کلام کی بہترین ترتیب و تقسیم
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شعر کی فنی خوبیوں کو دیکھ کر کافی مسرت کا اظہار کرتے تھے، بشرطیکہ وہ فنی خوبیاں طبیعت و مزاج کو موہ رہی ہوں اور پھر اس مسرت کی ترجمانی اس طرح کرتے کہ اسے مزے لے لے کر پڑھتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے عبدہ بن طیب کے قصیدہ کا یہ پہلا مصرع پڑھا:
ہل حبل خولۃ بعد الہجر موصول
أم أنت عنہا بعید الدار مشغول
’’کیا جدائی کے بعد خولہ سے ملنے کی کوئی امید ہے یا تو اس سے دور ہی رہ کر کسک بھری زندگی گزارے گا؟‘‘
اور جب اس شعر پر پہنچے:
والمرء ساع لأمر لیس یدرکہ
والعیش شحً وإشفاق وتأمیل
’’آدمی کئی ایسی چیزوں کے لیے کوشش کرتا ہے جس کو وہ پاتا نہیں ہے، حالانکہ بخیلی، لالچ اور آس لگانے کا نام ہی زندگی ہے۔‘‘
تو آپ نے حسن تقسیم و تفصیل کو دیکھ کر تعجب سے کہا:
’’یقیناً بخیلی، لالچ اور آس لگانے کا نام ہی زندگی ہے۔‘‘
(البیان والتبیین: جلد 1 صفحہ 240، المدینۃ النبویۃ، شرّاب: جلد 2 صفحہ 105 )
اور ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے زہیر کا یہ شعر پڑھا:
فان الحق مقطعہ ثلاث
یمین أو نفار أو جلاء
’’حق دلانے والی تین ہی چیزیں ہیں: قسم، یا حق لینے کے لیے مقدمہ لڑنا، یا حق کے موافق واضح دلیل۔‘‘
فذلکم مقاطع کل حتی
ثلاث کلہن لکم شفاء
(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 254)
’’تمہارے لیے ہر باطل کو یہی تین چیزیں کاٹ سکتی ہیں، اور تینوں کے تینوں تمہارے لیے مفید ہیں۔‘‘
آپ اس شعر کو پڑھ کر یہ بتانا چاہتے تھے کہ آپ اپنے حقوق انہی تینوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ سے پا سکتے ہیں: قسم کھا کر، یا مقدمہ کے ذریعہ سے یا واضح اور کھلی دلیل کے سہارے۔ اس شعر کی حسن تقسیم اور فنی خوبیوں کو دیکھ کر آپ نے زہیر کو ’’شاعروں کا قاضی‘‘ کہا۔ آپ کو حیرت ہوئی کہ زہیر نے جاہلی شاعر ہوتے ہوئے باطل دعوؤں کو کاٹنے والی چیزوں کو کیسے پہچان لیا، اور جب دین اسلام آیا تو اس نے ان تینوں چیزوں کی تائید بھی کی۔
(ادب صدر الاسلام: صفحہ 96)
مذکورہ معیار کے علاوہ بھی منبع دین و اخلاق سے نکلے ہوئے ایسے کئی معیار تھے جنہیں حضرت عمرؓ فن ادب میں مؤثر مانتے تھے اور ان کی طرف ادباء وشعراء کو متوجہ کر کے فن کو ایک نیا رخ دیتے تھے، گزشتہ صفحات میں جن فنی معیار کا ذکر ہوا ہے ان کے ساتھ دیگر معیار کا مختصراً اضافہ کر دینا زیادہ مناسب ہے تاکہ پڑھنے والے کے سامنے دور فاروقی میں عربی ادب پر فاروقی تنقید کے وہ تمام گوشے اجاگر ہو سکیں جن کی عربی ادب کے ناقدین کو ضرورت پڑتی ہے، مثلاً: حضرت عمرؓ ان اشعار کو تحسین و استعجاب کی نظر سے دیکھتے تھے جن میں لطیف جذبات اور پاک احساسات کی سچی ترجمانی و تصویر کشی کی گئی ہو، مخبل سعدی اور امیہ بن اسکر کنانی کے اشعار کو صداقت کے اسی عنصر کی وجہ سے حضرت عمرؓ بہت ہی زیادہ پسند کرتے تھے اسی طرح آپ بلاغت کلام کی ترجیحات میں اس بات کو معیار بناتے تھے کہ معانی اچھوتے اور جدید ہوں، دین اور اس کے آداب و اخلاق کے ہم مزاج ہوں، انہیں مؤثر پیرائے میں بیان کیا گیا ہو، طرز تعبیر نہایت دلکش اور جاذب نظر ہو، وہ صداقت اور معنوی جدت پر مشتمل ہونے کے ساتھ اسلام کے اخلاقیات کے موافق ہو اور مذموم ہجو، صریح گالی، ہتک عزت، شراب نوشی، بادہ و جام کی منظرکشی، یا اخلاقی بگاڑ اور ایمانی کمزوری کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے فسق و فجور سے پاک ہو، اس سے قبل حطیئہ اور سحیم جیسے بدزبان شعراء کے شاعرانہ کلام سے متعلق فاروقی مؤقف کو ہم ذکر کر چکے ہیں۔
(عمر بن خطاب: أبو النصر: صفحہ 255 تا 262 )
آپ کے اس تنقیدی نظریہ کی تائید نعمان بن عدی کے بارے میں نقل کیے جانے والے واقعہ سے ہوتی ہے، نعمان بن عدی کو حضرت عمرؓ نے میسان (میسان، عراق کا ایک شہر ہے جو چھوٹے چھوٹے گاؤں اور کھجور کے باغات سے گھرا ہے۔ بصرہ اور واسط کے درمیان واقع ہے۔) کا حاکم بنا کر بھیجا۔ وہ وہاں گیا لیکن اس کی بیوی نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، تو اس نے اپنی بیوی کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے عورتوں کی غیرت و احساس کو جگانے والے چند اشعار کہے، وہ اشعار حقیقت میں بے حد واہیات ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
فمن مبلغ الحسناء أن حلیلہا
بمیسان یسقی فی زجاج وحنتم
’’میری خوب صورت بیوی کو کوئی بتا دے کہ میسان میں اس کے شوہر کو شیشے کے جام اور کدو کے برتن میں شراب پلائی جاتی ہے۔‘‘
إذا شئت غنتنی دہاقین قریۃ
وصناجۃ تحدوا علی کل میسم
’’اگر تو چاہتی ہے کہ گاؤں کے دہقانوں اور حسن و جمال کے پیکروں کے پیچھے پیچھے جھانجھ بجانے والوں سے بے نیاز کر دے۔‘‘
إذا کتن ندمانی فباء لا کبر اسقنی
ولا تسقنی بالأصغر المتئلم
’’اور اگر جام جم پلانے میں تو میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو بڑے پیمانے سے پلا، اور ٹوٹے ہوئے چھوٹے پیالے سے مت پلا۔‘‘
لعل أمیر المومنین یسوؤ ہٗ
تناد منا فی الجوشق المنہدم
’’شاید کہ امیر المؤمنین اسے برا سمجھیں لیکن پھر بھی تو ہمیں کسی بوسیدہ محل میں شراب سے سیراب کر۔‘‘
جب حضرت عمرؓ نے ان اشعار کو سنا تو کہا: اللہ کی قسم، اس نے میرے ساتھ برا برتاؤ کیا، پھر آپؓ نے ان کو معزول کر دیا، حضرت عمرؓ کی طرف سے نعمان کی اس معزولی پر تعجب و حیرت نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ نعمان اپنی قوم کے امیر اور ان کے لیے نمونہ نیز ان کی مسجد کے امام تھے۔ یہ اشعار اگرچہ کسی ایسے آدمی کی زندگی کی تصویر نہیں پیش کرتے جو اوائل مہاجرین میں سے ہو، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اسلامی اقدار و تعلیمات سے متصادم ہیں، اسی وجہ سے حضرت عمرؓ نے ان اشعار کو لغو قرار دیا اور ان کے کہنے والے کو سزا دی۔
(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 263)
یہ ہیں حضرت عمرؓ کی تنقید کے نمایاں خدوخال، جس میں آپ نے منفرد مقام حاصل کیا۔ یہ تنقیدی رجحانات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ادبی تنقید اپنی ترقی کے ابتدائی ادوار میں اصولوں پر قائم تھی، اسی طرح آپؓ کا تنقیدی کلام آپؓ کے ادبی رجحان کا صحیح رخ بھی متعین کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپؓ نے ادب کا معیار متعین کرنے اور اس پر حکم لگانے کے لیے صرف شعری ذوق پر اعتماد نہ کیا بلکہ نصوص کی تشریح میں دقیق موضوعیت اور اس کے حسن و قبح کی وضاحت کا خیال رکھا اور جس کلام کو داد تحسین دی یا نظروں سے گرا دیا اس کی وجہ بھی بیان کر دی۔ بلاشبہ تنقید ادب عربی کی تاریخ میں جب تک عربی زبان کی سلامتی، اس کی عبارتوں کی بلاغت، معنیٰ و تعبیر کی ہم آہنگی، حق گوئی اور واضح و بہترین منظر کشی مطلوب ہو گی تب تک وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ادبی تنقید کی مقروض رہے گی۔ یہ ایسے دقیق تنقیدی معیار ہیں جس میں کوئی حقیقی ناقد حضرت عمرؓ رضی اللہ عنہ سے اختلاف نہیں کر سکتا۔
(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 255، 266)
بہرحال اگر ہم اس عظیم خلیفہ کی ثقافت، شعری ذوق، ادبی تنقید اور شعری کلام پر تفصیل سے گفتگو کریں تو اس کے لیے کئی ابواب کی ضرورت پڑے گی، تاہم اس موضوع پر جو بہترین کتابیں دل کو مطمئن کر سکتی ہیں ان میں چند یہ ہیں:
عمر بن خطاب، تالیف: محمد ابوالنصر۔
الأدب الاسلامی فی عہد النبوۃ، اور خلافۃ الراشدین، تالیف: دیکھئے نایف معروف۔
أدب صدر الاسلام، تالیف: دیکھئے واضح الصمد۔ المدینۃ النبویۃ، فجر الاسلام، نیز العصر الراشدی، تالیف: استاذ محمد محمد حسن شُرَّاب۔