Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

افتراء: سیدہ عائشہؓ ایک جرم کی وجہ سے نبی پاکﷺ کے ساتھ دفن نہ ہوئیں۔

  مولانا ابو الحسنین ہزاروی

افتراء: سیدہ عائشہؓ ایک جرم کی وجہ سے نبی پاکﷺ کے ساتھ دفن نہ ہوئیں۔ 

(از حیات صدیقہ ) 

 الجواب

 مذکورہ صفحہ کی عبارت میں سوا اس کے کچھ نہیں کہ سیدہ عائشہؓ کے پاکیزہ دل میں کمال تقویٰ اور فکر آخرت کا جذبہ پایا جاتا ہے کہ آخری وقت میں مسلمانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار فرماتی تھیں ورنہ آپؓ نہ تو ارادۂ جنگ سے تشریف لے گئیں تھیں اور نہ ہی لڑنے کا کوئی عزم تھا فقط مسلمان جماعتوں میں صلح کا جذبہ کار فرما تھا جیسا کہ گزرا باقی رہا حجرہ مبارک میں دفن نہ ہونا تو اس کی وجہ وہ نہیں تھی جو رافضی تراش رہا ہے بلکہ اس کی وجہ وہ روایت تھی جو فریقین کے درمیان مسلم ہے کہ حضرت عیسیٰؑ روضہ اطہر میں دفن ہوں گے جبکہ شیخینؓ کی روضہ اطہر میں تدفین کے بعد صرف ایک قبر کی جگہ باقی ہے اگر آپ کی تدفین ہو جاتی تو اُس حدیث پاک کا محل کیا ہوتا جس میں تدفین عیسیٰؑ کا ذکر ہے معلوم ہوا کہ جو مطلب روافض نے تراشا ہے وہ محض قصہ گوئی ہے البتہ اظہار تاسف کیلئے آپؓ ضرور یہ جملے فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے باقی ازواجؓ کے ساتھ ہی دفن کر دینا, نیک لوگ تو نیک ہونے کے باوجود اپنے کو قصور وار ہی کہتے ہیں۔ 

یہ ناقص لوگوں کا شیوا ہے کہ کچھ نہ ہونے کے باوجود اپنے کو بڑی شئے جانتے ہیں لہٰذا سیدہ عائشہؓ کا یہ جملہ کسر نفسی اور اظہار تاسف پر محمول ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سیدہ عائشہؓ واقعی گنہگار یا مجرم تھی جیسا کہ کوڑ مغزوں نے سرخی جما کر غلط تاثر دینے کی جسارت کی ہے۔ ورنہ سیدنا علیؓ اور محبوبان خدا کے کلاموں میں جو کسر نفسی اور اظہارِ تاسف کے جملے موجود ہیں اس اعتراض کی بے لگام زہر اس طرف بھی سرایت کر جائے گی۔