Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کلام کا واضح اور عام فہم ہونا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس خط لکھا کہ میں جو کچھ لکھنا چاہتا تھا اسے لکھنے سے اس لیے رک گیا کہ تمہاری تحریر کو میں پڑھ نہیں پایا، اور تمہارے دشمن کی پوزیشن نہ سمجھ سکا۔ اس لیے تم مسلمانوں کے ٹھکانوں اور تمہارے اور مدائن کے درمیان جو شہر ہے ان کا اپنی تحریر میں ایسا نقشہ کھینچو کہ گویا میں اس منظر کو دیکھ رہا ہوں، اور اپنے معاملہ کو مجھے بالکل واضح الفاظ میں بتاؤ۔ 

(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 414)

آپ کے خط کا آخری جملہ ’’اپنے معاملہ کو مجھے بالکل واضح الفاظ میں بتاؤ ‘‘ واضح کرتا ہے کہ آپؓ کلام کی وضاحت اور اس کے عام فہم ہونے کو ترجیح دیتے تھے، اسی طرح مذکورہ جملہ یہ تصور بھی دیتا ہے کہ آپؓ کلام میں وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کی سچائی کے بھی طالب تھے اور یہ بہت دقیق معیار تنقید ہے۔

اسی طرح آپ نے تمام قاضیوں کے پاس خط لکھ کر قسم دلائی کہ مسائل قضاء کو سمجھنے کے لیے تعبیر و بیان میں واضح الفاظ استعمال کریں۔ آپ نے کہا:

’’جو کلام تمہارے دل میں کھٹکے اسے خوب خوب سمجھو۔‘‘

اور کسی ایک خاص چیز سے متعلق آپؓ نے خطبہ دینے کا ارادہ کیا تو کہا: ’’مجھے ایک بات بتائی گئی جو مجھے پسند آئی۔‘‘

بہرحال حضرت عمرؓ کی نگاہ میں کلمہ، افہام و تفہیم کا ایک ذریعہ اور رہنمائی و توضیح کا ایک آلہ تھا، نہ کہ کسی پر فرضی علمی رعب جمانے اور گمراہ کرنے کا راستہ۔ اسی لیے آپ نے ایسے کلام کو قطعاً ناپسند کیا جس میں بناوٹی بلاغت اور تکلفات و مبالغہ آمیزی ہو۔ 

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 251)

معانی کے حساب سے الفاظ ہوں:

اس سلسلہ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کلام میں مقابلہ کرنے سے بچو۔ 

(سنن دارمی: جلد 1 صفحہ 9، بحوالۂ عمر بن الخطاب، دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 252)

امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کلام میں مقابلہ کا مطلب یہ ہے کہ مقصد و مراد سے زیادہ الفاظ استعمال نہ کرو، گویا حضرت عمرؓ بےجا و فضول کلمات استعمال کرنے سے دور رہنا چاہتے تھے، کیونکہ اس سے اصل مضمون کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، اور اس میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے نیز ایسی صورت میں کلام میں تکرار لازم آتا ہے، مزید برآں اس سے مضمون کلام کی شان اور اس کی خوب صورتی چھن جاتی ہے۔ 

(عمر بن الخطاب، دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 252)

آپ نے فرمایا: کلام کا حقیقی رشتہ زبان کے رشتوں سے مربوط ہے، تو جہاں تک ہو سکے کم سے کم باتیں بولو۔ 

(نہج البلاغۃ: ابن أبی الحدید: جلد 3 صفحہ 112)