مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے قتل کی خوفناک خبر
حامد محمد خلیفہ عمانعباس قمی لکھتا ہے:
’’مسلمؒ کو بھیج کر حسین (رضی اللہ عنہ) انتظار کرنے لگے۔ جب صبح ہوئی، تو آپ نے اپنے نوجوانوں سے کہا: ’’پانی زیادہ لے لو، اور نکل چلو، جب یہ لوگ زبالہ پہنچے تو انہیں عبداللہ بن یقطر کی خبر پہنچی۔ آپ نے اپنے اصحاب کو جمع کیا، ان کے سامنے، آنے والا خط کھولا اور پڑھ کر سنایا۔ خط کی عبارت یہ تھی:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اما بعد! ہمیں یہ جگر پاش خبر پہنچی ہے کہ مسلم بن عقیلؓ، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن یقطر کو قتل کر دیا گیا ہے، ہمارے شیعوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ اب تم میں سے جو بھی لوٹنا چاہے، وہ لوٹ جائے اور اس پر کوئی ملامت نہیں۔‘‘
یہ سن کر جو لوگ تو مالِ غنیمت اور جاہ و منصب کی حرص میں ساتھ لگے ہوئے تھے، متفرق ہو گئے، حتیٰ کہ آپ کے ساتھ صرف آپ کے اہل بیت اور وہی لوگ رہ گئے جو پورے ایمان اور یقین کے ساتھ آپ کے ساتھ نکلے ہوئے تھے۔‘‘ (منتہی الأمال: جلد، 1 صفحہ 462)