مانوس الفاظ کا استعمال اور بھاری بھر کم کلمات نیز تعقید سے کلام کا پاک ہونا
علی محمد الصلابیبیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ زہیر کو دیگر شعراء پر ترجیح دیتے اور اس کے شعر کی تحسین کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ اس کے کلام میں پیچیدگی نہیں ہوتی، اور نامانوس الفاظ کی تلاش میں نہیں رہتا، نیز کسی آدمی کی بے جا تعریف نہیں کرتا۔
( المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 102 )
معاظلہ: یعنی کلام کو مشکل اور پیچیدہ بنانا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے میں خلط ملط ہو جائے اور کلام زائد اور مشکل و غریب بن جائے۔
(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 102)
آپ کے متعلق مذکورہ اثر ان شعری اصولوں کی وضاحت کرتا ہے جنہیں اسلام پسند کرتا ہے، یعنی اسلام ان اشعار کی قدر کرتا ہے جن کے معانی واضح ہوں، چھوٹے چھوٹے جملے ہوں اور مبالغہ آمیزی سے ہٹ کر صرف سچائی کے ترجمان ہوں، اس لیے کہ شعر کا موضوع کوئی ایک واقعہ ہوتا ہے لیکن مخاطب سارے لوگ ہوتے ہیں، پس ضروری ہے کہ ان میں فصاحت کے ساتھ وضاحت بھی ہو۔
(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 102)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ علمائے بلاغت جنہوں نے بعد کے ادوار میں اس کے اصول و قواعد کو منظم و مدون کیا وہ سب لوگ مفردات، جملوں اور کلام کی فصاحت و بلاغت کے مباحث میں عمر رضی اللہ عنہ کے بتائے ہوئے اصولوں سے باہر نہ جا سکے، سوائے اس کے کہ کچھ لوگوں کو تصنیف کتاب کے دوران کسی خاص منہج، تبویب اور تنظیم کی ضرورت پیش آئی ہو۔
(عمر بن خطاب دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 250)