کیا سیدنا عمرؓ قبولِ اسلام کے بعد گھر میں ڈر کر بیٹھ گئے تھے؟
مولانا ریاض جھنگویکیا سیدنا عمرؓ قبولِ اسلام کے بعد گھر میں ڈر کر بیٹھ گئے تھے؟
سوشل میڈیا پر ایک روایت کو شیعہ اور نیم شیعہ بہت زیادہ پھیلا کر سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کی بہادری کا واقعہ غلط ہے، سیدنا عمرؓ تو ڈر کر گھر بیٹھ گئے تھے۔ آئیے اس روایت کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک باب قائم فرمایا جس کا عنوان ہے
،،باب اسلام عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ ،،
اس باب میں پہلی روایت تو سیدنا عبد اللّٰه ابنِ مسعود رضی اللّٰه عنہما کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کے اسلام لانے کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو عزت حاصل ہو گئی اور جس طرح پہلے کی صورتحال تھی کہ مسلمان ڈر ڈر کر رہتے تھے، اب وہ کیفیت سیدنا عمرؓ کے اسلام لانے کی وجہ سے ختم ہوگئی۔
٫٫مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ،،
(صحیح بخاری/روایت نمبر: 3863)
دوسری روایت یہی ہے جو نقل ہوئی ہے (جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے)
یہاں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ یہ روایت سند کے لحاظ سے مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہے۔
دوسری یہ کہ اس روایت میں ایسا کوئی ذکر موجود نہیں ہے کہ یہ واقعہ اسلام لانے کے فوری بعد کا ہے اور اسلام قبول کرتے ہی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ کیفیت تھی ۔
چونکہ یہاں پر اس طرح کی کوئی تصریح(وضاحت) نہیں ہے تو عام طور پہ بندہ یہی سمجھ لیتا ہے اور تاثر بھی یہی دیا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اسلام لانے کے بعد سے ہی گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے حالانکہ امرِ واقعہ اس کے سرا سر خلاف ہے۔
حقیقت حال یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو حرم میں تشریف لائے، بیت اللّٰه میں نماز پڑھی گئی اور واضح اعلان ہوا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ پس یہ اس موقع کی بات نہیں بلکہ بعد کی بات ہے۔
تیسری گزارش یہ ہے کہ یہ روایت ایک خاص موقعہ سے تعلق رکھتی ہے وہ واقعہ یہ ہے کہ بنو سھم قبیلہ کے لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام قبول کرنے پر غضبناک ہو کر ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔
اب اس حملے کو روکنے کی دو صورتیں تھیں: ایک صورت یہ تھی کہ لڑائی لڑی جائے،اور دوسری صورت یہ تھی کہ لڑائی کی بجائے گھر میں پناہ لی جائے۔
جہاں تک بات لڑائی کی ہے تو اسلام کے اس زمانے میں جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا بلکہ مسلمانوں کو اس وقت صبر کرنے کا حکم تھا یہی وجہ ہے کہ اس وقت مکہ مکرّمہ میں رہنے والے جتنے مسلمان تھے جیسے حضرت بلال رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ وغیرہ ان کا ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا کہ مظالم کے جواب میں لڑائی شروع کردی ہو ۔پس یہاں پر بھی چونکہ حملہ آور بنی سہم کا قبیلہ تھا لہٰذا ایک صورت یہ تھی کہ اپنے دفاع میں گھر کے اندر پناہ لی جائے۔۔۔ اور دوسری صورت یہ تھی کہ ان لڑنے والوں کے جواب میں لڑائی لڑی جائے،
اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں دوسری صورت پر عمل ممکن نہیں تھا اس لئے کہ اس وقت تک اجازت نہیں تھی، تو اب وہی دوسری صورت بچتی تھی۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ نے اسی کو اختیار کیا اور گھر میں تشریف لائے پھر اس کے بعد عاص بن وائل آیا اور وہی سوال وجواب ہوا جس کا ذکر روایت میں موجود ہے (صحیح بخاری:روایت نمبر 3864)
اب اگر کوئی اس بنیاد پر اعتراض کرتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں پناہ گزیں کیوں ہوئے تواسے چاہیئے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کی زندگی کو بھی ملاحظہ کرے۔قران کریم کی معتبر تفاسیر میں سورۃ النساء آیت 157 کے تحت موجود ہے کہ جب ان کے اوپر حملہ ہوا اور قتل کرنے کے ارادے سے گھیرا ڈال لیا گیا تب حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام اپنے حواریوں سمیت ایک مکان میں محصور ہو گئے تھے۔
لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام جو پیغمبر ہیں، ان کا گھر میں اپنے جان کے تحفظ کے لئے چھپ جانا نہ عیب ہے نہ طعن ہے اور نہ ہی ان کی شان کے خلاف ہے
پس جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے حملہ آوروں سے محفوظ رہنے کیلئے گھر میں پناہ گزین ہو جانا عیب، طعن اور شانِ نبوت کے خلاف نہیں اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حملہ آوروں سے محفوظ رہنے کیلئے گھر میں پناہ گزیں ہو جانا عیب، طعن یا شانِ صحابیت کے خلاف نہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جہاد کا حکم نہیں تھا لہٰذا وہ حملے کے وقت محفوظ ٹھکانہ حاصل کرنے کے لئے ایک مکان میں تشریف لے گئے۔۔۔۔ اسی طرح یہاں پر بھی سیدنا عمرؓ کو حملہ کرنے والوں کے جواب میں لڑائی کی اجازت اور لڑائی کا حکم نہیں تھا چنانچہ آپؓ حفاظت کے طور پر گھر میں تشریف لے گئے۔