افتراء: سیدہ عائشہؓ پر گنہگاری کا الزام
مولانا ابو الحسنین ہزارویافتراء: سیدہ عائشہؓ پر گنہگاری کا الزام
(مصنف ابن ابی شیبہ)
مقام مذکورہ جس کو محل اعتراض قرار دیا گیا ہے وہ حضرت ام المومنینؓ کا یہ فرمانا ہے کہ جب آپؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ مجھے ازواج مطہرات کے ساتھ دفن کرنا (روضہ اطہر میں دفن نہ کرنا کیوں) کہ میں نے ایک نئی بات ایجاد کی ہے.
الجواب
1- سیدہ عائشہؓ کا روضہ اطہر میں مدفون نہ ہونا دو وجوہ کی بنا پر ہے۔
1۔ روضہ اطہر میں سیدنا عمرؓ جو غیر محرم تھے ان کی تدفین ہوگئی تھی لہٰذا مناسب نہ ہوا کہ ان کی تدفین وہاں ہو بلکہ یہی مناسب جانا کہ باقی ازواج مطہرات کے ساتھ بقیع میں مدفون ہوں۔
2۔ روایات میں موجود ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی جگہ روضہ اطہر میں باقی ہے یہ جگہ چونکہ حضرت عیسیٰؑ کے لئے ہے لہٰذا فرمایا کہ میری تدفین بقیع میں دیگر ازواج مطہرات کے ساتھ کرنا باقی رہا آپؓ کا افسوس فرمانا اور جمل کے واقعہ پر دُکھ کا اظہار فرمانا تو یہ اہلِ کمال کا شیوہ ہوا کرتا ہے کہ اگرچہ ان کا قصد اس جنگ کا نہ تھا سبائیوں کی شاطرانہ چال سے جنگ وقوع پذیر ہوئی جس میں اصحاب رسولﷺ کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی اس نقصان پر وہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرا کر رجوع الی اللہ اور استغفار کا اہتمام کرتے ہیں, چنانچہ سیدہ عائشہؓ کا اظہار افسوس اسی قبیل سے ہے ورنہ ان کا کوئی جرم یا جنگ کرنے کا ارادہ بالکل نہ تھا۔
2- بعض کرم فرماؤں کی عادت محض ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہنے کی ہوتی ہے اگر کوئی کرم فرما ضد پر اَڑ جائے کہ نہیں جی جب سیدہ عائشہؓ اظہار افسوس فرما رہی ہیں تو ضرور ان کا قصور تھا ورنہ جس کا قصور نہ ہو تو وہ بھلا افسوس اور حزن و ملال کا اظہار کرتا ہے؟ ہم عرض کرتے ہیں کہ اگر یہی بات ہے تو پھر سیدنا علیؓ کا یہ فرمان کس نظر سے دیکھا جائے گا جبکہ آپؓ جنگ کے بعد بے حد اضطراب میں تھے اور فرماتے تھے:
يا ليت امي لم تلدنى و ليت اني مت قبل اليوم (التاریخ الکبیر جلد 3 صفحہ 384،کتاب السنہ صفحہ196)
"یعنی کاش مجھے میری ماں نے نہ جنا ہوتا، کاش آج کے دن سے پہلے ہی میں فوت ہو چکا ہوتا"۔ اضطراب و پریشانی کے عالم میں آپؓ یہ ارشاد فرماتے تھے اور باہمی جنگ کے نقصان پر بہت دکھ کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔
سچ یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کا نقصان کسی کو لمحہ بھر کے لئے بھی برداشت نہیں تھا مگر سبائی ٹولہ فریقین میں لڑائی کی آگ کو بھڑکا رہا تھا جس کا کسی کو بھی علم نہ ہو سکا لہٰذا یہ جملہ بھی اظہار افسوس کا ہے جو جنگ کے اس نقصان پر تھا جو مسلمانوں میں وقوع پذیر ہوا۔
3- حواب کے کتوں والی روایت بھی رافضیوں نے بصورت الزام نقل کر دی ہے اور اسے گناہ کاری کا الزام کے عنوان سے نقل کیا ہے حالانکہ الفاظ روایت پر غور کرنے سے ہی بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ جب پتہ چلے کُتے بھونک رہے ہیں اور یہ مقامِ حواب ہے تو آپؓ نے فرمایا مجھے واپس لوٹاؤ لیکن قافلہ والوں میں سے کوئی راضی نہ ہوا آپؓ نے فرمایا مجھے واپس لے چلو حضرت طلحہؓ و زبیرؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں انہوں نے عرض کیا
فیصلح اللہ ذات بینھم کہ(آپؓ ضرور تشریف لے چلیں شاید) اللہ تعالی آپؓ کی برکت سے ان مسلمانوں کے درمیان صلح کروادے لہٰذا ان حضرات کے اصرار پر آپؓ تشریف لے گئیں نیز جیسا کہ حدیث سے بصراحت معلوم ہو رہا ہے کہ یہ سفر ارادۂ جنگ سے نہ تھا بلکہ ان تمام حضرات کا ارادہ صرف صلح کا تھا سیدہ عائشہؓ بھی اسی نیک ارادہ سے اُن کے ساتھ روانہ ہوگئیں ورنہ اگر جنگ یا جو کچھ ہوا اس کا علم پہلے سے ہوتا تو آپؓ کبھی بھی تشریف نہ لے جاتیں۔ لہٰذا یہ روایت سیدہ عائشہؓ کے۔
1- ارادہ صلح
2- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اصرار اور جذبہ اصلاح پر دلالت کرتی ہے۔
3- آپؓ نے حواب نامی جگہ کا سن کر واپسی کا ارادہ فرمایا اور اصرار بھی کیا مگر اہلِ قافلہ کے اصرار کی وجہ سے اور یہ بتائے جانے کی وجہ سے کہ یہ حواب نامہ جگہ نہیں آپ قافلے کے ساتھ چل دیں تو اس سے گناہگار کا الزام کہاں سے نکل آیا؟
ظلم یہ ہے کہ بات کچھ ہوتی ہے اور بنا کچھ دیا جاتا ہے۔ اِس طرح کی ظالمانہ حرکتیں اعمال نامہ کی سیاہی میں اضافہ ہوسکتی ہیں تحقیقی یا طلب حق کی تفتیش نہیں ہو سکتی۔