سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر
علی محمد الصلابیعہد فاروقی میں فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ اسلامی ریاست نے اپنی سرحدوں پر چھوٹے چھوٹے شہر بسائے، مواصلات و روابط کے راستوں کو آسان کیا، زمینوں کی اصلاح کی، اور لوگوں کو رغبت دلائی کہ ہجرت کر کے جہادی مراکز کے پاس سکونت اختیار کریں، اسلام کی نشر و اشاعت اور مجاہدین کو نفری قوت و سامان جنگ پہنچانے کے لیے مفتوحہ شہروں کی طرف منتقل ہو جائیں۔ اس دوران میں جو سب سے اہم شہر بسائے گئے، (اقتصادیات الحرب فی الإسلام: دیکھئے غازی بن سالم: صفحہ 245) وہ بصرہ، کوفہ، موصل، فسطاط، جیزہ اور سرت تھے۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: دیکھئے جمیل المصری: صفحہ 33، 340)
اسلامی افواج کے قبائل اور جھنڈوں کے اعتبار سے مکانات تیار کیے گئے اور ان شہروں کی منصوبہ بندی اور توزیع لشکر اسلام کے قبائل اور بٹالین کے اعتبار سے کی گئی۔ نیز ان شہروں میں رفاہ عام کی تعمیرات مثلاً مسجدیں اور بازار بھی بنائے گئے، ہر شہر کے لیے ایک چراگاہ بنائی گئی جس میں مجاہدین کے گھوڑے اور اونٹ چر سکیں۔ آپؓ نے لوگوں کو رغبت دلائی کہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر حجاز کے شہروں اور جزیرہ عرب کے دور دراز علاقوں کو چھوڑ کر ان شہروں میں آباد ہو جائیں تاکہ یہ شہر فوجی اڈوں کا کام کریں، یہاں مجاہدین کا لشکر تیا رکیا جائے اور اسے مدد بہم پہنچائی جائے تاکہ وہ دشمن کی سرزمین میں اندر تک گھس جائیں اور وہاں اسلام کی دعوت دیں، آپؓ نے ان شہروں کا خاکہ تیار کرتے وقت فوجی کمانڈروں کو حکم دیا تھا کہ دارالحکومت سے ان شہروں تک بہترین سٹرک تیار کی جائے، درمیان میں سمندر و دریا حائل نہ ہوں، اس لیے کہ آپؓ اس وقت سمندری سواری سے عربوں کی عدم واقفیت سے ڈرتے تھے۔ لیکن جب مصر میں اسلامی افواج کا مشاہدہ کر لیا کہ ان میں دریائی و سمندری راستوں کو پار کرنے کی صلاحیت ہے تو حضرت عمرو بن عاصؓ کو کھاڑی کی شکل میں وہ نہر کھودنے کی اجازت دے دی جو دریائے نیل اور بحر احمر کے درمیان بہنے لگی اور اسی راستے سے غلہ وغیرہ کی امداد مصر سے حجاز پہنچائی جانے لگی۔
(اقتصادیات الحرب فی الإسلام: صفحہ 245)
اسلامی سلطنت کی حدود میں وسعت، فتوحات کی کثرت اور مسلمانوں کی آبادیوں میں طویل مسافت کے پیشِ نظر حضرت عمرؓ نے شہروں کو بسایا، اور مجاہدین کا لشکر تیار کیا، اور افواج کو ایسی جگہوں کی ضرورت بھی تھی جہاں وہ سفر کی تکان دور کر سکیں، ٹھنڈ کے موسم میں رک سکیں، اور جنگ سے واپس ہو کر وہاں آرام کر سکیں، دراصل شہروں کے بسانے کے یہی حقیقی اسباب تھے۔
چوں کہ اسلامی فتوحات کا بنیادی مقصد اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت، افراد، جماعت اور اقوام تک اس کی تبلیغ ہے اس لیے اسلامی زندگی کا ایسا تصور دینا ضروری تھا جسے غیر مسلم افراد، جماعتیں اور قومیں محسوس کریں، چنانچہ اسلامی شہروں کو اسلامی طرز پر بنایا اور آباد کیا گیا جن میں پوری اسلامی زندگی کا عکس بطور نمونہ دیکھا جا سکتا تھا۔ کوفہ، بصرہ، فسطاط اور موصل اسلامی شہر تھے، ہر شہر کے بیچ میں ایک جامع مسجد بنائی گئی، اور اس کے اردگرد مجاہدین اسلام کے مکانات تعمیر ہوئے، اس طرح ان مثالی معاشروں میں اسلامی فکر و قوت مکمل طور سے کار فرما رہی، ایسی اسلامی قوت جسے ہر فوجی میں دیکھا جا سکتا تھا، اور ایسی فکر جو کتابِ الہٰی کی ترجمان تھی، ایسا کامل اسلامی معاشرہ تھا جو اپنے تمام تر معاملات میں اسلامی احکامات کو نافذ کرتا تھا، ہمیشہ اللہ کے راستے میں جان کی قربانی دینے کو تیار رہتا تھا، انہی معاشروں سے اسلام مفتوحہ شہروں پر سورج بن کر طلوع ہوا اور اپنے ماننے والوں کو سیدھا راستہ دکھایا، اپنے فیصلوں میں عدل و انصاف کا عملی نمونہ پیش کیا، اور جس نے اسلام قبول کیا اسے اپنے میں شامل کیا، دعوت الی اللہ اور غیر مسلموں کو اسلامی دعوت دینے کا یہی سب سے کامیاب ترین اسلوب ہے۔
شام میں اسلامی شہروں کو نئے سرے سے نہیں آباد کیا اس لیے کہ وہاں سے بھاگ کر جانے والے رومیوں کے مکانات پہلے سے خالی پڑے تھے، اس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا اور وہ مکانات انہیں مالِ غنیمت کے طور پر ملے، جس کی وجہ سے انہیں نئے مکانات بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں پہلے سے عربوں کی کافی آبادی تھی، ہر قبیلے کے اقرباء موجود تھے، اور اسی وجہ سے شام میں اسلامی افواج بھی زیادہ تھیں۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: دیکھئے جمیل المصری: صفحہ 333)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جو اہم شہر بنائے و بسائے گئے ان کی تفصیل یہ ہے:
شہر بصرہ:
بصرہ کا لغوی معنی ہے کنکریلی پتھریلی سخت زمین، اور کچھ لوگوں کے نزدیک صرف کنکریلی زمین کو بصرہ کہا جاتا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ سفید کچے پتھر کو بصرہ کہا جاتا ہے۔ بہرحال بصرہ ایک شہر ہے جو دجلہ و فرات کے کنارے واقع ہے۔ اسے ’’شط العرب‘‘ کہا جاتا ہے۔
(الفاروق عمر بن الخطاب: محمد رشید رضا: صفحہ 177)
اور شہر بصرہ کو بناتے اور آباد کرتے وقت عربوں کی بود و باش اور ان کے مزاج کے متعلق فاروقی نظریہ کی پوری رعایت کی گئی، چنانچہ اس کا محل وقوع پانی اور چراگاہ کے قریب، خشکی کے راستے پر ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہاں مسلمانوں کی آمد کی وجہ یہ تھی کہ قطبہ بن قتادہ الذہلی یا دوسری روایت کے مطابق سوید بن قطبہ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ کے ایک علاقے سے اہل فارس پر حملہ آور ہوئے تھے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو اس علاقے کا حاکم اور کمانڈر بنا دیا، لیکن جب حضرت عمرؓ نے خلافت کی ذمہ داری اٹھائی تو عتبہ بن غزوانؓ جو السابقون الاولون میں سے تھے، کو وہاں کا والی وکمانڈر بنا کر بھیج دیا اور ان سے کہا کہ اہواز، فارس اور میسان والوں تک ان کے کافر بھائیوں کی مدد نہ پہنچنے دینا، اور قطبہ یا سوید سے کہا کہ فوج لے کر عتبہ سے جا ملو۔ چنانچہ عتبہ سو مجاہدین کو لے کر ان سے مورچہ لینے کے لیے آگے بڑھے اور قطبہ اپنے ساتھ بکر بن وائل اور تمیم کے لوگوں کو لے کر عتبہ سے جا ملے، اس طرح یہ اسلامی لشکر ربیع الاوّل یا ربیع الآخر 14ھ میں بصرہ میں اترا۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 333)
بصرہ پہنچ کر حضرت عتبہؓ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسے شہری آبادی میں بدلنے کے بارے میں مشورہ لیا، آپؓ نے ان کو حکم دیا کہ فوج لے کر ایسی جگہ ٹھہریں جہاں سے پانی اور چراگاہ قریب ہو۔ عتبہ کی نگاہ انتخاب بصرہ پر پڑی اور اس سلسلے میں آپ نے عمر بن خطابؓ کو لکھا کہ مجھے خشکی کے علاقے میں ایک سرسبز زمین مل گئی ہے، اس کے دوسری طرف پانی کے دریا ہیں ان میں گھاس پھوس اور بانس وغیرہ ہیں آپؓ نے جواب میں لکھا کہ ٹھیک ہے وہیں قیام کرو۔ چنانچہ حضرت عتبہؓ نے وہیں افواج اتاریں، اور بانس کی کھپچیوں اور گھاس پھوس سے وہاں مسجد بنائی، مسجد سے الگ ایوانِ حکومت بنائے بانس کی کثرت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں نے بانسوں ہی کی مزید سات جھونپڑیاں بنائیں، جب غزوہ کے لیے جاتے تو انہیں اکھاڑ کر رکھ دیتے، پھر جب غزوہ سے واپس آتے تو دوبارہ انہی بانسوں کا چھپر وغیرہ بنا کر جھونپڑی تیار کر لیتے۔ ایک مرتبہ ان مکانات میں آگ لگ گئی اور سب کو جلا کر خاکستر کر دیا تو وہاں کے لوگوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کچی اینٹوں کے مکانات بنانے کی اجازت مانگی، آپ نے 17ھ میں عتبہؓ کی وفات کے بعد ابو موسیٰ اشعریؓ کے دور امارت میں اس بات کی اجازت دے دی۔ ابو موسیٰ اشعریؓ نے مسجد اور ایوانِ حکومت کو گارے اور کچی اینٹوں سے بنوایا اور چھت کے لیے بانسوں کے چھپر استعمال کیے، پھر بعد کے ادوار میں ان دونوں کو پختہ مکانات کی شکل میں تیار کرایا گیا۔
مختلف قبائل کے لیے الگ الگ احاطہ کھینچ کر انہیں مکانات دئیے گئے انہوں نے بصرہ کی سب سے بڑی سٹرک کو ساٹھ 60 ہاتھ چوڑی اور دوسری عام سٹرکوں کو بیس 20 ہاتھ چوڑی، جب کہ گلیوں کو صرف سات 7 ہاتھ کی چوڑائی میں بنایا، اور ہر احاطہ کے بیچ میں اصطبل اور قبرستان کے لیے ایک کشادہ زمین خالی چھوڑ دی اور گھروں کو قریب قریب بنایا۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 334)
حضرت عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو حکم بھیجا کہ بصرہ والوں کے لیے ایک نہر کھودیں، چنانچہ آپؓ نے تین فرسخ لمبی نہر ’’اَبلہ‘‘ سے بصرہ تک کھدوائی۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 334)
گویا مسلم قوم شہروں کی آبادکاری اور پلاننگ کرنے والے انجینئروں کا ہر اول دستہ ہے۔
’’ابلہ‘‘، ’’دست‘‘، اور ’’میسان‘‘ کی فتوحات کے بعد بصرہ کی اقتصادی حالت کافی بہتر ہو گئی
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: ص 334)
اور دوسرے مقامات سے بھی آ کر لوگ وہاں آباد ہونے لگے، چونکہ بصرہ کے اولین شہری خالص طالب جہاد تھے اور بعد کے لوگ خالص طالب مال، اس لیے مختلف قبائل، دولت کے حریص اور متعدد قسم کے تاجران وہاں آ کر بس گئے اور وہاں کی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 334)
شہروں کو بساتے اور آباد کرتے وقت جو فوجی و اقتصادی پالیسیاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تھیں علمائے محققین ومؤرخین نے انہیں ان نکات میں پیش کیا ہے:
سر زمین عرب کی آخری سرحد پر بالائی علاقہ میں عجم کی سرزمین سے بالکل متصل ان شہروں کو بسایا گیا، تاکہ یہ شہر عربوں کے لیے محفوظ و مضبوط قلعوں کا کام کریں، اور عجم اس راستہ سے حملہ آور ہونے کی کوئی بھی تمنا نہ کریں۔
ان شہروں کے محل وقوع کا عربوں کی سکونت کے لیے موزوں ہونا کیونکہ اس وقت وہی جہاد فی سبیل اللہ کے روح رواں تھے، انہیں ایسے ہی مقامات راس آتے تھے جہاں اونٹوں کے لیے چراگاہیں ہوں، جیسا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی وضاحت کی تھی۔
ان شہروں کو بساتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ ایک طرف سرزمین عرب کے خشکی کے علاقوں سے ان کا تعلق ہو تاکہ عربوں کو اپنے مویشیوں کے لیے چراگاہیں میسر ہوں جب کہ دوسری طرف اس بات کی رعایت کی گئی کہ سرزمین عجم کے دیہی سرسبز علاقوں سے بھی ان کی سرحدیں متصل ہوں تاکہ پھل، غلہ جات، دودھ، اور اونی کپڑے وغیرہ دیہی پیداواری مصنوعات اندرون شہر آ سکیں۔ بصرہ کی زمین سے متعلق جب حضرت عمرؓ نے عتبہ بن غزوانؓ
کو ہدایت بھیجیں تو لکھا کہ یہ خطہ کافی زرخیز ہے، دریاؤں، چراگاہوں اور ہری بھری جھاڑیوں کے قریب ہے۔
(فتوح البلدان: البلاذری؛، صفحہ 341)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس موقع و منظر کا منتخب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی جنگی سیاست کافی محفوظ اور آبادکاری کی تنظیم و تخطیط عکافی دقیق تھی اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ علاقہ جنگ و عدم جنگ دونوں حالتوں میں کارآمد ثابت ہو۔
بہرحال اس منصوبہ بند نو آبادیاتی نظام کے ذریعہ سے آبی وسائل اپنے دائرہ تحفظ میں آ گئے اور لکڑی جیسی گھریلو ضروریات اور غذائی اجناس کی درآمد ہونے کا راستہ بالکل صاف ہو گیا جو ہر شہری کی اہم ضروریات زندگی میں داخل ہیں۔
اس بات کی مکمل تحقیق کی گئی کہ دارالخلافہ سے محاذ جنگ تک امداد پہنچنے میں کوئی قدرتی رکاوٹ مثلاً سمندر وغیرہ نہ حائل ہوں۔
(فتوح البلدان: صفحہ 275)
یاد رہے کہ اسلامی لشکر میں قبائلی تنظیم کی رعایت کرتے ہوئے ہر قبیلہ کے لیے الگ الگ خطے بھی خاص کیے گئے تھے اور ہر قبیلہ کے مکانات قریب قریب رکھے گئے تھے۔
(اقتصادیات الحرب فی الإسلام: صفحہ 247)
شہر کوفہ:
تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس شہر کے مؤسس اول ہیں انہوں نے ہی اس جگہ کا انتخاب کیا تھا اور مدائن کے محاذ جنگ پر اہل فارس سے مسلمانوں کی فاتحانہ معرکہ آرائی کے کافی عرصہ بعد آپؓ نے اس کا خاکہ بنانے کا حکم دیا تھا، بصرہ کی تنظیم و آبادکاری کے وقت جو حکمت عملی اپنائی گئی بالکل وہی حکمت عملی یہاں بھی اپنائی گئی کیونکہ اس جگہ کے انتخاب یا یہاں کے مجاہدین کو خیمہ زن کرنے میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے سامنے فوجی اسباب و مصلحتیں سب سے اہم تھیں۔
(دراسات فی تاریخ المدن العربیۃ الإسلامیۃ: دیکھئے عبدالجبار ناجی: صفحہ 183 )
چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رہنمائی و ہدایات کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے شہر کوفہ کی داغ بیل ڈالی، اور اسے بسانے و منظم کرنے میں خود کو فاروقی نظریہ تنظیم و آباد کاری کے تابع کر دیا، دراصل شہر کوفہ کو بسانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جب حضرت عمرؓ نے قادسیہ اور مدائن کے محاذ جنگ سے فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ لوٹنے والے مجاہدین کے چہروں کے رنگ و روپ کو بدلا ہوا دیکھا تو آپؓ کو محسوس ہوا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی آب و ہوا ان کو راس نہیں آئی ہے، پھر آپؓ نے سعد بن ابی وقاصؓ کو خط لکھ کر یہ حکم دیا کہ ان مجاہدین کی رہائش کے لیے ایسی جگہ منتخب کریں جہاں کی آب و ہوا ان کے اور ان کے مویشیوں کے موافق ہو اور سلمان فارسیؓ نیز حذیفہ بن یمانؓ کو جو اسی قسم کے کاموں پر مامور تھے رہنما بنا کر بھیجا۔ وہ دونوں مناسب مقام تلاش کرتے ہوئے کوفہ پہنچے جو کہ ’’حیرہ‘‘ اور دریائے ’’فرات‘‘ کے درمیان واقع ہے، اسے کوفہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی زمین ریتیلی اور کنکریلی ہے اور ہر ایسی جگہ جو ریتیلی و کنکریلی ہو اسے عربی میں کوفہ کہتے ہیں۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 335)
چنانچہ اس خط کو پا کر سعد بن ابی وقاصؓ محرم 17ھ میں مجاہدین کو لے کر مدائن سے کوفہ منتقل ہو گئے، سیدنا عمر فاروقؓ کی یہ خواہش تھی کہ مسلمان خیموں کو اپنی رہائش گاہ بنائیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ طرزِ سکونت ان کے جنگی مفاد میں کافی متعاون، دشمنوں کو مرعوب کرنے میں کافی مؤثر اور سنگین حالات میں انہیں پیچھے ہٹنے یا دارالخلافہ واپس بلانے میں اہم کردار ادا کر سکتی تھی، ہر چند کہ آپ ایسی ہی رہائش گاہ کے خواہاں تھے، لیکن جب کوفہ اور بصرہ کے باشندوں نے بانس اور نرکل کے مکانات بنانے کی آپؓ سے اجازت مانگی تو آپؓ نے ان کو روکنا پسند نہ کیا اور اجازت دے دی، اور ان لوگوں نے سرکنڈے اور بانسوں کی جھونپڑیاں اور مکانات بنا لیے، لیکن ایک مرتبہ جب کوفہ اور بصرہ میں بھیانک آگ لگ گئی تو یہ سارے مکانات بھی جل کر خاکستر ہو گئے، اس وقت وہاں کے لوگوں نے حضرت عمرؓ سے کچی اینٹ اور گارے کے مکانات بنانے کی اجازت مانگی، تو آپؓ نے کہا: ٹھیک ہے، بنا لو۔ البتہ اونچی عمارتیں اور تین کمروں سے زیادہ نہ بنانا، اور عتبہؓ و اہل بصرہ کے نام بھی اسی طرح کا خط ارسال کیا۔
اور بصرہ والوں کو بسانے، نیز اس کی آبادکاری کی نگرانی ابو الجرداء عاصم بن الدلف کو سونپی، جب کہ کوفہ والوں کو بسانے اور ان کی آباد کاری کی ذمہ داری ابو ہیاج بن مالک اسدی کے سپرد کی۔ چنانچہ ابو ہیاج نے فاروقی منصوبہ بندی کے مطابق کوفہ کی آبادکاری کا کام شروع کیا، حضرت عمرؓ نے شہر کوفہ کا خاکہ یوں تیار کیا تھا کہ اس کی بڑی سٹرکیں چالیس 40 ہاتھ چوڑی اور اس سے چھوٹی تیس 30 ہاتھ چوڑی اور سب سے چھوٹی سٹرکیں بیس 20 ہاتھ چوڑی ہوں، گلیاں سات 7 ہاتھ سے کم کی چوڑائی میں نہ ہوں، جب کہ آباد سیکٹروں کی چوڑائی ساٹھ 60 ہاتھ ہو۔ شہر کوفہ کا خاکہ تیار کرتے وقت سب سے پہلے جامع مسجد کی جگہ متعین کی گئی، بایں طور کہ کوفہ کے بیچوں بیچ قلب میں ایک طاقتور تیر انداز کھڑا ہوا، اور اس نے اپنے دائیں بائیں، آگے پیچھے، پوری طاقت سے تیر پھینکا، اور جہاں وہ تیر واقع ہوئے اس کے پیچھے لوگوں کو مکانات بنانے کا آپؓ نے حکم دیا۔ مسجد کے سامنے دو سو 200 ہاتھ لمبا ایک سائبان بنوایا، اس سائبان کے ستون سنگ مرمر کے بنائے گئے، یہ سنگ مرمر فارسی بادشاہوں کے تھے، اس کی اونچائی رومی عبادت گاہوں کی اونچائی کے ہم مثل تھی۔ اہل کوفہ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے لیے مسجد کے قریب ہی ایک گھر بنایا، گھر اور مسجد کے درمیان دو سو 200 ہاتھ کی ایک گلی جاتی تھی، اسی طرح مسجد سے متصل ہی بیت المال کی عمارت بنائی گئی، تعمیر کا یہ سارا کام روزبہ الفارسی نے انجام دیا۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 17 )
اس شہر میں سب سے پہلے صرف مجاہدین اقامت گزیں تھے، لیکن بعد میں فارس کے حکمران رستم کی ایک فارسی موج جس کی تعداد چار ہزار 4000 تھی اور یہ ’’لشکر شہنشاہ‘‘ کے نام سے معروف تھی اس نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
سے جزیہ دینے کے عوض یہ درخواست کی کہ ہمیں اپنی مرضی کے مطابق کوفہ میں رہنے اور لوگوں سے تعلقات پیدا کرنے کا موقع دیں۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ان کی درخواست منظور کر لی، معلوم رہے کہ ان کا نقیب ’’دیلم‘‘ نامی ایک شخص تھا، اس لیے اس جماعت کو ’’حمراء دیلم‘‘ کہا جانے لگا۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 336)
اسی طرح جب حضرت عمر بن خطابؓ نے جزیرہ عرب سے نجران کے یہود و نصاریٰ کو جلا وطن کیا تو وہ بھی یہیں آ کر آباد ہوئے اور جس خطہ میں یہ لوگ آباد ہوئے تھے اسے ’’نجرانیہ‘‘ محلہ کہا جاتا ہے۔
(تاریخ الدعوۃ الإسلامیہ: صفحہ 336)
بصرہ اور کوفہ کو شہری حیثیت مل جانے کے بعد دونوں شہروں کی اہمیت بڑھ گئی، اسلامی افواج کی قیادت، اور پورے عالم اسلام میں علم و ادب کا پرچم بلند کرنے میں انہیں کافی شہرت ملی، اسلامی قوت و شوکت حجاز سے کوفہ منتقل ہو گئی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کوفہ کو دارالخلافہ بنا لیا۔
(الدعوۃ الإسلامیۃ: ص 337)
بے شک سیدنا عمرؓ نے صحیح اور مستحکم بنیادوں پر بصرہ اور کوفہ کی آباد کاری کی، اس کی سڑکوں اور راستوں کو وسیع کیا اور انہیں نہایت بہترین انداز میں منظم کیا، مجموعی طور پر آپؓ کی یہ طرز فکر بتاتی ہے کہ فن آبادکاری میں آپؓ کی شخصیت منفرد و بے مثال تھی۔ بہرحال کوفہ اگر ایک طرف شہری زندگی کا سماں پیش کر رہا تھا تو دوسری طرف اس کے باشندے دیہات کی کھلی آب و ہوا اور سبزہ زاروں کے منظر سے محظوظ ہو رہے تھے اور یہ چیز جسمانی صحت کے لیے بہت مفید نیز بہترین ہوا کے لیے بہت معاون ہے۔ شہروں کے حسن و جمال کو نکھارنے اور انہیں زندگی بخشنے میں اس کی سڑکوں اور عام راستوں کی کشادگی کا وہی مقام ہے جو مقام انسان کے جسم میں اس کے پھیپھڑوں کا ہوتا ہے، کوفہ میں آباد ہونے والے مجاہدین کے بارے میں سیدنا عمرؓ یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگ اپنے خیموں ہی کو اپنا مسکن بنائیں، کیونکہ یہ طرز سکونت بوقت ضرورت انہیں اپنے عمل میں جلدی پیش قدمی کا موقع مہیا کرے گی اور دشمنانِ اسلام کو مرعوب کرنے کی ایک اہم علامت ہو گی، لیکن بعد کے ادوار میں ترقی کے کئی مراحل طے ہوئے اور شہروں کو گھاس پھوس، نرکل اور بانس کے گھروں کے بجائے سیمنٹ اور پکی اینٹوں سے بسایا جانے لگا۔
(الخلفاء الراشدون: ص 182)