حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنھا اور حضرت ابوبکرصدیق رضی…

حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنھا اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ میں رنجش کا افسانہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

اہل سنت کے نزدیک سیدہ کی خاموشی ان کی رضامندی ہے۔ اپنے والد مرحوم کا فرمان سن کر کوئی بھی بیٹی ناراض نہیں ہوسکتی، اور وہ بھی دنیا کی ملکیت کی خاطر!! ہرگز نہیں۔

اگر فرمان نبویﷺ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جھوٹا سنایا ہوتا تو یہی حدیث دوسرے راویان سے مروی نہ ہوتی بلکہ اہل تشیع معتبر کتب میں کئی اماموں سے بیان کی گئی نہ ہوتی۔

لہٰذا حدیث نبوی متفقہ علیہ حدیث ہے، اہل تشیع اور اہل سنت کی معتبر کتب میں کئی اسناد سے مروی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی بیٹی اپنے والد کی طرف منسوب جھوٹی بات سن کر خاموش نہیں رہ سکتی بلکہ اس کی مذمت کرے گی۔ اگر بالفرض حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ڈر اس وقت مانع تھا تو بعد میں چھ ماہ کے عرصہ میں سیدہ فاطمہ کو کئی مواقع میسر ہوئے جب وہ اس فرمان نبوی پر اپنا مؤقف بیان کرسکتی تھیں، بلکہ اہل تشیع کے ہاں خطبہ فدک بھی مشہور ہے۔۔ سیدہ نے اس میں بھی یہ نہیں کہا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جھوٹی بات نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کی ہے۔ معاذاللہ


دیکھیں کتنی صفائی سے جھوٹی روایات کا سہارا لے کر تاریخ کو مسخ کرکے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔۔!!

پہلے اس واقعہ کو مختصراً پڑھیں۔

  پیر کے دن نبی کریم کی رحلت کے بعد ثقیفہ بنی ساعدہ میں انصار صحابہ کا اجتماع حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق کی مرضی و منشاء سے نہیں ہوا تھا، انہیں تو جب اطلاع ملی تو وہ اس معاملہ کو سلجھانے کے لئے وہاں گئے تھے۔

وہاں حضرت ابوبکر صدیق کا انتخاب بھی کوئی سوچی سمجھی سازش نہ تھی اور جب انہیں منتخب کرلیا گیا تو وہاں موجود تمام صحابہ کرام نے ان کی بیعت کرلی۔

یہ پورا واقعہ چند گھنٹوں میں حل ہو گیا تھا۔

مطلب نبی کریمﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام دس دس کی ٹولیوں میں حجرہ عائشہ صدیقہ میں جاتے اور جنازہ درود و سلام کی صورت میں پڑھتے پھر مسجد نبوی جاکر حضرت ابوبکر  صدیقؓ کی بیعت کرتے، یہ سلسلہ پیر، بدھ اور جمعرات کی رات تک جاری رہا جب تمام صحابہ کرام جنازہ پڑھ چکے تو پھر تدفین رسول ہوئی، دیر کی وجہ بھی یہی تھی۔

 ایک عام فہم بھی ان تمام حقائق کو سمجھ سکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان تین دنوں میں سیدنا علی اتنے مصروف تھے کہ انہیں حضرت ابوبکر صدیق کی بیعت کا پتہ ہی نہ چلا ہوگا یا ان کے پاس وقت ہی نہ تھا کہ کوئی اور کام کیا جاسکے!!!

اور کیا یہ ممکن ہے کہ تدفین صرف سیدنا علی نے کی ہو اور صحابہ کرام موجود ہی نہ ہوں!!

اب اس رافضی کی سنیں۔۔

کسی جھوٹی روایت سے یہ فرما رہے ہیں کہ سیدہ جو اتنی با پردہ تھیں کہ وصیت فرما گئیں کہ ان کی تدفین رات کو ہو تاکہ کسی کی جنازہ پر بھی نظر نہ پڑے!!

جس نے اپنے جنازہ کی چارپائی ایسی بنوائی کہ کسی غیر کو جسمانی بناوٹ تک معلوم نہ ہوسکے وہی سیدہ انصار کے گھروں میں جاکر غیر محرم مردوں سے سیدنا علی کی حمایت اور بیعت کا اس وقت کہہ رہی تھی جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت بھی کی جاچکی تھی!!

دوسری طرف سیدنا علی فرما رہے ہیں کہ صرف وہی نبی کریمﷺ کی تدفین میں مصروف تھے !!

اس قسم کی روایات پر کس طرح دین ایمان رکھا جائے!

یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ سیدہ فاطمہ فدک کے معاملے پر ناراض نہیں ہوئیں تھیں ، بلکہ عارضی رنجش کا امکان بھی ان روایات سے رد ہو جاتا ہے جو خود شیعہ کتب میں موجود ہیں۔

اس واقعہ کے بعد سیدہ کی حضرت ابوبکر صدیقؓ ملاقات بھی ثابت ہے۔

اس کے علاوہ شیعہ کتب سے یہ بھی ثابت ہے کہ سیدہ کی بیماری اور وفات کا حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دوسرے جلیل القدر صحابہ کو معلوم تھا۔

مزید پڑھیں۔

 

اس کے علاوہ رافضی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ فدک ہبہ ہوا تھا اور پھر سیدنا علیؓ کی شہادت کا افسانہ بھی سناتے ہیں۔



صفحہ 2 از 2