Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لفظ کا حسن و جمال مناسب مقام پر استعمال کرنے میں پنہاں ہے

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کسی لفظ کو غیر مناسب مقام پر استعمال کرنے سے نفرت کرتے تھے، اس لیے کہ وہ معنیٰ کو معیوب اور داغ دار بنا دیتا ہے، اور کلام کی رونق و رعنائی ختم ہو جاتی ہے، چنانچہ اسی سلسلے میں آپؓ نے سحیم عبد بنی حسحاس کے ایک شعر پر گرفت کی، وہ شعر تھا:

عمیرۃ ودع أن تجہزت غادیًا

کفی الشیب والإسلام للمرء ناہیا

’’سفید بال بڑھاپا اور اسلام انسان کو برائی سے روکنے کے لیے کافی ہے۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ شعر سنا تو کہا کہ اگر ’’اسلام‘‘ کو ’’شیب‘‘ سے پہلے ذکر کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔

آپؓ کی یہ گرفت ایمان کے صیقل کیے ہوئے اس شعری ذوق پر مبنی تھی کہ مومن کے دل میں ایمان بڑھاپے سے پہلے اور بعد، دونوں حالتوں میں زیادہ مؤثر ہے، اور اس کی اہمیت و تاثیر کے پیش نظر اس شعری نص میں اسے ’’شیب‘‘ سے پہلے ذکر کرنا مناسب ہے، اور شعر اسی خوبی سے خالی ہے۔ (المدینۃ النبویۃ: شُرّاب: جلد 2 صفحہ 102، عمر بن الخطاب: أبو النصر: صفحہ 253)