خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت - ردِ…

خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 4

و روينا من طريق المَحَاملي، عن القاسمِ بن سعيد بن المُسيّب، عن علي بن عاصم، عن الجُرَيْري، عن أبي نَضْرَة، عن أبي سعيدٍ فَذَكره مثلَه في مبايعةِ علي والزبير رضی ﷲ عنہما يومئذٍ

وقال موسى بن عقبة في "مغازيه" عن سعد بن إبراهيم: حدَّثني أبي أن أباه عبد الرحمن بنَ عوفٍ كانَ معَ عمرَ وأنَّ محمَّد بنَ مَسْلمة كسر سيفَ الزُّبير، ثم خطب أبو بكر واعتذر إلى النَّاس وقال: واللهِ ما كنتُ حريصًا على الإمارةِ يومًا ولا ليلةً، ولا سألتُها اللهَ في سِرٍّ ولا علانيةٍ، فقَبِلَ المهاجرونَ مقالتَه، وقال عليٌّ والزبيرُ: ما [غصَبنا] إلا لأنَّنا أُخِّرْنا عن المشورة، وإنا نرى أبا بكرٍ أحقَّ النّاسِ بها، إنَّه لصاحبُ الغارِ، وإنَّا لنعرفُ شرفَه وخَيْره ولقد أمَرَه رسولُ الله ﷺ بالصلاةِ بالنّاسِ وهو حيٌّ

ترجمہ:  اور حاکم نے اپنی مستدرک میں عفان ابن مسلم سے، اور انہوں نے وہیب سے مفصل طور پر ایسے ہی روایت کی ہے، جیسے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اور ہمیں بھی محاملی عن القاسم، ابنِ سعید، ابنِ مسیب عن علی ابنِ عاصم عن جریری، عن ابی نضرہ کے طریق سے یہ روایت ملی ہے۔ انھوں نے بھی حضرت علیؓ اور زبیرؓ کے متعلق تصریح کی ہے کہ حضرت علیؓ و حضرت زبیرؓ نے پہلے دن ہی بیعت کر لی تھی۔ اور موسیٰ ابنِ عقبہ نے اپنی مغازی میں سعد ابنِ ابراہیم سے روایت کی ہے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ میرے والد عبدالرحمٰن بن عوفؓ حضرت عمرؓ کے ساتھ تھے، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ دیا اور لوگوں سے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا: خدا کی قسم میں شب و روز میں کسی وقت بھی امارت و خلافت کا طلبگار نہ تھا اور نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ سے کبھی ظاہر اور پوشیدہ تمنا کی تھی۔

پس مہاجرین نے حضرت ابوبکرؓ کی اس تقریر کو تسلیم کر لیا اور حضرت علیؓ و حضرت زبیرؓ نے فرمایا کہ ہمیں صرف یہی اعتراض ہے کہ ہم مشورہ سے رہ گئے ورنہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ روئے زمین کے لوگوں سے زیادہ حقدارِ خلافت ہیں اور وہ تو رسولِ خداﷺ کے صاحبِ غار ہیں اور ہم ان کے شرف اور خیر کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ مزید برآں حضورﷺ نے اپنی زندگی اقدس میں ابوبکر صدیقؓ کو نماز کے لئے لوگوں کا امام بنایا۔

حضرات اس روایت سے تقریباً 9 امور ظاہر ہو رہے ہیں جو نہایت قیمتی اور عالی شان ہیں:

1: حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ نے ابوبکر صدیقؓ کے دستِ حق پرست پر روزِ اول بیعت کر لی تھی۔

2: جمیع صحابہ کرامؓ ابوبکر صدیقؓ کی بیعت پر متفق تھے اور حضرت علیؓ اور زبیرؓ نے بھی مجمع عام میں بیعت فرمائی تھی۔

3: حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلافت کا خیال ہی کبھی نہیں آیا۔ شیعہ حضرات کا یہ بہتان عظیم ہے کہ حضرت ابوبکرؓ تو مسلمان ہی خلافت کے لئے ہوا تھا اور جبراً لے لی۔

4: یہ حدیث خبرِ واحد نہیں ہے بلکہ سب نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

5: سیدنا علیؓ نے سیدنا صدیقؓ پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ فرمایا صرف مشورہ کا سوال پیدا ہوا۔

6: حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت زبیرؓ کی نظر میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ سب سے زیادہ خلافت کے حقدار تھے۔

7: سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو رسولِ خداﷺ نے اپنی زندگی میں لوگوں کے لئے نماز کا امام بنایا تھا۔

8: سیدنا علیؓ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت پر آیتِ غار سے استدلال فرمایا اور آپ کو یارِ غار اور صاحبِ رسولﷺ کے محبوب لقب سے ملقب فرمایا۔

9: سیدنا علیؓ نے بھی اس امامتِ نماز سے آپ کی خلافت پر استدلال کیا کہ حضورﷺ نے خود ان کو امام اور خلیفہ بنایا تھا۔ اور اگر اس کے ساتھ ہی استیعاب کی روایت کو ملا لیاجائے تو فرمانِ سیدنا علیؓ واضح ہو جائے گا کہ نماز دین کا کام تھا۔ اس پر جب رسولِ خداﷺ صدیقؓ کی امامت پر راضی تھے تو ہم دنیاوی خلافت پر کیوں راضی نہ ہوں۔

حضرت فاتحِ اعظمؒ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوے فرمایا: کہ یہاں تجدیدِ بیعت کے متعلق کچھ عرض کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا۔ کتابوں میں تجدیدِ بیعت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسے عظیم الشان مؤرخ حافظ ابن کثیرؒ نے البدایہ والنہایہ کے صفحہ 305 پر تحریر فرمایا ہے:

رای علیؓ بعد وفات سیدہ  فاطمةؓ ان يجدد البيعة مع ابي بكر كما متذکرہ فيما بعد ان شاء الله تعالیٰ ما تقوم له من البيعته قبل دفن رسول اللہﷺ

ترجمہ: سیدنا علیؓ نے دیکھا کہ وہ حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تجدید کرے جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے اور اس بیعت کا ذکر بھی کریں گے جو آنحضورﷺ کے دفن سے پہلے وقوع پذیر ہوئی تھی۔

پھر ابن کثیرؒ نے کتاب مذکورہ بالا کے صفحہ 07 پر فرمایا ہے:(صرف ترجمہ ملاحظہ ہو)

اور سیدنا علیؓ کی شان کے لائق بھی یہی ہے اور وہ روایات بھی یہی ثابت کرتی ہیں جن سے سیدنا علیؓ کا سیدنا صدیقؓ کے ساتھ نماز پڑھنا، اور واقعہ ذی القصہ کی طرف اکٹھا ہو کر نکلنا جیسا کے ہم آگے جا کر بیان کریں گے اور مجلس میں حاضر ہو کر مشورہ دینا اور کاموں میں نصیحت کرنا ثابت ہوتا ہے۔ باقی جو بعض احادیث میں وارد ہوا ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت بعد وفاتِ حضرت فاطمہؓ کی تھی اور حضرت فاطمہؓ کی وفات اپنے والد بزرگوار کے چھ ماہ بعد ہوئی۔ یہ دوسری بیعت کا ذکر ہے پہلی بیعت کا ذکر نہیں ہے۔

حضرات اس روایت سے بھی چند امور ظاہر ہو رہے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر دو دفعہ بیعت کی تھی۔ بخاری و مسلم کی روایتوں سے بیعت ثانی ثابت ہوتی ہے لیکن بیعتِ اول کا انکار ان میں نہیں ہے اور اہلِ سنت ثانی بیعت کے قائل ہیں۔

لہٰذا بیعتِ ثانی کو بخاری و مسلم نے بیان کر دیا اور بیعتِ اول کو باقی محدثین کرام نے بیان فرما دیا۔ تو اہلِ سنت دو بیعتوں کے قائل ہیں جو سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر کی تھیں۔ پہلی بیعت فوراً کر لی تھی اور دوسری بیعت چھ ماہ کے بعد فرمائی تھی۔

اسی کتاب البدایہ والنہایہ کے جلد 5 صفحہ 407 پر مرقوم ہے۔

صفحہ 3 از 4