Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

افتراء: سیدہ عائشہؓ و حفصہؓ کے دل ٹیڑھے ہو گئے

  مولانا ابو الحسنین ہزاروی

افتراء: سیدہ عائشہؓ و حفصہؓ کے دل ٹیڑھے ہو گئے۔

(بخاری مترجم جلد 3 صفحہ 59، ترمذی مترجم صفحہ 537، الکشاف، تفسیر فی ظلال القرآن) 

الجواب

 1- محترم حضرات! مذکورہ چار کتابوں میں دو مترجم اور دو عربی عبارت پر مشتمل ہیں اور ان میں ایک ہی واقعہ کا ذکر ہے کہ سائل نے سیدنا عمرؓ سے حج کے موقع پر یہ سوال کیا کہ جن دو ازواج مطہراتؓ کے بارے میں یہ آیت  "قَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا“ نازل ہوئی وہ کون کون ہیں تو سائل (سیدنا عبد اللہ ابن عباسؓ) کو سیدنا عمرؓ نے اس سوال کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ ہیں۔ 

1- اسی ایک واقعہ کو چار کتابوں سے نقل کیا گیا ہے جس کے عکس یہاں دیکر ازواج مطہراتؓ کی گستاخی اور بے ادبی قرار دیا ہے کہ دیکھو خود اہلِ سنت ازواج مطہراتؓ کی گستاخی کرتے ہیں اور ان کی کتابوں میں یہ گستاخانہ عبارت موجود ہے۔ 

قارئین کرام……! اہلِ تشیع کے دجل اور فریب کی کرشمہ سازی ملاحظہ فرمایئے کہ اپنے فاسد دماغ سے آیت کا غلط ترجمہ ( کہ ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ) ایجاد کر کے اس خانہ ساز ترجمہ کو اہلِ سنّت کے کھاتے ڈال کر گستاخی کا نام دے دیا

جبکہ یہ ترجمہ غلط ہے ملاحظہ فرمائیں تحقیقی دستاویز کا صفحہ نمبر 535 جس پر بخاری مترجم کا عکس صفحہ نمبر 159 دیا گیا ہے اس پر باب نمبر 113 کی پہلی حدیث کی سطر نمبر 3 اور چار پر آیت کا ترجمہ لکھا ہے "تمہارے دل پھر گئے ہیں تم اللہ سے توبہ کرو" اور کتاب تحقیقی دستاویز کا صفحہ 537 پر عکسی صفحہ کے تحت صرف ایک نصف سطر کا حاشیہ ہے جس پر ترجمہ ہے تمہارے دل راہ حق سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔

گویا خود ان کے دیے ہوئے عکسی صفحوں پر وہ مطلب نہیں بنتا جو کہ رافضی کرم فرماؤں نے سُرخی بنا کر لکھا ہوا ہے بلکہ خود تراشیدہ اور خانہ ساز مطلب کو گستاخانہ عبارت بنا ڈالا ہے۔ اور یہی رافضی دماغ کا کمال ہے کہ وہ بات کا پتنگڑ بنانے اور الزام تراشی کرنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ 

2- . مذکورہ آیات ان دو امہات المؤمنینؓ کی عظمت پر روشن دلیل ہیں جیسا کہ ہم عرض کریں گے مگر آپ رافضی قلمکار کی کوڑھ مغزی پر داد دیجیئے کہ دعویٰ ہے کہ اہلِ سنّت بھی ازواج مطہراتؓ کے گستاخ ہیں اور جواب میں جو کتاب پیش کی وہ ہے آیتِ قرآنی جس کی تفسیر حدیث کی شکل میں موجود ہے۔ 

ملاحظہ فرمایئے ایک طرف وہ قرآن پاک کو ازواج مطہراتؓ کا (العياذ باللہ) گستاخ قرار دے رہے ہیں دوسری طرف وہ قرآن و حدیث سے صاف دستبرداری کا اعلان کر رہے ہیں کہ یہ تمہاری کتابیں ہیں ہماری نہیں۔ اور یہی بات اگر ہم کہہ دیں کہ رافضی قرآن کے دشمن اور اسکا انکاری ہیں تو تحقیقی دستاویز والے منہ بنا لیتے ہیں اور زور و شور سے دعویٰ کرنے لگتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں انکار کرنے والے تو جاہل شیعہ ہیں محققین کا تو یہ مذہب نہیں۔

تحقیقی دستاویز : صفحہ 584 باب نمبر5  

3- ان آیات و احادیث میں نہ تو کوئی بے ادبی کا پہلو ہے اور نہ ہی گستاخی کا بلکہ کمال درجے کی عظمت و بلندی مرتبہ کا واشگاف اعلان ہے۔ روافض نے جو بھونڈا ترجمہ کیا ہے اس سے البتہ عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ واقعی یہ بھی سوءِ ادب اور ازواجِ مطہراتؓ کی گویا گستاخی ہے مگر درست یہ ہے کہ دل ٹیڑھے ہوگئے کا ترجمہ خانہ ساز اور بناوٹی ہے۔

 ملاحظہ فرمائیں:

لفظ صغت صغو سے ہے اور صغو کا معنی ہے میلان، پس کسی چیز سے میلان ہو تو عربی لغت میں اس مفہوم کو ادا کرنے کیلئے حسب ذیل الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ 

زیغ،  ادعوا،  تخر،  انحراف 

اور اگر کسی چیز کی طرف میلان ہو تو عربی لغت میں اس کے لیے درج ذیل الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

في، التفات،  توریۃ،  صغو،  انابت 

صغت کے متعلق عربی اصطلاحات درج ذیل ہیں: 

1 صغوه معك : اس کا میلان تیرے ساتھ ہے۔ 

2 اصغيت الى ندان: تو نے اس کی طرف میلان کیا۔ . 

3 ابعی یعلم بمصفی خدہ ۔ لڑکا خسارے کے مائل کرنے سے معلوم کیا جاتا ہے۔

4 اصغت الشمس و النجوم - سورج اور ستارے مائل ہوچکے ہیں 

5 كان يصغي لها الاناء ۔ آپﷺ نے بلی کیلئے برتن کو نیچے مائل کر دیا۔

معلوم ہوا کہ صغوا کا معنی مائل ہونا ہے۔ لہذا اس آیت میں بھی اس لفظ صغوا کا معنی مائل ہونا ہے اور جو لوگ اس تحقیق معنی کو چھوڑ کر غلط مفہوم کی رٹ لگاتے اور سرخیاں جماتے ہیں وہ قساوتِ قلبی کے مریض ہیں۔ 

 اس ترجمہ کی مزید تائید

جان لینا چاہیے کہ قَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سے قبل إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ کا جملہ موجود ہے جو شرط ہے اور قد صغت قُلُوبُكُمَا جزا ہے اس طرح کے جملے عرب کی اصطلاح میں اور قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں جیسے۔

إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ .

"اگر تم فتح کے طلبگار ہو تو پس تمہارے پاس فتح آگئی ہے‘‘ 

 فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ

اگر وہ لوگ تیری تکذیب کرتے ہیں تو پس آپ سے پہلے نبیوں کی تکذیب کی گئی ہے۔  

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ "اگر تم نے رسول کی امدادا نہیں کی تو پس اللہ تعالی نے رسول کریمﷺ کی خود بخود امداد فرما دی۔ 

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں شرط و جزاء کی طرز کے جملہ بکثرت استعمال ہوئے ہیں لہذا اس آیت  میں بھی إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ شرط اور فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا اس کی جزا ہے جس کا معنی یہ ہے۔

اور اگر تم دونوں بیبیاں خدا کی طرف رجوع کرو تو پس تمہارے دل خدا کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ 

اس ترجمہ کو ملاحظہ فرمانے کے بعد اربابِ علم ارشاد فرمائیں کہ کیا یہ آیت ان دو مقدس ازواج مطہراتؓ کی تحقیر کو واضح کر رہی ہے یا ان کی خوبصورت طریقہ سے تربیت کر رہی ہے؟؟؟

حق یہ ہے کہ مذکورہ روایت کا ترجمہ وہ ہے جو پوری وضاحت سے ہم نے عرض کر دیا اور جو ترجمہ روافض نے گھڑا ہے یہ ان کے اپنے ٹیڑھے دل کا ٹیڑھا پن ہے جو خود ٹیڑھا ہو کر سب کو ٹیڑھا دیکھتا ہے

مثل مشہور ہے

 المرء يقيس على نفسه

آدمی دوسرے کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے ( کہ جیسا میں ہوں دوسرا بھی ویسا ہی ہو گا)۔ 

4- جس کی آنکھوں میں کالا جالا ہو اسے تو تمام چیزیں کالی ہی نظر آتی ہیں مگر جو کچھ اس کی بیمار آنکھ نے دیکھا ایسے ہی حقیقت نہیں بن جاتی۔ رافضی بیمار مغز تو اہلِ سنت کی اس بات پر خوب بغلیں بجاتے ہیں کہ یہ توہین ہے اور ازواجِ مطہراتؓ کی توہین خود اہلِ سنت کی کتابوں میں موجود ہے مگر حق اس کے علاوہ ہے۔

بلاشبہ اہلِ سنت کی کتابوں میں بلکہ اہلِ سنت کی طرف عطیہ خداوندی سے حاصل ہونے والی سب سے عظیم کتاب قرآن کریم میں یہ سب واقعہ موجود ہے۔ مگر یہ واقعہ ازواج مطہراتؓ کی رفعتِ مقام کو چار چاند لگا رہا ہے وہ اس طرح کہ نبیﷺ کے پاس جو علم آتا ہے وہ براه راست اللہ پاک کی طرف سے آتا ہے اور نبیﷺ کے بلندی مرتبہ کی یہ بڑی دلیل ہے کہ اس کا براہ راست تعلق اللہ جل شانہ کی ذات عالی کے ساتھ قائم ہوتا ہے نبیﷺ کو جو کچھ کہنا، کرنا اور بولنا ہو وہ سب اللہ تعالی کی اجازت سے ہوتا ہے انبیاء کی تربیت کے بعد اللہ تعالیٰ کی خاص تربیت کا حصہ ازواج مطہراتؓ کو حاصل ہوا کہ اگر کبھی نا مناسب کام ہوگیا تو انسانوں کی بجائے خود اللہ تعالی نے ان کی تربیت فرمائی اور تعلیم کی کہ یوں کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ گھریلو معاملات میں نشیب و فراز کا ہر شخص کو سامنا کرنا ہوتا ہے۔ عورت سے کمی کوتاہی عام طور پر ہو جایا کرتی ہے اس کوتاہی پر باپ، ماں  شوہر یا خاندان کے بزرگ اور بڑے حضرات اصلاح کا فرض نبھاتے ہیں مگر ازواج مطہراتؓ کیلئے معاملہ دوسرا ہے کہ الله تعالیٰ خود ان کے لیے اصلاحی احکام نازل فرماتا ہے اور تو اور اللہ تعالی نے اپنے نبیﷺ کو بھی نہیں فرمایا کہ آپ ان کی یوں تربیت فرمائیں بلکہ بذریعہ وحی جلی کے ازواجِ مطہراتؓ کو خود مخاطب بنایا۔ 

اور یہی بات ان مقدسہ ازواج مطہراتؓ کے لیے عظمت کی دلیل ہے کہ ان کی تربیت و اصلاح خود اللہ تعالی کی اپنی وحی و کلام سے ہوئی ہے۔

بادشاہ کسی کے نام چند حروف تحریر کے لکھ دے تو وہ پھولا نہ سمائے کہ بادشاہ نے مجھے یاد کیا اور جن کو بادشاہوں کا بادشاه نہ صرف بلائے بلکہ ان کی گھریلو اور نجی زندگی پر بھی رہنمائی فرمائے اس کی عظمتِ شان کا کیا ٹھکانہ۔ مگر عزت و عظمت کے جگمگاتے چراغ آنکھوں والے ہی دیکھ پائیں گے بصیرت سے محروم افراد بھلا ان حقائق تک رسائی کہاں پائیں گے کہ جن کی زندگی معصیتوں کا بحر ناپید ہو اور اللہ تعالی کی عنایات کا کوئی حصہ انہیں نہ ملا ہو۔ 

 5: سورة تحریم کی آیات کے شان نزول میں کچھ واقعات درج ہیں جیسے سیدہ زینبؓ کا آپ کو شہد پلانا اور اس پر سیدہ عائشہؓ و سیدہ حفصہؓ کا یہ کہنا کہ آپﷺ کے منہ مبارک سے بو آرہی ہے اور سیدہ حفصہؓ کا اپنے گھر میں ایک باندی کے ساتھ تخلیہ میں دیکھ کر غیرتِ نسوانی کا شکار ہو جانا اور سیدہ حفصہؓ کا راز کو ظاہر کر دینے والا واقعہ۔

ان واقعات کو سنی کتابوں سے نقل کر کے حضرات امہات المومنینؓ کی گستاخی سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ ان واقعات میں بے ادبی اور گستاخی کا پہلو ہرگز نہیں بلکہ چند باتوں کی وضاحت ہے:

 1۔ انبیاءؑ کے علاوہ کوئی معصوم نہیں اگرچہ وہ صحابہؓ و صحابیاتؓ و ازواج مطہراتؓ ہوں مگر وہ محفوظ ہیں کہ ان کے کھاتے میں گناه رہتے نہیں فوری معافی ہو جاتی ہے۔

 2۔  رحمت عالمﷺ کا ان ازواج مطہراتؓ سے کمال محبت کا بیان کہ ان کی دل جوئی میں وہ کر دیا جو فی الواقعہ نہ کرنا چاہیے تھا۔ 

3 . عورتوں کو تنبیہ کہ اگر کبھی شوہر کے حق میں کوئی نامناسب کام ہو جائے تو ان مقدسہ ماؤں کی طرح فوراً رجوع الی اللہ کریں۔ 

 4 .ان مقدسہ ازواج مطہراتؓ کے کمال مرتبہ کا اظہار کہ اگرچہ ان کو یہ نہ کرنا چاہیے تھا مگر عند اللہ ان کا یہ مقام ہے کہ بجائے تادیب کے تہذیب کی اور تربیت کا پہلو اختیار فرمایا نہ کہ سزا تجویز فرمائی۔ اس طرح کے کئی اسباق اور تربیت کے خوبصورت طریقے ان واقعات کی تہہ میں مستور ہیں جو باعث تحقیر نہیں ۔ جیسا کہ روافض کا خیال ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ باعثِ عزت ہے کہ یہ کچھ کرنے کے بعد بھی اللہ تعالی ان کی دل جوئی، تسلی اور تربیت ہی فرماتا ہے اور یہ سب دلیلِ عزت و توقیر ہے نہ کہ دلیلِ تحقیر۔ 

 5 .میاں بیوی کا آپس میں جو رشتہ محبت اور اُنس ہوتا ہے وہ ارباب مشاہدہ سے مخفی نہیں۔ محبت میں بھی ایسے کام بھی سرزد ہو جاتے ہیں جو بظاہر عجیب معلوم ہوتے ہیں نیز کبھی گھریلو معاملات میں اتار چڑھاؤ بھی ہوجاتا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ان گھریلو واقعات کو کسی کی تحقیر و تذلیل کا ذریعہ بنایا جائے اگر ان گھریلو واقعات کو تحقیر کا ذریعہ جانا جائے تو ذرا اہلِ تشیع ان واقعات پر بھی لب کشائی کریں

 1 فریقین کے ہاں مسلم ہے کہ سیدنا علیؓ نے عہدِ نبوت میں فاطمہ بنتِ ہشامؓ پھر اسماء بنتِ عمیسؓ سے عقد کرنے کا ارادہ کیا۔ اخیر سیده فاطمة الزہراؓ نے آپﷺ سے شکایت کی تو آپﷺ نے شادی سے سیدنا علیؓ کو روک دیا۔

اس واقعہ کے درست ہونے پر تو فریقین متفق ہیں مگر یہ واقعہ ان نفوسِ قدسیہ کی تحقیر کا باعث ہرگز نہیں 

 2 روافض کی کتب میں سیدنا علیؓ سے سیدہ فاطمہ الزہراءؓ کا روٹھ جانا اور اپنے ابا کے گھر تشریف لے جانا تحریر کیا ہے۔ ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ سیدنا علیؓ گھر سے ناراض ہو کر چلے گئے اور مسجد نبوی میں جا کر مٹی پر سو رہے۔ جسم پر مٹی لگ گئی۔ آپﷺ تشریف لائے، سیدنا علیؓ کو اس حال میں دیکھ کر فرمایا اے مٹی کے باپ اٹھ قم یا ابو تراب

باہم گھریلو ناراضگی کے یہ واقعات مسلمات میں سے ہیں مگر ان واقعات کی بنا پر معاذ اللہ حیدر کرارؓ کی ذات پر حرف گیری قطعاً روا نہیں کہ یہ واقعات گھریلو زندگی کا حصہ ہیں۔ 

ہماری عرض ہے کہ جیسے یہ واقعات مسلم ہیں مگر باعث تحقیر نہیں ۔نا ان واقعات کی بنا پر اعتراض کرنا درست ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے معاف فرما دیا کسی کو اس پر حرف گیری کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح ازواج مطہراتؓ بالخصوص سیدہ عائشہ صدیقہؓ  جن کی گود میں محبوبِ کائنات رسول اللہﷺ نے رفیق اعلی یعنی اللہ تعالی کی طرف سفر آخرت کا آغاز فرمایا اور جن کا حجره جنت بنا اور جن پر جبریلٔ اللہ تعالی کا سلام لائے، اُن کے مذکورہ واقعات بھی ان مقدس ازواج مطہراتؓ کے لئے باعثِ تحقیر ہرگز نہیں۔