Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمرؓ نے نبیؑ کی نبوت میں شک کیا۔ (معالم التنزیل، درمنثور، تاریخ الخميس )

  زینب بخاری

 حضرت عمرؓ نے نبیؑ کی نبوت میں شک کیا۔ (معالم التنزیل، درمنثور، تاریخ الخميس ) 

(الجواب اہلسنّت) 

1:صلح حدیبیہ کے موقع پر جو صبر آزما احوال پیش آئے اور جس طرح مسلمان ہو کر آنے والے ابو جندل اور ابو بصیرؓ کی حالت زار کو صحابہ کرامؓ نے سینے پر پتھر رکھ کر برداشت کیا یہ ان کا ہی جگرا تھا اس موقع پر دیگر صحابہ کرامؓ کی طرح حضرت عمرؓ بھی شدید پریشانی اور اضطراب میں مبتلا تھے صلح حدیبیہ میں صحابہ کرامؓ کا اضطراب اور یہاں کے پیش آنے والے احوال کو دیگر محدثین کی طرح امام مسلم ؒ عنہ اور امام بخاری ؒ نے بھی نقل فرمایا ہے۔ 

2:مذکورہ تینوں کتابوں میں جس جملہ کو نشانہ بنا کر تحقیقی دستاویز والوں نے الزام دھرا ہے وہ ہے۔ و الله ما شككت منذ أسلمت الايومئذ یعنی حضرت عمرؓ فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم مجھے اسلام لانے کے بعد آج سے پہلے کبھی شک نہیں ہوا مگر آج کے دن ۔ مگر یہ الفاظ کسی صحیح روایت میں موجود نہیں بخاری ومسلم میں ان الفاظ کا کسی روایت کے اندر ذکر نہیں پایا جاتا۔ 

3: ان الفاظ کا بنیادی ماخذ ابن جریر طبری متوفی 310 ہے جس نے سورۃ فتح کی تفسیر میں یہ روایت با سند ذکر کی ہے، جس میں ایک راوی ابن شہاب الزہری ہے اور راوی جب روایت ذکر کرتا ہے تو قال الزهري قال الزهری کا جملہ متعدد بار دہرایا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ الفاظ (والله ما شككت الخ) زہری کی طرف سے درج شدہ ہیں یعنی یہ الفاظ اصل روایت میں بالکل نہیں بلکہ زہری نے یہ الفاظ اپنی طرف سے اضافی داخل کر دیئے ہیں اور یہ ادراج کا کارنامہ زہری کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ مطالبہ فدک والی روایت میں ، قال الزھری “فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت” کا ادراج بھی ان سے واقع ہو چکا ہے جس کی تفصیل محقق العصر حضرت مولانا محمد نافع ؒ نے رحم بینهم حصہ صدیقی بحث فدک میں صفحہ 125 تا 137 پر ذکر فرمائی ہے۔ لہذا اس فدک والے ادراج کی طرح یہاں بھی زہری نے یہ متنازعہ الفاظ اضافہ کر دیے ہیں اصل روایت میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں بعد کے مفسرین نے جو یہ الفاظ نقل کئے ہیں یہ اسی ابن جریر الطبری سے حاصل کیے ہوئے ہیں۔ 

4: حافظ علامہ ابن کثیر ؒ نے اپنی تفسیر میں کافی ساری روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔ عبد الرزاق نے معمر سے اور معمر نے الزہری سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں بہت ساری چیزیں دوسروں سے مختلف ذکر کی ہیں ۔ اور یہ بہت ہی زیادہ غریب ہیں اور معروف روایات کے خلاف ہیں۔ 

(تفسیر ابن کثیر صفحہ 197 جلد 4 پارہ26 سورة فتح ) 

 “اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ یہ الفاظ کسی قابل اعتماد روایت کے نہیں ہیں” 

5: "باقی رہا حضرت فاروق اعظمؓ کا حدیبیہ کے موقعہ پر اضطراب اور پریشانی جس کا اظہار انہوں نے مختلف الفاظ میں صدیق اکبرؓ وغیرہ کے سامنے کیا تو یہ ان کے کمال ایمان کی دلیل ہے" کہ اہل اسلام اور کفار مکہ کے درمیان مصالحت و معاہدہ ایسی شرائط پر ہوا تھا جس میں بظاہر اہل اسلام مغلوب اور کفار غالب تھے یہ شرائط ان کے حق میں بظاہر بہت مفید تھیں اسی مغلوبانہ شرائط کو دیکھ کر حضرت عمرؓ کو ملی غیرت اور دینی حمیت کی بنا پر پریشانی لاحق ہوئی جو ایک فطری عمل تھا لیکن حضرت عمرؓ  کو اسلام یا نبوت و رسالت میں ہرگز کوئی شک نہیں ہوا تھا جس کو وضاحت سے شارحین حدیث نے بیان فرمایا ہے، ملاحظہ ہو۔ 

(فتح الباری شرح بخاری صفحہ 265 باب الشروط فی الجهاد والمصالحت مع اہل الحرب) 

6:حضرت عمرؓ کو اضطراب اور دکھ ضرور تھا مگر آپﷺ کی نبوت میں شک  ہرگز نہیں تھا حضرت مولانا محمد نافع ؒ فوائد نافع میں فرماتے ہیں، اضطراب کی حالت میں حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاں تشریف لائے اور اپنی پریشانی کا اظہار فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا انی اشهد انه رسول الله یہ سن کر حضرت عمرؓ (نے بھی جواب میں یہ الفاظ دہرائے انى اشهد انه رسول الله

(فوائد نافع حصہ اول صفحہ 202)

 "حضرت عمرؓ کا رسول اللہﷺ کی نبوت و رسالت کی گواہی دینا اور اقرار کرنا باوجود اپنی حد درجہ کی اس پریشانی کے"۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ پریشان ضرور تھے کہ ملت اسلامیہ کی عزت و وقار کا خیال پیش نظر تھا مگر اس کا وہ مطلب نہیں جو ابن شہاب زہری نے پھیلا دیا بلکہ یہ قومی وقار کی بنا پر پریشان تھے کہ ہم یوں دب کر صلح کر رہے ہیں جبکہ حقیقی صورت حال کا علم رسول اللہﷺ کو تھا کہ بظاہر اگرچہ اس صلح میں ان کفار مکہ کا فائدہ ہے مگر اس صلح کی تہہ میں مسلمانوں کی فتح کا راز پنہاں ہے۔ نیز اگر شک کا لفظ بھی ہوتو یہ وسوسہ کے درجہ میں ہوگا کہ وسوسہ آیا مگر فوراً رفع ہوگیا اور وسوسہ پر پکڑ ہی نہیں۔