Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل کوفہ کی مسلم بن عقیل کے ساتھ غداری

  حامد محمد خلیفہ عمان

ہاشم المعروف حسنی لکھتا ہے:

’’نئے والی نے ہانی بن عروہ کو جس کے گھر حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کا قاصد ٹھہرا ہوا تھا، گرفتار کرنے کا نیا اور مستحکم منصوبہ تشکیل دے لیا۔ چنانچہ اس نے ہانی کو ایک دعوتِ طعام پر بلایا، اس کے ساتھ کھل کر تبادلہ خیال کیا اور ایک طویل گفتگو کے بعد ہانی کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ اس وقت قصر امارت کے باہر لوگوں کا ایک جم غفیر جمع تھا۔ والی جدید (ابن زیاد) نے ہانی کی لاش کو قلعہ کی فصیل سے نیچے گرا دیا۔ لوگ یہ خوفناک منظر دیکھ کر بے حد خوف زدہ ہو گئے اور ہر شخص اپنے گھر لوٹ گیا، جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ تھا اور نہ اسے اس بات کی پروا تھی۔‘‘

(سیرۃ الائمۃ الاثنی عشر: جلد، 2 صفحہ 61)

محمد کاظم قزوینی لکھتا ہے:

’’ابن زیاد کوفہ میں داخل ہوا۔ اس نے قبائل و عشائر کے سرداروں کو شامی لشکروں کی دھمکی بھجوا دی۔ لشکروں کی آمد کا سن کر ایک ایک کر کے سب مسلمؒ کا ساتھ چھوڑ گئے۔ حتیٰ کہ مسلمؒ اکیلے رہ گئے۔‘‘ (فاجعۃ الطف: صفحہ 7 قریب قریب یہی مضمون ’’تظلم الزہرا: صفحہ 149‘‘ میں بھی مذکور ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: سفیر الحسین مسلم بن عقیلؓ: صفحہ 50 و ما بعدہا: صفحہ 113 عبدالحسن نور الدین العاملی کہتا ہے: ’’لوگ متفرق ہونا شروع ہو گئے۔ ایک عورت اپنے بیٹے اور اپنے بھائی کے پاس آتی اور کہتی: لوٹ جاؤ لوگ تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور آدمی اپنے بیٹے اور بھائی کے پاس آ کر کہتا کہ کل جب شامی لشکر آ پہنچے گا، تو حرب و شر کا کیا کرو گے؟ اس لیے لوٹ چلو، اور اسے ساتھ لے کر چلتا بنتا۔ غرض لوگ ایک ایک کر کے متفرق ہوتے رہے، حتیٰ کہ مغرب کی نماز میں مسجد میں مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے۔ جب مسلمؒ نے دیکھا کہ اب ان کے ساتھ صرف یہی لوگ رہ گئے ہیں، تو مسجد سے نکل کر ابوابِ کندہ کی طرف چلے۔ جب ابواب کندہ پہنچے، تو صرف دس آدمی ساتھ رہ گئے اور جب ابواب کندہ سے نکلے، تو ساتھ ایک آدمی بھی نہ تھا۔ ‘‘ (مأساۃ احدی و ستین: صفحہ 27))

میں کہتا ہوں یہی وہ بات تھی، جس کا مسلم بن عقیلؓ کو ڈر تھا۔ اسی لیے انہوں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے کوفہ بھیجتے وقت ہی درخواست کر دی تھی کہ مجھے اس مہم سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں۔ اس لیے اگر اس مہم سے مجھے معاف ہی رکھیے تو بہتر ہو گا۔ کیونکہ کوفیوں کا سابقہ رویہ جو انہوں نے ان کے چچا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور چچا زاد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنائے رکھا تھا، ہر وقت ان کی نگاہوں کے سامنے تھا۔ پھر وہی ہوا جس کا مسلمؒ کو ڈر تھا اور مسلم بن عقیلؓ ان سب لوگوں کی نگاہوں کے سامنے قتل کر دئیے گئے، جنہوں نے مسلمؒ کو کوفہ بلایا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے نام پر ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ لیکن کسی نے آگے بڑھ کر مسلمؒ پر ہونے والے اس ظلم کو روکنے کے لیے اپنے بدن پر خراش تک نہ آنے دی۔

عبدالحسین شرف الدین، مسلمؒ کے ساتھ کی جانے والی رسوائے زمانہ غداری کو نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’لیکن انہوں نے (یعنی کوفیوں نے) مسلمؒ کے ساتھ کی ہوئی بیعت کو بعد میں توڑ دیا اور ان کے عقدو ذمہ کو ختم کر دیا اور ان کے ساتھ کیے عہد پر قائم نہ رہے اور ان کے ساتھ کیے عقد کو پورا نہ کیا۔ (واہ موصوف کس طرح تعبیر بدل بدل کر خود اپنے اسلاف کی گھناؤ نی صورت کے ایک ایک نقش کو بیان کر رہا ہے)۔ میرے ماں باپ مسلمؒ پر قربان! کہ انہیں کس قدر خوفناک صورت سے سامنا کرنا پڑا، ان کا کس قدر بے وفاؤں، حقوق کو ضائع کرنے والوں اور ذلت و رسوائی کے سرغنوں سے سابقہ پڑا تھا۔

جب مسلمؒ کو ان کے ساتھیوں نے چھوڑ دیا اور ان کا دشمنوں سے سخت ترین مقابلہ ہوا، تو ان کا ایک نہایت بزرگ و برتر مقام و مرتبہ تھا اور ان کا ایک عظیم معاملہ تھا کہ اوپر نیچے دائیں بائیں سے دشمنوں نے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا، اور وہ اکیلے تن تنہا ان کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے تھے۔ نہ کوئی حمایتی نہ مددگار تھا مگر ان کے کوہِ استقامت میں ذرا لغزش نہ آئی اور ان کے صبر و حوصلہ کے ماتھے پر شکن تک نہ پڑی۔ یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔‘‘ (المجالس الفاخرۃ: صفحہ 62)