خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت - ردِ…

خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 4

مگر شیعہ حضرات کی ہمیشہ یہی چال رہی ہے کہ یہ بیعت جبری تھی لہٰذا اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اس جبری بیعت کے متعلق عرض یہ ہے کہ یہ شیعہ کی خانہ ساز روایات ہیں۔ اگر سیدنا علیؓ پر جبر کیا تھا، تو سعد ابنِ عبادہؓ پر بھی کرتے مگر ان سے جبراً کسی نے بیعت نہیں کروائی۔ اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ سیدنا علیؓ پر جبر ہوا تھا تو بھی خلافتِ صدیقی کی حقانیت کی دلیل ہوگی جیسا کہ فرمانِ الٰہی سے ظاہر ہوتا ہے

وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا

ترجمہ: اور وہ اللہ ہی ہے جس کو آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات سجدہ کرتی ہیں، کچھ خوشی سے، کچھ مجبوری سے"

اللہ تعالیٰ اپنے معبود الٰہ ہونے پر سجدۂ مخلوق کو گواہ بنا رہے ہیں کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں میرے سامنے سجدہ کر رہی ہیں، خواہ خوشی سے یا عدم خوشی کی حالت میں۔

عین اسی طریقے پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت ہے، جس طرح اکراہی سجدہ سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں کوئی فرق نہیں آتا، اسی طریقہ سے اکراہی بیعت سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اگر مجبوری سجدہ سے خدا کا معبود ہونا برحق ہے تو صدیقؓ کا خلیفہ ہونا بھی برحق ہے۔ جب تمام مخلوق خدا پر متفق نہ ہوئی، رسولوں پر نہ ہوئی، صدیقؓ پر نہ ہو تو ان کا کیا نقصان، مگر یہ تمام افسانے ہیں حقیقت نہیں ہے، اصل حقیقت یہ ہے کہ کتابوں میں بیعت علیؓ بر دستِ صدیقؓ کے متعلق دو قسم کی روایتیں دستیاب ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ سیدنا علیؓ نے چھ ماہ کے بعد بیعت فرمائی اور دوسرے یہ کہ فوراً بیعت کر لی۔

آپ رحمۃاللہ نے فرمایا: دیکھو یہ میرے ہاتھ میں فتح الباری: جلد 7، صفحہ 495 ہے۔ اس سے پڑھتا ہوں۔ فرماتے ہیں:

وَقَدْ صَحَّحَ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَغَيْرِهِ أَنَّ عَلِيًّا بَايَعَ أَبَا بَكْرٍ فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ

ترجمہ: ابنِ حبان وغیرہ نے ابو سعید خدریؓ کی حدیث کی تصحیح فرمائی ہے کہ تحقیق سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت اول امر میں کی تھی۔

اور اسی طرح استیعاب ابن عبد البر میں ہے:

عن قيسِ بن عُبادٍ، قال: قال لي عليُّ بن أبي طالبٍ: إنَّ رسولَ اللهِ ﷺ مرِض لياليَ وأيَّامًا يُنادِي بالصَّلاةِ فيقولُ: "مُروا أبا بكرٍ يُصَلِّي بالنَّاسِ" ،فلمَّا قُبِض رسولُ اللَّهِ ﷺ نَظَرتُ فإذا الصَّلاةُ عَلَمُ الإسلامِ، وقِوامُ الدِّينِ، فَرَضِينا لدُّنيانا مَن رَضِيَ رسولُ اللهِ ﷺ لدينِنا، فبايَعْنا أبا بكرٍ

(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 215)

ترجمہ:  قیس ابن عبادؓ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے ہم سے بیان  کیا کہ رسولِ خداﷺ چند دن راتیں بیمار ہوئے۔ نماز کے لئے بلایا جاتا تھا پس فرماتے تھے (حضورﷺ) ابوبکر صدیقؓ کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے پس جب رسول خداﷺ نے دارِ فانی کو ترک فرمایا تو میں نے دیکھا کہ نماز ایک نشانِ دین ہے پس ہم نے ابوبکرؓ کو اپنے دنیاوی کاموں کے لئے مقرر کر لیا جس کو رسولِ خداﷺ نے دین کے لئے مقرر فرمایا تھا۔ پس ہم نے سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

اور اول الامر میں سیدنا علیؓ کا سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنا مرفوع و صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ جیسا کہ بیہقی جلد 16 صفحہ 512 پر موجود ہے:

فلَمّا قَعَدَ أبو بكرٍرضي الله عنه على المِنبَرِ نَظَرَ في وُجوه القَوم، فلَم يَرَ عَليًّا رضي الله عنه، فسألَ عنه فقامَ ناسٌ مِنَ الأنصارِ فأتَوا به، فقالَ أبوبكرٍ رضي الله عنه ابنَ عَمِّ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وخَتَنَه، أرَدتَ أن تَشُقَّ عَصا المُسلِمينَ؟ فقالَ: لا تَثريبَ يا خَليفَةَ رسولِ اللهِ فبايَعَه، ثُمَّ لَم يَرَ الزُّبَيرَ بنَ العَوّامِ رضي الله عنه فسألَ عنه حَتَّى جاءوا به، فقالَ: ابنَ عَمَّةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وحَواريَّه، أرَدتَ أن تَشُقَّ عَصا المُسلِمينَ؟ فقالَ مِثلَ قَولِه: لا تَثريبَ يا خَليفَةَ رسولِ اللهِ فبايَعاه

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ نے منبر پر چڑھ کر قوم کی طرف نگاہ دوڑائی تو سیدنا علیؓ ابنِ ابی طالب کو نہ پایا تو ان کے بارے میں پوچھا تو انصار میں سے کچھ لوگ کھڑے ہو کر آپؓ کو لے آئے۔حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا اے رسولﷺ کے عم زاد بھائی اور داماد کیا آپؓ مسلمانوں کی جماعت کو  ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ پس سیدنا علیؓ نے فرمایا اے خلیفۂ رسولِ خداﷺ مجھ پر عتاب نہ کریں پس بیعت کر لی۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ نے قوم کے چہروں پر نظر ڈالی تو حضرت زبیرؓ کو نہ پایا، پھر حضرت زبیرؓ کو بلوایا اور فرمایا کہ اے رسولِ خداﷺ کے عم زاد بھائی(چچا زاد) اور حواری! آپ مسلمانوں کی جماعت میں افتراق پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ حضرت زبیرؓ نے جواب دیا، اے خلیفۂ رسولِ خداﷺ مجھ پر عتاب نہ فرمائیں اور کھڑے ہو گئے اور بیعت کر لی۔

یہ بیہقی کی روایت البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد 5 صفحہ 350 پر بھی موجود اور تاریخ ابوالفداء میں بھی موجود ہے اور ابن کثیرؒ نے البدایہ والنہایہ میں فرمایا:

قال الحافظ ابوبكرؒ البيهقى سند جید 

یعنی حافظ ابو بکر بیہقیؒ نے سیدنا علیؓ اور زبیرؓ کی بیعت کو مجمع عام میں پہلے روز ہونا جو بیان کیا ہے تو اسکی سند بالکل صحیح ہے اور بڑی عالی شان ہے۔

اسی روایت کو حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں صحیح فرمایا ہے اور البدایہ والنہایہ: جلد 7، صفحہ 06 پر تحریر فرماتے ہیں:

وقد اتَّفقَ الصَّحابةُ رضی اللّٰہ عنہم على بيعة الصّدّيق في ذلك الوقت، حتى عليّ بن أبي طالب والزُّبير بن العَوّام رضی ﷲ عنہما، والدليل على ذلك ما رواه البيهقيُّ

ترجمہ:  تمام صحابہ کرامؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت پر متفق ہو گئے۔ یہاں تک کہ سیدنا علیؓ ابن ابی طالب اور حضرت زبیرؓ نے بھی بیعت کر لی اور اس بیعت پر واضح دلیل وہ حدیث ہے جس کو بیہقی نے روایت کیا ہے۔

اور یہی علامہ ابن کثیرؒ "البدایہ والنہایہ" کے جلد 7، صفحہ 07 پر یوں فرماتے ہیں:

وأخرجه الحاكمُ في "مستدركِه" من طريقِ عفانَ بن مسلم، عن وهيب مطوَّلًا كنحو ما تقدَّم

صفحہ 2 از 4