Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نو آبادیاتی تعمیر و ترقی اور بحران کا حل

  علی محمد الصلابی

نو آبادیاتی تعمیر و ترقی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کی اور اس میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا گھر شامل کر لیا، توسیع میں دس 10 ہاتھ قبلہ کی طرف، بیس 20 ہاتھ مغرب کی طرف اور ستر 70 ہاتھ شمال کی طرف بڑھایا، اس کی دوبارہ تعمیر کچی اینٹوں اور کھجور کی ٹہنیوں پر کی، اس کے پائے لکڑی سے اور چھت کھجور کی ٹہنیوں سے بنائی، اور چھت کے اوپر کھجور کی پتیاں ڈال دیں تاکہ لوگ بارش سے محفوظ رہیں۔ اسی طرح آپؓ نے مسجد کو رنگ روغن کرنے اور اس میں نقش و نگار کرنے سے منع کر دیا تاکہ لوگوں کی نماز میں خلل نہ واقع ہو۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 227، فتح الباری: جلد 4 صفحہ 98)

شروع سے مسجد نبوی کا فرش مٹی کا تھا، آپ نے پتھروں سے اسے پختہ کرایا تاکہ لوگ صاف اور بہترین جگہ پر نماز ادا کر سکیں۔ 

(اخبار عمر: صفحہ 126)

آپؓ نے مسجد حرام خانہ کعبہ میں بھی معمولی ترمیم کی، مقامِ ابراہیم جو خانہ کعبہ سے متصل تھا، وہاں سے ہٹا کر آج ہم جس جگہ پر اسے دیکھ رہے ہیں وہاں منتقل کر دیا تاکہ طواف کرنے والوں اور نمازیوں کے لیے آسانی ہو جائے اور اس کے اوپر سائبان تعمیر کیا۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 227، فتح الباری: جلد 8 صفحہ 169)

آپؓ نے حرم مکی سے متصل مکانات کو خرید کر انہیں منہدم کیا اور اس جگہ کو حرم مکی میں شامل کر دیا، مسجد حرام کے کچھ پڑوسیوں نے اپنے مکانات کو فروخت کرنے سے انکار بھی کیا لیکن آپ نے ان مکانوں کو بھی گروا دیا، اور ان کا معاوضہ دیا جسے انہوں نے بعد میں قبول کر لیا۔ آپؓ نے قد آدم سے کچھ نیچے تک حرم کے چاروں طرف چہار دیواری بنوائی، اس دیوار پر روشنی کے لیے چراغ رکھا جاتا تھا۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 126، عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 227)

زمانۂ جاہلیت میں غلاف کعبہ چمڑے کا بنایا جاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر یمنی کپڑے کا غلاف ڈالا، اور حضرت عمرؓ نے اسے ’’قباطی‘‘ غلاف پہنایا، 

(اخبار عمر: ازرفی: جلد 1 صفحہ 253، أخبا رعمر: صفحہ 126)

جو مصر کا بنا ہوا نہایت باریک اور سفید کپڑا ہوتا تھا۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 228)

اسی طرح خلافت فاروقی کے نو آباد شہروں میں مسجدیں تیار کی گئیں، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کوفہ کی جامع مسجد اور حضرت عمرو بن عاصؓ نے فسطاط کی جامع مسجد کا نقشہ تیار کیا اور انہیں تنظیم سے بنوایا۔ یہ بڑی بڑی مساجد نماز، باہمی تعارف، تعلیم و تعلم اور عدلیہ نیز خلیفہ و حکام کے فرامین اخذ کرنے کے کام آتی تھیں۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 228)