افتراء: اُم المومنین جناب سیدہ عائشہؓ کی غلیظ اور لرزہ خیز توہین۔
مولانا ابو الحسنین ہزارویافتراء: اُم المومنین جناب سیدہ عائشہؓ کی غلیظ اور لرزہ خیز توہین۔
(کشف الغمه مصباح الزيت في مناقب اھلِ البيت)
الجواب:
1- رافضی ہمیشہ ایسا موقعہ تلاش کرتا ہے کہ جس سے دھوکہ دے کر اور مذہبی جذبات کی آگ بھڑکا کر اپنے گندے مقاصد پورے کر سکے مذکورہ عنوان ملاحظہ فرمائیے ، یوں لگتا ہے جیسے اس لکھاری سے بڑھ کر سیدہ عائشہؓ کا وفادار اور محب کوئی نہیں اور جن کی کتابوں سے اقتباس نقل کیے ہیں ان کتابوں والوں سے بڑھ کر سیدہ عائشہؓ کا دشمن اور کوئی نہیں گویا آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے مقاصد کی تکمیل رافضیت کا مشن ہے دنیا میں ایک یہی دھوکہ بازی اور مکاری کا فن ہے جس میں رافضی سارے جہاں والوں کے امام ہیں اب ذرا حقیقت حال ملاحظہ فرمائیے اور رافضی مکار کو اس فن مکاری میں کرتب پر داد دیجئے۔
اول کتاب کشف الغمہ میں ایک فقہ کا مسئلہ بیان ہوا کہ جب کسی شخص کی بیوی ایام سے ہو تو شوہر کو اس اپنی بیوی سے کتنی قربت اختیار کرنا جائز ہے چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے ماں ہونے کی حیثیت سے اولاد کو وہ طریقہ ارشاد فرمایا ہے جو رحمت عالمﷺ کے دین میں درست اور جائز ہے نیز اس پر دلیل خود رحمت عالمﷺ کا عمل ہے جیسے بیان کیا ہے اس حلال و حرام کی تفریق اور ازواجی زندگی میں مسنون عمل کے بیان کو رافضی کرتب ساز نے لرزہ خیز توہین قرار دیا ہے حالانکہ شرعیت کے مسائل میں حلال حرام کا علم حاصل کرنا اور تعلیم دینا نہ لرزہ خیز توہین ہے اور نہ ناجائز اور حرام ۔
2- حدیث پاک میں ارشاد ہے طلب العلم فريضة على كل مسلم. علم کا حاصل کرنا ہر مسلم (مرد عورت) پر فرض ہے ۔
(مشکوۃ)
اہلِ علم فرماتے ہیں کہ اتنا علم حاصل کرنا فرض ہے کہ جس سے حلال حرام کا پتہ چل جائے اور حلال حرام کا تعلق جیسے زندگی کے باقی شعبوں میں ہے ازواجی زندگی کے ساتھ بھی ہے۔اگر یہ ازواجی زندگی کا طریقہ اور حلال و حرام کی وضاحت ام المؤمنینؓ نہ فرمائیں گی تو اور کون عورت اس مسئلہ کی وضاحت کر سکتی ہے؟ مذکورہ کتاب میں اس علم کا بیان ہے جس کا تعلق حلال و حرام کے ساتھ ہے اور اس تعلیم میں دلیل طریقہ نبویﷺ ہے تو کیا حلال حرام کی تعلیم دینا لرزہ خیز توہین ہے؟
3- سنجیدہ مزاج شخص تو اس کی ضرورت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکیزہ زندگی گزارنے کے لئے پاک بازوں کی پاک سیرت پاکیزگی حاصل کرنے کا طریقہ ہے مگر جس شخص کا باطن فاسد اور گند سے لبریز ہے وہ ایسے تمام کاموں اور باتوں پر اعتراض کرتا رہتا ہے جس کا جواب قرآن پاک اور احادیث میں مذکور و موجود ہے وہ ان کے پیش رو تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام پر بھی ایسی باتیں کہنا شروع کر دی تھیں جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إن الله لا يستحيى ان يضرب مثلا الخ
(البقره)
کہ بے شک اللہ تعالیٰ ان مثالوں کے بیان فرمانے سے نہیں شرماتا نیز استنجاء میں پاکیزگی حاصل کرنے کا طریقہ رحمت عالمﷺ نے ارشاد فرمایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین تو سنجیدہ مزاج اور ضرورت طہارت سے آگاہ تھے انہوں نے اس کو آپﷺ کا عظیم احسان جانا اور محبت و مؤدت میں اور بڑھ گئے مگر یار لوگوں کے پیش رو اسی انتظار میں بیٹھے تھے انہوں نے فوراً اعتراض داغ دیا کیا یہ تمہارا صاحب کیسا ہے جو تمہیں بیت الخلاء میں بیٹھنے اور وہاں کی ضرورت کے بارے میں باتیں بتاتا ہے گویا . اس عمل کو اس نے اپنے گمان میں لرزہ خیز توھین خیال کیا تو صحابی رسول سیدنا سلمان فارسیؓ نے ترقی سے اس کو جواب ارشاد فرمایا الفاظ روایت ملاحظہ فرمائیں۔
عن سلمانؓ قال قال بعض المشركين و هو يستهزى انى لا رىٰ صاحبكم يعلمكم حتى الخزاءة قلت اجل امرنا ان لا تستقبل القبلة و لا نستنجى بايماننا و لا نكتفى بدون ثلاثة احجار ليس فيها رجيع و لا عظم
(مسلم، مسند احمد)
سیدنا سلیمانؓ فرماتے ہیں کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نے بطور استہزا یہ کہا کہ تمہارے سردار ( آنحضرت ﷺ) کو میں دیکھتا ہوں تو وہ تمہیں ہر چیز سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ میں بیٹھنے کی صورت بھی ! میں نے کہا ہاں آپﷺ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ (استنجے کے وقت) ہم قبلہ کی طرف رخ کر کے نہ بیٹھیں اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء پاک نہ کریں۔ تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کریں اور ان پتھروں میں نجاست (یعنی پاخانہ لید گوبر) نہ ہو اور ھڈی نہ ہو۔“ اب ہر شخص جان سکتا ہے کہ اس طرح کے مخفی مسائل بیان کرنے پر اسے لرزہ خیز توہین خیال کر نیوالے لوگ کون ہیں اور ان مسائل کو سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کیا طرز عمل تھا۔
4- حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: انما انا لكم مثل الوالد لولده اعلمكم اذا اتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها الخ
. بے شک میں (تعلیم و نصیحت کے سلسلہ میں) تمہارے لئے ایسا ہی ہوں جیسا کہ باپ اپنی اولاد کیلئے ہوتا ہے چنانچہ میں سکھاتا ہوں کہ جب تم پاخانہ میں جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پشت کرو ۔
(ابن ماجه دارمی)
معلوم ہوا آپﷺ امت کیلئے باپ ہیں اور باپ ہونے کی حیثیت سے امت کو وہ باتیں بھی تعلیم فرماتے ہیں جنہیں مریضان شرک لرزہ خیز توہین جانتے ہیں یعنی بیت الخلاء کے سارے مسائل بھی ارشاد فرماتے ہیں بعین اسی طرح آپﷺ کی ازواج مطہراتؓ امت کی ماں ہیں مائیں اور باپ دونوں کے ذمہ اولاد کی تربیت اور نقصان دہ احوال سے حفاظت ہے لہٰذا آپﷺ کی طرح آپﷺ کی ازواج مطہراتؓ بالخصوص معلمہ امت سیدہ عائشہ الصدیقہؓ نے باخوبی اپنی روحانی اولاد کی تربیت کی جس طرح مشرکین کو آپﷺ کے اس مربیانہ عمل پر اعتراض تھا اسی طرح ان کی باقیات کو سیدہ عائشہ الصدیقہؓ کی تعلیم و تربیت پر بھی اعتراض ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کا یہ اعتراض درست بھی ہے بلکہ ہر دانا شخص جانتا ہے کہ گھر کی داخلی زندگی میں بھی سیرت طیبہ کو اپنانا اتنا ہی لازمی ہے جتنا کہ خارجی زندگی میں اور ظاہر ہے کہ علم کے بغیر عمل ممکن نہیں لہٰذا ماں کا اولاد کو تعلیم دینا کوئی لرزنے کی بات نہیں عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
5- مصباح الزیت کا اردو میں لکھا ہوا تمام کچھ پڑھ لیجئے ہر شخص پہلو میں دل اور مادہ انصاف اور عقل کا کچھ حصہ رکھتا ہے فرمائیے کیا بیوی سے شوہر کا اظہار محبت کرنا ، اور اپنے والہانہ تعلق کو عملاً ظاہر کرنا توہین کہلاتا ہے؟ حضرت نبی کریمﷺ کو جو سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے غیر معمولی محبت تھی اس کا اظہار آج تک آپؓ کا مسکن بھی بصورت مشاہدہ بتا رہا ہے۔ جس جگہ آپﷺ آرام فرماتے ہیں وہ جگہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی ہے خود تحقیقی دستاویز کے صفحہ 532 پر اعتراف موجود ہے ہمیشہ محبوب اور پیاروں کی جگہ پر آدمی کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ لمحہ لمحہ آپﷺ کا سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے آپ کی محبت پر شاہد ہے مگر رافضی بھلا اُس محبت و پیار کو کہاں برداشت کر سکتا ہے لہٰذا اس انداز محبت کو سیدہ عائشہؓ کی توہین قرار دے ڈالا ۔ واہ رے کرشمے تیرے حسن کے۔ حالانکہ یہیں پر روایت مذکور ہے کہ آپﷺ نے تو اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہراؓ کو بھی یہی فرمایا کہ بیٹی تو بھی سیدہ عائشہؓ سے محبت کر۔
(ترمذی)