Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زکوٰۃ سے بچنے کے لیے فارم میں اپنے آپ کو شیعہ لکھوانا


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ بعض لوگ بینک میں پیسے رکھتے ہیں اور زکوٰۃ کی کٹوتی سے بچنے کے لیے شیعہ والا فارم پُر کرکے دے دیتے ہیں۔ اس سے دین کے اندر جو خرابی اور مسلمان کے ایمان پر جو زد پڑتی ہے، قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں؟

جواب: صورت مسئولہ میں جو لوگ زکوٰۃ کی کٹوتی سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو شیعہ لکھواتے ہیں ایسے لوگوں کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہیے۔ نیز اس قسم کے مسائل میں جہل معتبر نہیں ہے۔

اذا طلق الرجل كلمة المكفر عمد السكنة لم يعتقد الكفر قال بعض اصحابنا لايكفر لان المكفر يتعلق با لضمير ولم يعقد الضمير على الكفر وقال بعضهم يكفر وهو الصحيح عندى لانه استخف بدينه۔(رد المحتار: جلد، 3 صفحہ، 312)

ومن أتى بلفظة الكفر مع علمه انها لفظة الكفر عن اعتقاده فقد كفر ولو لم يعتقد او لم يعلم انها لفظة الكفر ولكن اتى بها على اختيار فقد كفر عند عامة العلماء لايعذر بالجهل۔

(التاتاخانيه: جلد، 5 صفحہ، 312)

(ارشاد المفتين: جلد، 1 صفحہ، 447)