Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ اندیشہ کہ کہیں مسلمان عیش و عشرت کے دلدادہ نہ ہو جائیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ عیش و عشرت کے دلدادہ نہ ہو جائیں، اور پھر اس کے نتیجہ میں دنیا و آخرت کی جو برائیاں سامنے آتی ہیں اس کے شکار نہ ہو جائیں۔ چنانچہ جب کوفہ اور بصرہ کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں مطمئن ہو گئے تو انہوں نے خود کو پہچانا اور اپنے ماضی کو یاد کیا، اور ناز و نعمت کی جو چیزیں اسلام لانے کے بعد ان کے ہاتھوں سے نکل گئی تھیں وہ دوبارہ ان کے پاس لوٹ آئیں۔ پھر کوفہ اور بصرہ والوں نے بھی حضرت عمرؓ سے فوجی چھاؤنی چھوڑ کر بانس کے مکانات بنانے کی اجازت مانگی۔ آپؓ نے فرمایا: فوجی چھاؤنی کی زندگی تمہاری لڑائی میں زیادہ مؤثر اور جنگ کو بھڑکا دینے والی ہے۔ تاہم میں تم لوگوں کی مخالفت نہیں کرتا لیکن یہ بتاؤ کہ بانس کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ گانٹھ اور کانٹے دار ایک پودا ہے جو زمین کی گہرائی سے نکلتا ہے، جب اسے سیراب کیا جاتا ہے تو اس میں گانٹھیں ہو جاتی ہیں اور وہ بڑھتا جاتا ہے۔ 

(اردو زبان میں اسے بانس اور نرکل کہتے ہیں۔مترجم)

 آپؓ نے فرمایا: پھر تو آپؓ لوگوں کو اختیار ہے اس کے بعد دونوں شہروں کے لوگوں نے بانس کے مکانات تعمیر کیے۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 15)

پھر کوفہ اور بصرہ میں ایک مرتبہ آگ لگ گئی، کوفہ میں سب سے تیز آگ لگی اس میں اسّی 80 سے زیادہ چھپر کے مکانات جل کر خاکستر ہو گئے، بانسوں کی ایک کھپچی تک نہ محفوظ رہی، لوگ بہت پریشان ہوئے اور آگ سے حفاظت، نیز چھپروں کے متبادل رہائش گاہوں کے بارے میں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ان لوگوں کا ایک وفد حضرت عمرؓ کے پاس روانہ کیا تاکہ پکی اینٹ کے مکانات بنانے کی آپؓ سے اجازت لے لیں۔ وہ لوگ آپؓ کے پاس آئے اور کوفہ و بصرہ کی آتش زدگی نیز اس سے ہونے والے اپنے نقصانات سے آپؓ کو باخبر کیا۔ وہ لوگ جب بھی کسی حادثہ یا اہم واقعہ سے دوچار ہوتے تو آپؓ سے مشورہ کرتے تھے، آپؓ نے فرمایا: تم ایسا کر لو، یعنی اینٹ کے مکانات بنا لو، لیکن تین کمروں سے زیادہ نہ بنانا، اور نہ بہت اونچی عمارت بنانا، اور سنو! سنت کو لازم پکڑو، تمہیں یقیناً حکومت ملے گی۔ بہرحال وہ وفد اجازت پا کر کوفہ واپس لوٹ گیا اور سیدنا عمرؓ نے عتبہؓ اور بصرہ والوں کو بھی اسی طرح کا خط روانہ کیا۔ سیدنا عمرؓ نے اس وفد سے وعدہ لیا، اور لوگوں کو پھر تاکید کی کہ بقدر ضرورت ہی اپنی عمارتوں کو اونچا کریں، لوگوں نے پوچھا: ضرورت کی حد کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جو تم کو حد اسراف تک نہ لے جائے، اور حد اعتدال و میانہ روی سے باہر نہ کر دے۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 16)

سیدنا عمرؓ کے ان اخبار و آثار کو سامنے رکھنے سے ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز تھے، مکانات اور رہائش گاہیں اتنی ہی مطلوب تھیں جو انہیں دھوپ، بارش، سردی اور گرمی سے محفوظ رکھ سکیں، اونچے اونچے محلوں کی تعمیر اور ان میں رہائش ان کا مقصد نہ تھا، اسی وجہ سے جو چیز ان کو وافر مقدار میں میسر تھی یعنی بانس وغیرہ، اسی سے گھر بنائے اور مجبوری کے وقت مٹی کے مکانات تعمیر کیے، مٹی کے مکانات ہونے کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیدنا عمرؓ اونچی اونچی عمارتوں اور محلات کی تعمیر میں مقابلہ آرائی سے روکنے کے لیے لازمی تدبیریں اختیار کرتے ہیں۔ گویا آپؓ کی دور اندیش نگاہیں اس وسعت و مالی فراوانی کو دیکھ رہی تھیں جو فتوحات کے بعد امت مسلمہ کو ملنے والی تھی، اس قسم کی ہدایات و توجیہات سے آپ اسی بات کی کوشش میں تھے کہ امتِ مسلمہ کو مالی اسراف اور عیش پرستی سے روکا جائے، اور اسے اعتدال پسند زندگی کا عادی بنایا جائے، آپؓ کی بات سے یہ چیز مترشح ہوتی ہے کہ آپؓ نے جن مکانات کو خیر و برکت سے خالی کہا ہے اس سے مراد وہ مکانات ہیں جو دائرہ اعتدال سے باہر ہوں، اور ان کی تعمیری ساخت و مصارف اسراف کی حد تک پہنچے ہوئے ہوں۔ پس بلا ضرورت فلک بوس عمارتوں کی تعمیر اسراف و فضول خرچی کی واضح علامت ہے کیونکہ انسان بلند و بالا مکانوں کی تعمیر میں بھاری رقم خرچ کرتا ہے اور اس کے لیے لمبا وقت لگاتا ہے۔ اور جب انسان کی ساری محنت و کوشش اسی پر مرکوز ہوتی ہے تو صبح و شام اس کے ذہن و دماغ پر اسی کی فکر بھی مسلط رہتی ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کے نزدیک زندگی کا مقصد ہی یہ ٹھہرا ہے کہ فلک بوس محلات تیار کریں۔ 

(التاریخ الاسلامی: جلد 22 صفحہ 19، 20) 

اگرچہ سیدنا عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں دنیوی مال و دولت کی ریل پیل سے امت مسلمہ کے بھٹک جانے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا اور ہمہ وقت اس کوشش میں تھے کہ اسے رہائش گاہوں اور مکانات کی تعمیر و تزئین پر ساری توجہات اور صلاحیتوں کو خرچ کرنے سے روکیں، یہاں تک کہ مکانات صرف بقدر ضرورت اس فانی دنیا کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جائیں، تو آج ہمیں وہ اندیشہ حقیقت کی شکل میں عیاں نظر آتا ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ دور حاضر میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر وتزئین میں زندگی کے کئی سال فنا ہو جاتے ہیں اور اپنے پیچھے قرضوں کے انبار لگاتے جاتے ہیں، پھر بقیہ زندگی قرض کی ادائیگی میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس انسان کی زندگی اسی طرح گزر جاتی ہے، اور وہ زکوٰۃ و صدقات نام کی کوئی چیز نہیں جانتا۔ حالانکہ اس کا شمار متوسط طبقہ کی زندگی گزارنے والوں میں ہوتا ہے۔ میری بات مشاہدات کی روشنی میں بالکل صداقت پر مبنی ہے کیونکہ محلات کا جو تصور ہمارے نزدیک پایا جاتا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ایسی عمارتوں میں جمالیات و کمالیات اور عیش و عشرت کے اسباب و وسائل مکمل طور سے مہیا ہوں۔ پھر ان چیزوں کی تکمیل محلات کے مالکان کو طاقت سے زیادہ تگ و دو کرنے اور اس کے پیچھے سالہا سال تک خود کو قربان کر دینے پر ابھارتی ہے، تاکہ نمائش کی دنیا میں وہ مقابلہ کرنے والوں کی صف میں خود کو کھڑا کر سکے اور پھر نمائش و مقابلہ کے اس بازار میں اسلام کی چند اہم ترین و حساس عبادات اور اعمالِ صالحہ مثلاً مالی عبادات میں زکوٰۃ اور مجاہدین اسلام کی مدد جیسے فرائض کی ادائیگی کو ضائع کر دیتا ہے اور اس بھاگ دوڑ میں زندگی کے فہم بالشان اور اصل الاصول مقاصد مثلاً نماز اور حصولِ علم سے غافل ہو جاتا ہے۔ 

(التاریخ الإسلامی: جلد 20 صفحہ 19، 22)