افتراء: طلحہ بن عبید ارفہؓ نے ام المومنین سیدہ عائشہؓ سے شادی کی خواہش کی۔
مولانا ابو الحسنین ہزارویافتراء: طلحہ بن عبید ارفہؓ نے ام المومنین سیدہ عائشہؓ سے شادی کی خواہش کی۔
(در منشور، امام رازی کی تفسیر کبیر، فتح القدیر جلد 4, تفسیر مظہری اور علامہ بغوی کی تفسیر معالم التنزیل)
الجواب
1- مفسرین نے یہ واقعہ:
وما كان لكم ان توء ذوا رسول الله ولا ان تنكحوا أزواجه من بعده ابدا إن ذالك كان عند الله عظيماً (الاحزاب)
ترجمہ: تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ آپﷺ کے بعد اُن کی بیویوں سے نکاح کرو بے شک یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہے۔
کے تحت درج کیا ہے اکثر مقامات تو ایسے ہیں کہ وہ شخص جس نے نکاح کا یہ جملہ بولا تھا اس کا نام ذکر نہیں کیا گیا کہیں کہیں حضرت طلحہ بن عبید اللّٰہؓ کی طرف اس واقعہ کی نسبت کی گئی ہے ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ روایت سند کے اعتبار سے مجروح ہے، تفسیر مظہری فتح القدیر وغیرہ کتابوں کے عکس دے کر جو روایت نقل کی ہے اس میں سدی نام کا راوی ہے۔ اس کا پورا نام محمد بن مروان بن عبد اللہ سدی اصغر کوفی ہے۔ امام بخاریؒ نے فرمایا لوگ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ ابن معین ان کو ثقہ نہیں مانتے۔ ابن نمیر کہتے ہیں لاشی ہے۔
امام احمد ابن حنبلؒ کہتے ہیں کہ میں نے اس بڈھے کو چھوڑ دیا۔ اسی طرح دیگر اہل علم کے اقوال منقول ہیں جو سدی کو ذاہب الحدیث مہتم بالکذب- ضعیف، متروک الحدیث اور بعض اسے کذاب قرار دیتے ہیں۔ تفصیل تہذیب التہذیب جلد 5 صفحہ 972 پر ملاحظہ فرمائی جائے نیز تقریب التہذیب جلد 2 صفحہ 155 پر بھی سدی کو جھوٹا ہونے میں معروف بتلایا گیا ہے۔
2- یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ ابھی تک اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ کہ ولا ان تنکحوا ازواجه من بعده ابدا نازل نہ ہوا تھا اور جس کام کی حرمت ابھی نازل ہی نہیں ہوئی اس کام پر الزام دینا کسی طرح درست نہیں، یہ تو ایسا ہی ہے جیسے تحویل قبلہ سے قبل کعبہ اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے پر الزام دیا جائے یا فرضیت حج کا حکم نازل ہونے سے قبل ترک حج پر گنہگار قرار دیا جائے۔
ہاں جب قرآنی حکم نازل ہو گیا اس کے بعد کسی بھی شخص کو ایسی بات زبان پر لانے کی جرأت ہرگز نہیں ہوسکی۔ لیکن اس حکم کے نزول سے قبل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے محض قرب رشتہ اور ان کی سمجھ داری و دیانت، امانت، صداقت و شرافت کی بنا پر ایک ایسی بات کہہ دی جو آپﷺ کو ناگوار گزری حالانکہ یہ بات اول تو کرنے سے روکا نہ گیا تھا ثانیاً قائل کے دل میں آپ کی ایذا کا تصور تک نہ گزرا تھا۔ اور غیر اختیاری طور پر ایسا ہو جانا باعث الزام نہیں جبکہ قائل واقعہ مذکورہ کے بعد نادم بھی ہوا۔
3- روافض نے باتعیین اس واقعہ سے حضرت طلحہ بن عبید اللّٰہؓ کا صراحتاً نام ذکر کیا ہے حالانکہ روایات میں اکثر رجلا کا لفظ ہے جس سے اس قول کے قائل کی تعین نہیں ہوتی نیز فتح القدیر میں اس بات سے انکار کیا گیا ہے کہ اس واقعہ کا قائل حضرت طلحہ بن عبید اللّٰہؓ ہیں چنانچہ ابن عطیہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک حضرت طلحہؓ پر یہ الزام لگانا درست نہیں۔ امام قرطبیؒ نے بھی کئی حضرات سے نقل کیا ہے کہ ایسی بات کہنا صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے شایانِ شان نہیں لہٰذا مذکورہ واقعہ کی نسبت حضرت طلحہؓ جو جلیل القدر صحابی ہیں ان کی طرف کرنا درست نہیں۔
4- علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں حضرت طلحہؓ کے بارے میں اڑائی جانے والی اس بات پر کہ رسول اللّٰہﷺ کی رحلت کے بعد میں ام المؤمنینؓ سے نکاح کرلوں گا میں بے حد مضطرب اور پریشان تھا کہ حضرت طلحہؓ جیسا جلیل القدر عشرہ مبشرہ میں شمار کیا جانے والا صحابی بھلا یہ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ حقیقت حال میرے سامنے کھل گئی کہ یہ بات کہنے والا ایک اور طلحہ ہے جو مبشر بالجنہ صحابیؓ کے نام و نسبت میں کافی حد تک مطابقت رکھتا ہے پس وہ طلحہؓ جو مشہور صحابی رسولﷺ اور عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں ان کا نام و نسب یوں ہے: طلحہ بن عبید اللّٰہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم التمیمیؓ اور وہ طلحہ جس کا یہ واقعہ ہے اس کا نام و نسب یوں ہے:
طلحہ بن عبید اللهبن مسافخ بن عياض بن سحر بن عامر بن كعب بن سعد بن تیم التمیمی ابوموسیٰ نے ابن شاہین سے ذیل میں ان (طلحہ) کے ترجمہ میں فرمایا ہے کہ یہ (صاحب قصہ دوسرا طلحہ) وہ شخص ہے جس کے بارے میں وما كان لكم الخ آیت نازل ہوئی تھی۔ ملخصاً (الحادي اللفتاوی جلد 2 صفحہ 117،116 از علامہ سیوطی: مطبوعه فاروقی کتب خانه ملتان)
5- بالفرض یہ بات حضرت طلحہؓ نے ہی کہی ہو تو تفسیر فتح القدیر کا وہی صفحہ جس کا عکس دے کر یک طرفہ ٹریفک چلائی گئی ہے اسی صفحہ پر ان کا توبہ کرنا مذکور ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو فاعتق ذالك الرجل رقبة الخ: کہ اس شخص نے غلام آزاد کیے۔ اور وہ بہت پریشان ہوئے۔ 10 اونٹ (ہر مال سے) بھر کر خیرات کئے پیدل حج کیا تا کہ توبہ قبول ہو جائے۔ اور حدیث پاک کا بتایا ہوا اصول یہ ہے کہ التائب من الذنب كمن لا ذنب لہ توبہ کرنے والا گناہ سے ایسا ہی بَری ہے جیسے گناہ نہ کرنے والا۔ صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کو معصوم قرار دینا اہلِ سنت کا مذہب نہیں بلکہ اہلِ سنت صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کو محفوظ کہتے ہیں کہ غلطی تو ہو جاتی ہے پر اس کا اثر دل پر رہتا نہیں بلکہ فوری معافی تلافی سے اس گناہ کے اثر کو زائل کر دیا جاتا ہے لہٰذا حضرت طلحہؓ سےاِس قصور کا صادر ہونا مان بھی لیا جائے تو توبہ اور معافی سے وہ گناہ باقی نہ رہا پھر الزام کسی چیز پر!
6ـ لیکن ضد کا کیا علاج پھر بھی یار لوگوں کا یہی فرمانا ہو کہ نہیں جی وہ فلاں فلاں تمہاری کتابوں میں یہ واقعہ لکھا ہوا ہے اور یہ ازواج مطہراتؓ کی توہین ہے تو جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ ذرا اس حدیث پاک کے شانِ درود پر بھی نظر ڈالئے جو آپﷺ نے فرمایا الفاطمة بضغة منى الخ: کہ جب سیدنا علیؓ نے بنت ابوجہل سے عقد کا ارادہ فرمایا تھا تو آپﷺ کو کس قدر تکلیف پہنچی تھی؟ اور آپﷺ نے کس تاکید کے ساتھ فرمایا تھا کہ فاطمہؓ میرے جگر کا حصہ ہے جس نے اس کو تکلیف دی اُس نے مجھے تکلیف دی۔ ہم تو عرض کرتے ہیں کہ حیدر کرارؓ نے نکاح کا ارادہ فرمایا تھا مگر جب یہ علم ہوا کہ میرا یہ عمل آپﷺ کیلئے باعث تکلیف ہے تو سیدنا علیؓ باز آگئے اور وہ سبب ایذا ختم ہو گیا لہٰذا جس طرح حضرت علیؓ کے واقعہ مذکورہ میں آپ کا باعث ایذا فعل جاتا رہا تو وہ زمرہ گناہ میں شمار نہ کیا گیا اسی طرح حضرت طلحہؓ کا ارادہ نکاح والا یہ فعل ہے جو اُن کے علم میں نہ تھا لاعلمی اور غلطی سے یہ فعل صادر ہوا جو آپﷺ کی ایذا کا باعث ہوا۔ اور جس وقت وہ صحابی مطلع ہوئے تو فورا بارگاہِ رب العالمین میں معافی کے التجاء گزار ہوئے اور توبہ و استغفار کے علاوہ صدقہ خیرات اور پیدل حج کے ذریعے اس کی تلافی کرنے میں مصروف ہو گئے۔ پس اب جب کہ وہ سبب ایذا ختم ہوا تو اِس پر الزام دینا درست نہیں مگر جو لوگ اِس واقعہ کو ایذا رسولﷺ قرار دے کر الزام عائد کرتے ہیں وہ سیدنا علیؓ کے بنتِ ابوجہل سے ارادہ نکاح پر بھی کچھ جمع تفریق کر لیں۔ جیسے وہ واقعہ شیعہ کتابوں میں مذکورہ ہے مگر باعث ملامت یا اظہار گستاخی نہیں، ایسے ہی یہ واقعہ بھی کتابوں میں مذکور ہے مگر باعث ملامت نہیں۔
7- آپﷺ نے حضرت طلحہؓ کے مذکورہ واقعہ کے بعد کبھی اُن سے ناراضگی کا نہ اظہار فرمایا اور نہ کسی رنج و دکھ کو ظاہر فرمایا بلکہ اُن سے ایسی ایسی دینی خدمت لی جو صرف حضرت طلحہؓ ہی کا حصہ اور نصیبہ ہو سکتا ہے۔ میدانِ احد کا وہ صحابیؓ جس نے تیر پر تیر کھا کر ہاتھ تو چھلنی کروا لیا مگر رحمت عالمﷺ کے وجود اطہر کی طرف دشمن کے کسی تیر کو نہ آنے دیا وہ صحابی حضرت طلحہؓ ہی ہیں۔ یہی حضرت طلحہؓ ہیں جن کی ناراضگی سے اظہار تو دور کی بات لسانِ نبوت نے ایسے ایسے خوبصورت و عظیم الشان ارشادات سے ان کی عزت افزائی فرمائی کہ رہتی دنیا تک وہ عدیم المثال رہیں گی۔
8- وہ صحابہ جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے حضرت طلحہؓ ان میں شامل ہیں آپﷺ نے انہیں کے لئے فرمایا کہ جو زمین پر چلتا پھرتا شہید دیکھنا چاہیں وہ طلحہؓ کو دیکھ لیں( ترمذی) حضرت طلحہؓ نے احد میں 80 سے زیادہ زخم وجود پر ہونے کے باوجود محبوب کریمﷺ کو کندھے پر اٹھا لیا تب آپﷺ نے فرمایا کہ طلحہؓ کیلئے جنت واجب ہوگئی اس طرح کے
کئی ارشادات نبویﷺ حضرت طلحہؓ کیلئے آپﷺ کی مبارک زبان سے جاری ہوئے اس سے بخوبی جانا جا سکتا ہے کہ حضرت طلحہؓ سے آپﷺ کو کس درجہ محبت تھی اور کسی درجہ آپ انکا خیال رکھتے تھے۔