افتراء: اُم المومنین سیدہ عائشہؓ کے گھر سے فتنے نے سینگ نکالے ۔ ( بخاری )
مولانا ابو الحسنین ہزارویافتراء: اُم المومنین سیدہ عائشہؓ کے گھر سے فتنے نے سینگ نکالے ۔ ( بخاری )
الجواب
بخاری شریف کے جس مقام کی نشاندہی کرتے ہوئے روایت نقل کی گئی ہے وہاں الفاظ ہیں۔ فاشار نحو مسکن عائشةؓ- مسکن سیدہ عائشہؓ کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس لفظ "نحو" سے حدیث کا مفہوم واضح ہو رہا ہے۔ "نحو" کا معنی ہے جانب، جہت، راستہ، مثل، مقدار ، قصد - (المنجد صفحہ 1001) نحو القبلہ کا معنی مقام قبلہ نہیں بلکہ معنی ہے کہ قبلہ کی طرف”قبلہ کی جہت" اسی طرح نحو المسکن کا معنی مسکن یعنی خاص مکان مراد نہیں جیسا کہ رافضی مکار نے ترجمہ کر کے فریب کاری کا مظاہرہ کیا بلکہ معنی ہے مسکن کی طرف یعنی اس سمت اس جانب اور اس طرف سے فتنے سر نکالیں گے، جہاں بخاری شریف کی مذکورہ حدیث ہے وہاں ههنا الفتنة پر حاشیہ لکھا ہوا موجود ہے جو حدیث پاک کا مطلب واضح کر رہا ہے ههنا الفتنة ای جانب المشرق یعنی مشرق کی طرف سے فتنے سر نکالیں گے۔
(بخاری حاشیہ نمبر 2 جلد 1صفحہ 438 مطبوعہ کراچی ) گویا نحو مسکن سیدہ عائشہؓ سے خاص مسکن سیدہ عائشہؓ، یعنی سیدہ عائشہؓ کا گھر مراد لینا حدیث پاک میں تحریف اور مفہوم حدیث کوبگاڑنے کی جسارت ہے-
2- بسا اوقات ایک جگہ پر امام بخاریؒ کوئی روایت نقل کرتے ہیں جو مجمل و مختصر ہوتی ہے جبکہ دوسرے مقامات پر ایسی احادیث لاتے ہیں جو اس حدیث کی وضاحت کرنے والی ہوتی ہے۔ مزکورہ مقام پر بھی روایت مختصر ہے جس کی وضاحت امام بخاریؒ کی صحیح میں دوسرے مقام پر موجود ہے چنانچہ امام بخاریؒ نے پورا باب اس عنوان سے بیان فرمایا ہے۔ اس باب کا نام ہے باب قول النبي ﷺ الفتنة من قبل المشرق ۔اور اس باب کے تحت کئی احادیث ذکر کی ہیں جن میں الفاظ ہیں الفتنة ههنا من حيث يطلع قرن الشيطان او قال قرن الشمس کہ فتنے اس جانب سے نکلیں گے جہاں سے شیطان کے سینگ یا فرمایا سورج طلوع ہوتا ہے۔
(بخاری جلد 2 صفحہ 1050 مطبوعہ کراچی )
اس باب کی روایات سے بھی بخاری جلد1 کی مذکورہ بالا روایت کا مفہوم اچھی طرح سے واضح اور روشن ہو جاتا ہے کہ آپﷺ کے فرمان کا مطلب فتنوں کا مشرق کی جانب سے نکلنا ہے نہ کہ مسکن سیدہ صدیقہؓ۔
3- مذکورہ روایت کے الفاظ جب رحمتِ عالمﷺ نے ارشاد فرمائے تو اس وقت آپﷺ کا چہرہ مبارک شمال کی جانب تھا آج بھی منبر رسولﷺ پر بیٹھ کر خطیب خطبہ دیتا ہے تو اس کا چہرہ شمال کی جانب اور پیٹھ جنوب کی سمت ہوتی ہے آپﷺ نے ہاتھ بلند کر کے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا کہ فتنے اس طرف سے سر نکالیں گے۔ یہ اشارہ مسکن سیدہ عائشہؓ یعنی خاص مکان کی جانب نہ تھا بلکہ مشرق کی طرف تھا چونکہ مسکن سیدہ عائشہؓ بھی اسی جانب پڑتا ہے اس لئے راوی نے روایت نقل کرتے ہوئے جانب مشرق کو مسکن سیدہ عائشہؓ کہہ دیا کیونکہ وہ بھی اسی طرف پڑتا ہے حالانکہ آپﷺ نے یہی الفاظ دیگر کئی مقامات پر بھی ارشاد فرمائے اور مشرق کی طرف اشارہ کیا جبکہ وہاں مسکن سیدہ صدیقہؓ موجود نہ تھا۔سیدنا ابن عباسؓ و دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین روایت فرماتے ہیں: راس الكفر ههنا واشار نحو المشرق حيث تطلع قرن الشيطان في ربيعة و مضر - (بخاری)
کہ کفر کا سر اس طرف ہے اور مشرق کی طرف اشارہ فرمایا جس جگہ سے شیطان اپنا سینگ نکالتا ہے۔
4- اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ آپﷺ کا فرمان کبھی غلط نہیں ہو سکتا اگر مذکورہ روایت سے مسکن سیدہ عائشہؓ بیانی مراد لیا جائے تو کوئی فتنہ اس خاص مقام سے ہرگز ہرگز ظاہر نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ العیاذ باللہ فرمان محبوبﷺ خلاف واقعہ ہوا۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ خاص مکان آپﷺ کا مسکن تھا ۔ آپﷺ پر ایسی مکان میں قرآن نازل ہوا۔ یہیں آپﷺ نے دار فانی کو خیر باد کہا۔ اسی جگہ کو جنت کا حصہ فرمایا، اسی جگہ پر آج بھی آپﷺ آرام فرما ہیں۔ اور کیا آپﷺ جہاں آرام فرما ہیں اس جگہ کے بارے میں یہ بات کوئی سوچ بھی سکتا ہے؟ ہرگز کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔ ہاں اس سے مراد جانب مشرق ہو جیسا کہ اہلِ سنت والجماعت کا قول ہے تو پھر یہ کلام بمطابق واقعہ بھی ہے اور کسی کی بے ادبی کا پہلو بھی نہیں کہ مالک الشتر کا فتنہ پھر ابن زیاد کا فتنہ پھر مختار ثقفی کا فتنہ واصل عطاء بصری کا فتنہ اور قرامطہ کا فتنہ، خارجی نہروان اور رجال نہروان کا فتنہ اٹھا جو سب کے سب مشرقی جانب پڑتے ہیں۔ ایران عراق وغیرہ کے علاقے مدینہ منورہ سے مشرق کی طرف ہیں اور یہاں سے فتنوں کے ظہور سے کون انکار کر سکتا ہے۔
5۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کے گھر سے فتنے نے سینگ نکالے یہ الفاظ نہ حدیث کا ترجمہ ہیں اور نہ اس کا مطلب و مفہوم اور نہ ہی واقعہ کے مطابق بلکہ یہ الفاظ خاص رافضی سوء مزاج کا تعفن ہے اول تو نحو کا لفظ جو مفہوم حدیث کی وضاحت کر رہا ہے اس کو ایسا کھا گئے کہ ڈکار بھی نہ لیا ۔
(2) آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ فتنہ نے یہاں سے سینگ نکالے ورنہ آپﷺ کی موجودگی میں فتنہ سر اٹھاتا تو آپﷺ ضرور اس کی سرکوبی کرتے یہ نہیں کہ آپﷺ نے فتنے کا نکلا ہوا سینگ دیکھ کر بھی اسے نہ توڑا اور باقی رہنے دیا کہ یہ شان نبوت کے خلاف ہے ۔
(3) کرم فرماؤں نے مزید یہ کرم بھی کیا کہ سرخی لگاتے ہوئے حدیث کا معنی ہی بدل دیا۔ آپﷺ نے فرمایا مشرق کی طرف سے فتنے سر نکالیں گے اور یار لوگوں نے سرخی میں مضارع کو ماضی والے معنی میں کر دیا کہ فتنوں نے سر نکالے، بنا دیا۔ جو حدیثِ رسولﷺ کے نام پر دھوکہ دینا فرض جانتا ہو اس کے لئے کیا دشوار ہے جو وہ حدیث کا معنی یا مفہوم بدل دے۔ مگر یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ اربابِ علم حدیث میں ہونے والی خیانت اور دھوکہ بازی کے باوجود لبوں پر مہر سکوت لگا بیٹھیں ۔