :

 "فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا "

ترجمہ : "پس اگر وہ تمہاری (صحابہ کرامؓ ) طرح اِیمان لائیں تو ہدایت پا جائیں گے۔"

جب مشرکین نے صحابہ کرامؓ پر طعن کرتے ہوئے کہا کہ:

"أَنُؤْمِنُ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاءُ"

 ترجمہ : "کیا ہم بے وقوفوں کی طرح اِیمان لائیں؟"

تو جواب میں اللّٰہ نے صحابہ کرامؓ کی وکالت کرتے ہوئے فرمایا: 

" إِلَّا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَّا يَعْلَمُونَ"

 ترجمہ:" خبر دار وہی (کفار) خود بے وقوف ہیں لیکن علم نہیں رکھتے ۔“

جن کے لیے اللّٰہ نے قرآن کریم میں فرمایا:

 "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ"

 ترجمہ : ” وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔“

جن کی شان میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: 

 "وعن عبد اللّٰه بنِ مغفّل قال قال رسول اللّٰهﷺ اللّٰه اللّٰه في اصحابي لا تتخذوهم غرضاً من بعدي فمن احبهم فبحبي احبهم ومن ابغضهم فببغضى ابغضهم ومن آذاهم فقد اذاني و من اذاني فقد اذى اللّٰه ومن اذى اللّٰه فيوشك ان يأخذه"

( مشکوة شریف صفحہ 554)

 ترجمہ: حضرت عبداللّٰہ بنِ مغفلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا اللّٰہ سے ڈرو۔ اللّٰہ سے ڈرو۔ میرے صحابہؓ کے معاملہ میں مُکرّرکہتا ہوں ۔ اللّٰہ سے ڈرو۔ اللّٰہ سے ڈرو۔ میرے صحابہؓ کے معاملے میں ۔ ان کو میرے بعد ہدفِ تنقید نہ بنانا، کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بناء پر اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی بناء پر، جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللّٰہ کو ایذاء دی۔ اور جس نے اللّٰہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللّٰہ اسے پکڑ لے۔"

" ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے حضور اکرمﷺ نے فرمایا:"

 "اذا رأيتم الذين يسبّون اصحابي فقولو العنة اللّٰه علٰى شركم "

حواله (ترمذی جلد 6 صفحہ 706) (مشكوة)"

 ترجمہ : ” جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہؓ پر سبّ وشتم کرتے ہیں تو کہہ دو اللّٰہ تمہارے شر پر لعنت کرے۔"

 ان تلامیذِ مصطفیٰﷺاور آپﷺ کی نبوت کی سب سے پہلے گواہی دینے والے صحابہ کرامؓ کو شیعہ مشقِ طعن بناتے ہیں، بلکہ حضورﷺ کے صحابہؓ کو برا بھلا کہنا، انہیں سبّ وشتم کا نشانہ بنانا، ان پر تبراء بازی کرنا اور انہیں کافر قرار دینا شیعہ مذہب کا لازمہ ہے۔ 

شبیر :میں تو یہ جانتا ہوں کہ ہمارے شیعہ حضرات صحابہ کرامؓ کو گالیاں وغیرہ تو نہیں دیتے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں، اور انہیں تمام صحابہ کرامؓ سے افضل و اعلیٰ گِردانتے ہیں، لیکن آپ نے تو بڑی عجیب بات بتائی کہ ہمارے مذہب میں صحابہ کرامؓ کو گالیاں دینا اور انہیں کا فر قرار دینا مذہب کا لازمی جزو ہے، کیا آپ اس کی کوئی دلیل دیں گے؟

 سلیم: بھئی! میں نے آپ سے پہلے ہی کہا ہے کہ میں بغیر دلیل کے کوئی بات نہیں کروں گا بلکہ اپنا دعویٰ ٹھوس دلائل سے ثابت کروں گا ، یہ دیکھیے میرے ہاتھ میں آپ کے مذہب کی معتبر ترین کتاب "حقُّ الیقین“ موجود ہے۔ جس میں یہ عبارت غور سے پڑھیے اور میرے مؤقف کی صداقت ملاحظہ فرمائیے!

 صحابہ کرامؓ اللّٰہ کی مخلوق میں سب سے بدتر مخلوق ہیں (نعوذ باللّٰہ)

"و اعتقاد ما در برات آنست که بیزاری جو بنداز بت ہائے چہارگانہ یعنی ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و معاویهؓ، و زنان چهارگانه یعنی عائشهؓ و حفصهؓ و هندؓ وام الحکمؓ و از جمیع اشیاع و اتباع ایشاں، و آنکه ایشاں بدترین خلق خدا اند، و آنکه تمام نمی شود اقرار بخدا ورسولﷺ و آئمہ مگر به بیزاری از دشمنان ایشاں" 

(حقُّ الیقین صفحه 519)

 ترجمہ: اور تبرّا کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ چار بتوں سے بیزاری اختیار کریں یعنی ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و معاویہؓ سے اور چار عورتوں سے بیزاری اختیار کریں یعنی عائشہؓ حفصہؓ و ہندؓ اور ام الحکمؓ سے اور ان کے تمام پیرو کاروں سے ، اور یہ کہ یہ لوگ خدا کی مخلوق میں سب سے بدتر تھے، اور یہ کہ خدا پر ، رسولﷺ پر اور آئمہ پر ایمان مکمل نہیں ہو گا جب تک کہ ان کے دشمنوں سے بیزاری اختیار نہ کریں۔“

 فائدہ : آپ نے دیکھا کہ شیعہ نے کن مقدّس ترین شخصیات کو خدا کی مخلوق میں سب سے بدترین لکھا ہے، یہ وہ عظیم شخصیات ہیں جن کی فضیلت قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہے۔

سیدنا ابو بکر صدیقؓ، اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں، جنہوں نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا ، سب سے پہلے حضورﷺ کو بیٹی کا رشتہ دیا، جن کے لیے خود پیغمبر اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "میں نے دنیا میں تمام لوگوں کے احسانات کا بدلہ دے دیا ہے لیکن ابو بکرؓ کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکا" ۔ (صحاح ستہ )

سیدنا عمرؓ وہ عظیم انسان ہیں جنہیں حضورﷺ نے اسلام کی عظمت کے لیے اللّٰہ سے مانگا اور مانگ کر وہ تربیت کی کہ ان کی عظمت پر ملائکہ نے بھی رشک کیا۔

صفحہ 1 از 5