مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی شیعی کتب و مصادر کی روشنی میں
حامد محمد خلیفہ عمانہم ان جملہ واقعات و حوادث کو خود شیعہ کتب سے ثابت اور بیان کرتے جائیں گے۔ چنانچہ رضا حسین صبح حسینی لکھتا ہے:
’’مسلمؒ نصف شعبان کو مکہ سے کوفہ کے لیے روانہ ہوئے اور پانچ شوال کو کوفہ پہنچ گئے۔ ان کے آنے کی خبر سن کر لوگ بیعت کرنے کے لیے ان پر ٹوٹ پڑے، حتیٰ کہ اٹھارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کر لی۔ شعبی کی روایت میں یہ تعداد چالیس ہزار ہے۔‘‘ (الشیعۃ و عاشوراء: صفحہ 167)
ہاشم المعروف حسنی کہتا ہے:
’’بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم بن عقیلؓ اپنے اس سفر سے زیادہ پر امید نہ تھے، کیونکہ وہ اہل عراق کی متلون اور غیر مستقل فطرت کے بارے میں جانتے تھے، یہ وہی لوگ تو تھے، جنہوں نے اس سے قبل امیر المومنینؓ کے ساتھ کئی رنگ بدلے تھے۔ حتیٰ کہ امیر المومنینؓ کی شدید تمنا تھی کہ موت یا شہادت انہیں ان کوفیوں سے جدا کر دے۔ مسلم بن عقیلؓ کے سامنے کوفیوں کی حسن (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ کی جانے والی بدترین خیانت بھی تھی، جس کے ہاتھوں مجبور ہو کر بالآخر انہوں نے امر خلافت معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔ جب حسین (رضی اللہ عنہ) نے انہیں کوفیوں کے پاس جانے کو کہا تو وہ اوّل اوّل جانے پر تیار نہ تھے۔ جب جناب حسینؓ نے انہیں بزدل اور فاسد الرائے ہونے کا طعنہ دیا، تو وہ دو رہنماؤ ں کو لے کر کوفہ روانہ ہو گئے۔ اگرچہ مسلمؒ اپنے اس سفر سے تقریباً ناامید تھے، لیکن پھر بھی روانہ ہو گئے۔ پھر ایک رہنما راستہ میں ہی پیاس کی شدت سے ہلاک ہو گیا۔ جبکہ وہ راستہ بھی بھٹک گئے تھے۔ اس پریشان کن صورتِ حال کو دیکھ کر مسلمؒ نے ایک بار پھر حسین (رضی اللہ عنہ) کو خط لکھ کر ان سے اس مہم سے سبک دوش ہونے کی اجازت مانگی، لیکن حسین (رضی اللہ عنہ) نے سفر کو جاری رکھنے کی تاکید لکھ بھیجی۔
چنانچہ مسلمؒ نے سفر جاری رکھا اور کوفہ جا پہنچے۔ کوفیوں نے مسلمؒ کا بھرپور استقبال کیا اور مختار بن ابی عبید ثقفی کے ہاں مہمان ٹھہرے۔ مسلمؒ مختار کے گھر سے ہی نکل کر لوگوں سے ملتے اور انھیں حسین (رضی اللہ عنہ) کی بیعت کی دعوت دیتے، چنانچہ موت پر بیعت کرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار تک جا پہنچی۔ ایک قول اس سے کم تعداد کا بھی ہے۔ ان دنوں یزید کی طرف سے کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر (رضی اللہ عنہ) تھے۔ جیسا کہ مؤرخین نے بیان کیا ہے۔ کیونکہ نعمان (رضی اللہ عنہ) تفرقہ کو ناپسند کرتے تھے اور عافیت و صلح کو ترجیح دیتے تھے۔‘‘ (سیرۃ الائمۃ الاثنی عشر: جلد، 2 صفحہ 57-58)
عبدالحسین شرف الدین موسوی لکھتا ہے:
’’کوفی مسلم بن عقیلؓ کے پاس آنے جانے لگے، حتیٰ کہ نعمان بن بشیر (رضی اللہ عنہ) کو اس کی خبر لگ گئی۔ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ اس وقت یزید کی طرف سے کوفہ کے والی تھے، کیونکہ پہلے انہیں معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے والی بنا رکھا تھا جس کو یزید نے امارت سنبھالنے کے بعد برقرار رکھا)۔ انہیں مسلمؒ کی جائے سکونت کا بھی علم ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے مسلمؒ کو کچھ بھی نہ کہا۔‘‘ (المجالس الفاخرۃ: صفحہ 61)
عبدالرزاق موسوی مقرم لکھتا ہے:
’’مسلمؒ مختار ثقفی کے گھر ٹھہرے، کوفیوں نے جا جا کر انہیں خوش آمدید کہا اور سمع و طاعت کا اظہار کیا جس سے مسلمؒ کی فرحت و مسرت کی انتہا نہ رہی۔ شیعانِ کوفہ بیعت حسینؓ کرتے رہے، حتیٰ کہ ان کی تعداد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئی۔ ایک قول پچیس ہزار کا بھی ہے۔ شعبی کی روایت میں یہ تعداد چالیس ہزار ہے۔ چنانچہ مسلمؒ نے عابس بن شبیب شاکری کے ہاتھوں حسین (رضی اللہ عنہ)کو لکھ بھیجا کہ اہلِ کوفہ آپ کی اطاعت پر جمع اور آپ کے منتظر ہیں اور یہ بھی لکھا کہ ’’قافلہ کا رہنما قافلہ والوں سے جھوٹ نہیں بولا کرتا۔ اٹھارہ ہزار کوفیوں نے میری بیعت کر لی ہے۔‘‘
(مقتل الحسین للمقرم: صفحہ 147 مأساۃ احدی و ستین: صفحہ 24)
شیخ عباس قمی لکھتا ہے:
’’شیخ مفید اور دوسرے شیعہ علماء نے لکھا ہے کہ کوفی مسلمؒ کے پاس ہانی کے گھر میں چھپ چھپ کر آتے اور بیعت کرتے رہے۔ مسلمؒ ہر شخص سے بیعت لیتے وقت اس بات کی قسم بھی لیتے تھے کہ وہ اس معاملہ کو پردۂ خفا میں رکھیں گے۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، یہاں تک بیعت کرنے والوں کی تعداد پچیس ہزار تک پہنچ گئی اور ابن زیاد کو ابھی تک مسلمؒ کی جائے سکونت کا علم تک نہ تھا۔‘‘ (منتہی الأمال: جلد، 1 صفحہ 437)
شیخ قمی یہ بھی لکھتا ہے:
’’لوگوں نے مسلم بن عقیلؓ کی بیعت کی حتیٰ کہ ان کی تعداد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئی۔ جس پر مسلمؒ نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو اٹھارہ ہزار کوفیوں کے بیعت کرنے کی خبر لکھ بھیجی اور ساتھ ہی کوفہ چلے آنے کو بھی کہہ دیا۔‘‘ (منتہی الأمال: جلد، 1 صفحہ 436)