افتراء: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا و حفصہ رضی اللہ…

افتراء: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا و حفصہ رضی اللہ تعالی عنھا کے دل ٹیڑھے ہو گئے

  مولانا ابو الحسنین ہزاروی

صفحہ 2 از 2

4- جس کی آنکھوں میں کالا جالا ہو اسے تو تمام چیزیں کالی ہی نظر آتی ہیں مگر جو کچھ اس کی بیمار آنکھ نے دیکھا ایسے ہی حقیقت نہیں بن جاتی۔ رافضی بیمار مغز تو اہلِ سنت کی اس بات پر خوب بغلیں بجاتے ہیں کہ یہ توہین ہے اور ازواجِ مطہراتؓ کی توہین خود اہلِ سنت کی کتابوں میں موجود ہے مگر حق اس کے علاوہ ہے۔

بلاشبہ اہلِ سنت کی کتابوں میں بلکہ اہلِ سنت کی طرف عطیہ خداوندی سے حاصل ہونے والی سب سے عظیم کتاب قرآن کریم میں یہ سب واقعہ موجود ہے۔ مگر یہ واقعہ ازواج مطہراتؓ کی رفعتِ مقام کو چار چاند لگا رہا ہے وہ اس طرح کہ نبیﷺ کے پاس جو علم آتا ہے وہ براه راست اللہ پاک کی طرف سے آتا ہے اور نبیﷺ کے بلندی مرتبہ کی یہ بڑی دلیل ہے کہ اس کا براہ راست تعلق اللہ جل شانہ کی ذات عالی کے ساتھ قائم ہوتا ہے نبیﷺ کو جو کچھ کہنا، کرنا اور بولنا ہو وہ سب اللہ تعالی کی اجازت سے ہوتا ہے انبیاء کی تربیت کے بعد اللہ تعالیٰ کی خاص تربیت کا حصہ ازواج مطہراتؓ کو حاصل ہوا کہ اگر کبھی نا مناسب کام ہوگیا تو انسانوں کی بجائے خود اللہ تعالی نے ان کی تربیت فرمائی اور تعلیم کی کہ یوں کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ گھریلو معاملات میں نشیب و فراز کا ہر شخص کو سامنا کرنا ہوتا ہے۔ عورت سے کمی کوتاہی عام طور پر ہو جایا کرتی ہے اس کوتاہی پر باپ، ماں  شوہر یا خاندان کے بزرگ اور بڑے حضرات اصلاح کا فرض نبھاتے ہیں مگر ازواج مطہراتؓ کیلئے معاملہ دوسرا ہے کہ الله تعالیٰ خود ان کے لیے اصلاحی احکام نازل فرماتا ہے اور تو اور اللہ تعالی نے اپنے نبیﷺ کو بھی نہیں فرمایا کہ آپ ان کی یوں تربیت فرمائیں بلکہ بذریعہ وحی جلی کے ازواجِ مطہراتؓ کو خود مخاطب بنایا۔ 

اور یہی بات ان مقدسہ ازواج مطہراتؓ کے لیے عظمت کی دلیل ہے کہ ان کی تربیت و اصلاح خود اللہ تعالی کی اپنی وحی و کلام سے ہوئی ہے۔

بادشاہ کسی کے نام چند حروف تحریر کے لکھ دے تو وہ پھولا نہ سمائے کہ بادشاہ نے مجھے یاد کیا اور جن کو بادشاہوں کا بادشاه نہ صرف بلائے بلکہ ان کی گھریلو اور نجی زندگی پر بھی رہنمائی فرمائے اس کی عظمتِ شان کا کیا ٹھکانہ۔ مگر عزت و عظمت کے جگمگاتے چراغ آنکھوں والے ہی دیکھ پائیں گے بصیرت سے محروم افراد بھلا ان حقائق تک رسائی کہاں پائیں گے کہ جن کی زندگی معصیتوں کا بحر ناپید ہو اور اللہ تعالی کی عنایات کا کوئی حصہ انہیں نہ ملا ہو۔ 

 5: سورة تحریم کی آیات کے شان نزول میں کچھ واقعات درج ہیں جیسے سیدہ زینبؓ کا آپ کو شہد پلانا اور اس پر سیدہ عائشہؓ و سیدہ حفصہؓ کا یہ کہنا کہ آپﷺ کے منہ مبارک سے بو آرہی ہے اور سیدہ حفصہؓ کا اپنے گھر میں ایک باندی کے ساتھ تخلیہ میں دیکھ کر غیرتِ نسوانی کا شکار ہو جانا اور سیدہ حفصہؓ کا راز کو ظاہر کر دینے والا واقعہ۔

ان واقعات کو سنی کتابوں سے نقل کر کے حضرات امہات المومنینؓ کی گستاخی سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ ان واقعات میں بے ادبی اور گستاخی کا پہلو ہرگز نہیں بلکہ چند باتوں کی وضاحت ہے:

 1۔ انبیاءؑ کے علاوہ کوئی معصوم نہیں اگرچہ وہ صحابہؓ و صحابیاتؓ و ازواج مطہراتؓ ہوں مگر وہ محفوظ ہیں کہ ان کے کھاتے میں گناه رہتے نہیں فوری معافی ہو جاتی ہے۔

 2۔  رحمت عالمﷺ کا ان ازواج مطہراتؓ سے کمال محبت کا بیان کہ ان کی دل جوئی میں وہ کر دیا جو فی الواقعہ نہ کرنا چاہیے تھا۔ 

3 . عورتوں کو تنبیہ کہ اگر کبھی شوہر کے حق میں کوئی نامناسب کام ہو جائے تو ان مقدسہ ماؤں کی طرح فوراً رجوع الی اللہ کریں۔ 

 4 .ان مقدسہ ازواج مطہراتؓ کے کمال مرتبہ کا اظہار کہ اگرچہ ان کو یہ نہ کرنا چاہیے تھا مگر عند اللہ ان کا یہ مقام ہے کہ بجائے تادیب کے تہذیب کی اور تربیت کا پہلو اختیار فرمایا نہ کہ سزا تجویز فرمائی۔ اس طرح کے کئی اسباق اور تربیت کے خوبصورت طریقے ان واقعات کی تہہ میں مستور ہیں جو باعث تحقیر نہیں ۔ جیسا کہ روافض کا خیال ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ باعثِ عزت ہے کہ یہ کچھ کرنے کے بعد بھی اللہ تعالی ان کی دل جوئی، تسلی اور تربیت ہی فرماتا ہے اور یہ سب دلیلِ عزت و توقیر ہے نہ کہ دلیلِ تحقیر۔ 

 5 .میاں بیوی کا آپس میں جو رشتہ محبت اور اُنس ہوتا ہے وہ ارباب مشاہدہ سے مخفی نہیں۔ محبت میں بھی ایسے کام بھی سرزد ہو جاتے ہیں جو بظاہر عجیب معلوم ہوتے ہیں نیز کبھی گھریلو معاملات میں اتار چڑھاؤ بھی ہوجاتا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ان گھریلو واقعات کو کسی کی تحقیر و تذلیل کا ذریعہ بنایا جائے اگر ان گھریلو واقعات کو تحقیر کا ذریعہ جانا جائے تو ذرا اہلِ تشیع ان واقعات پر بھی لب کشائی کریں

 1 فریقین کے ہاں مسلم ہے کہ سیدنا علیؓ نے عہدِ نبوت میں فاطمہ بنتِ ہشامؓ پھر اسماء بنتِ عمیسؓ سے عقد کرنے کا ارادہ کیا۔ اخیر سیده فاطمة الزہراؓ نے آپﷺ سے شکایت کی تو آپﷺ نے شادی سے سیدنا علیؓ کو روک دیا۔

اس واقعہ کے درست ہونے پر تو فریقین متفق ہیں مگر یہ واقعہ ان نفوسِ قدسیہ کی تحقیر کا باعث ہرگز نہیں 

 2 روافض کی کتب میں سیدنا علیؓ سے سیدہ فاطمہ الزہراءؓ کا روٹھ جانا اور اپنے ابا کے گھر تشریف لے جانا تحریر کیا ہے۔ ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ سیدنا علیؓ گھر سے ناراض ہو کر چلے گئے اور مسجد نبوی میں جا کر مٹی پر سو رہے۔ جسم پر مٹی لگ گئی۔ آپﷺ تشریف لائے، سیدنا علیؓ کو اس حال میں دیکھ کر فرمایا اے مٹی کے باپ اٹھ قم یا ابو تراب

باہم گھریلو ناراضگی کے یہ واقعات مسلمات میں سے ہیں مگر ان واقعات کی بنا پر معاذ اللہ حیدر کرارؓ کی ذات پر حرف گیری قطعاً روا نہیں کہ یہ واقعات گھریلو زندگی کا حصہ ہیں۔ 

ہماری عرض ہے کہ جیسے یہ واقعات مسلم ہیں مگر باعث تحقیر نہیں ۔نا ان واقعات کی بنا پر اعتراض کرنا درست ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے معاف فرما دیا کسی کو اس پر حرف گیری کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح ازواج مطہراتؓ بالخصوص سیدہ عائشہ صدیقہؓ  جن کی گود میں محبوبِ کائنات رسول اللہﷺ نے رفیق اعلی یعنی اللہ تعالی کی طرف سفر آخرت کا آغاز فرمایا اور جن کا حجره جنت بنا اور جن پر جبریلٔ اللہ تعالی کا سلام لائے، اُن کے مذکورہ واقعات بھی ان مقدس ازواج مطہراتؓ کے لئے باعثِ تحقیر ہرگز نہیں۔


صفحہ 2 از 2