سڑکوں اور خشکی و سمندری وسائل نقل و حمل کا اہتمام
علی محمد الصلابیاسلامی مملکت کی مختلف ریاستوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیت المال سے ایک فنڈ خاص رقم متعین کیا تھا، اور جن لوگوں کے پاس سواریاں نہ تھیں انہیں جزیرہ، شام اور عراق تک کے سفر میں آسانی پیدا کرنے کے لیے آپؓ نے بہت زیادہ اونٹوں کو مسافروں کو لانے لے جانے کے لیے خاص کر دیا تھا، کیونکہ اونٹ ہی اس وقت سواری کے لیے استعمال ہوتے تھے اسی طرح ستو تیار کرنے، کھجور اور کشمش کو قابل استعمال بنانے، نیز روز مرہ کی دیگر ضروریات زندگی کے لیے ایک دارالدقیق، یعنی آٹا گھر تیار کرایا، ایسے مسافر جن کا زاد سفر بیچ میں ختم ہو جاتا یا کوئی اجنبی مہمان آ جاتا تو اسی سے اس کا تعاون کرتے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان کئی سرائیں اور پانی کے چشمے تیار کروائے، گویا قرآن کے اصول عمرانیات پر حضرت عمرؓ کی گہری نظر تھی جس میں انسانی آبادیوں کا ایک دوسرے سے ربط ضروری قرار دیا گیا ہے کہ جب یہ ربط موجود ہو گا تو امن کا رواج ہو گا اور مسافروں کو اپنے ساتھ آب و دانہ لے کر چلنا ضروری نہ ہو گا۔
(الدور السیاسی: صفوۃ: ص 189، 190 )
قبائل، امراء اور گورنروں کو عمرانیات سے متعلق فاروقی توجیہات اسی نقطہ پر مرکوز تھیں۔ کثیر بن عبداللہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ 17ھ میں حضرت عمرؓ کے عمرہ کے سفر میں ہم آپؓ کے ساتھ تھے، راستے میں چشموں کے بعض مالکان نے آپؓ سے گفتگو کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان مکانات تعمیر کر لیں، جو اس سے پہلے نہیں تھے، آپ نے ان کو اس شرط پر اجازت دی کہ مسافر لوگ پانی اور سائے کے زیادہ حق دار ہوں گے، (الاحکام السطانیۃ: الماوردی: صفحہ 187،188) یعنی انہیں منع نہ کیا جائے۔
اس باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپؓ نے سٹرکیں بنانے اور ان کی مرمت کرنے سے متعلق اپنے بعض گورنروں کو لکھا کہ اس کا اہتمام مفتوحہ ممالک کی اقوام کریں گی، چنانچہ جب نہاوند فتح ہوا تو دو آبی چشموں یعنی چشمۂ بہرذان اور چشمۂ دینار کے لوگ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ جزیہ کے بدلہ انہیں امان دے دی جائے، تو آپ نے دونوں چشموں کے لوگوں سے جو معاہدہ کیا تھا وہ یہ تھا:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، حذیفہ بن یمان کی طرف سے چشمۂ دینار کے لوگوں کے لیے یہ عہد نامہ ہے: حذیفہ نے ان کے جان ومال اور زمینوں کو امان دے دی ہے، یہ لوگ تبدیلی مذہب پر مجبور نہ کیے جائیں گے، ان کو اپنی شریعت پر عمل کرنے کی آزادی ہو گی، ان کا ہر بالغ فرد اپنی طاقت کے مطابق ہر سال اپنے مسلم حکمران کو جب تک جزیہ ادا کرتا رہے گا اسے پوری طرح حفظ و امان حاصل ہو گا۔
(أشہر مشاہیر الإسلام: جلد 2 صفحہ 342)
یہ لوگ بھٹکے مسافروں کو راستہ دکھائیں گے، سٹرکوں اور راستوں کی اصلاح خود کریں گے، جو مسلمان فوجی ان کے پاس سے گزریں گے یا ان کے پاس ٹھہریں گے یہ لوگ ان کی مہمان نوازی کریں گے، اور مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں گے، لیکن اگر دھوکا دیا اور عہد نامہ کو بدل دیا تو ہمارا معاہدہ ان سے ختم ہے۔‘‘
یہ معاہدہ محرم 19ھ میں لکھا گیا اور اس پر قعقاع بن عمرو اور نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے دستخط کیے۔
(أشہر مشاہیر الإسلام: جلد 2 صفحہ 342)
اس عہد نامہ سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ حضرت عمرؓ کے افسران و گورنران اصول و تہذیب اور ملکی سیاست سے بخوبی واقف تھے، عمرانیات یعنی آباد کاری کے لوازم کو وہ جانتے تھے، اور اسی وجہ سے مفتوحہ ممالک کی اقوام پر واجب ہوتا تھا کہ وہ سڑکیں اور راستے جو تاجروں اور افواج کے لیے معاون ہوتے ہیں، بنانے کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ 16ھ ہی سے حضرت عمر فاروقؓ کی تمام تر توجہات عراق میں شہروں کو بسانے، نہریں کھدوانے اور پل بنانے پر مرکوز رہیں۔
(أشہر مشاہیر الإسلام: جلد 2 صفحہ 342)
اور عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ’’رہا‘‘ والوں سے جو معاہدہ کیا تھا اس کا مضمون یہ تھا:
’’بسم اللہ، یہ عہد نامہ عیاض بن غنم کی طرف سے ’’رہا‘‘ کے پادریوں کے لیے ہے، اگر تم نے میرے لیے شہروں کے دروازے کھولے اور یہ اقرار کیا کہ ہر آدمی کی طرف سے بطور جزیہ ایک دینار اور دو مد گیہوں دو گے، تو تم اور جو تمہارے ساتھ ہیں سب کی جان و مال کو امان ہے، تمہارے لیے ضروری ہے کہ بھٹکے مسافروں کو راستہ دکھاؤ گے، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر کرو گے، مسلمانوں کے خیر خواہ رہو گے، اور اللہ گواہی کے لیے کافی ہے۔‘‘
(أشہر مشاہیر الإسلام: جلد 2 صفحہ 346 )
جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ کسی زمانے میں دریائے نیل سے بابلیون کے قلعہ کے قریب بحر احمر تک ایک کھاڑی بہتی تھی جو حجاز کو مصر سے ملاتی تھی اور وہی تجارت کا راستہ تھا، لیکن رومیوں نے اس کو اہمیت نہ دی اور وہ پٹ گئی، تو آپؓ نے مصر کے گورنر عمرو بن عاصؓ کو حکم دیا کہ اس کھاڑی کی دوباری کھدائی کرائیں، چنانچہ آپؓ نے اسے دوبارہ کھدوایا اس طرح حجاز اور مصر کے دارالحکومت فسطاط کے درمیان کا راستہ آسان ہو گیا اور دونوں سمندروں کے درمیان تجارت کی خوشحالیاں بحال ہو گئیں۔ فسطاط میں اس کھاڑی کے کنارے تفریح گاہیں، باغات اور خوب صورت مکانات بنائے گئے، اور حضرت عمرو بن عاصؓ نے اس کھاڑی کا نام ’’خلیج امیر المؤمنین‘‘ رکھا۔
(الفاروق عمر: الشرقاوی: صفحہ 254، 255)
قحط سالی کے ایام میں مصر کے گورنر نے اس راستے سے مدینہ اور مکہ تک غلہ بھجوایا، اور اللہ تعالیٰ نے اس خلیج کے ذریعہ سے حرمین کے باشندوں کو بہت فائدہ پہنچایا، پھر ہمیشہ اسی راستے سے حرمین تک غلہ وغیرہ پہنچایا جاتا رہا، یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور تک یہی راستہ اختیار کیا، لیکن آپ کے بعد امراء و حکام نے یہ راستہ چھوڑ دیا، اور کھاڑی ریت سے بھر گئی اور بحر قلزم کی طرف سے ذنب التمساح تک آ کر یہ خلیج ختم ہو گئی۔
(أخبار عمر: صفحہ 127)
عراق کے نشیبی علاقہ سے بصرہ تک تین فرسخ کی لمبائی میں آپ نے نہر کھدوائی تاکہ دجلہ کا پانی بصرہ تک پہنچایا جا سکے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 230)
حضرت عمرؓ کے دور میں نہریں کھودنے، کھاڑیاں تیار کرنے، سٹرکیں، پل، اور سرحدیں بنانے میں ملک کا بہت بڑا بجٹ خرچ ہوتا تھا۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 230)