Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

افتراء: سیدہ عائشہؓ نے امام حسنؓ کو بھی روضۂ رسولﷺ میں دفن نہ ہونے دیا۔

  مولانا ابو الحسنین ہزاروی

افتراء: سیدہ عائشہؓ نے امام حسنؓ کو بھی روضۂ رسولﷺ میں دفن نہ ہونے دیا۔ 

(کتاب المختصر فی اخبار البشر )

 الجواب

اول تو یہ الزام سراسر غلط ہے کہ سیدہ عائشہؓ نے سیدنا حسنؓ کو روضۂ اطہر میں دفن نہ ہونے دیا۔ مذکورہ کتاب کی عبارت سے صاف صاف معلوم ہو رہا ہے کہ اِس دفن میں رکاوٹ کس نے ڈالی ثانیا جب روایات میں یہ بات وضاحت سے موجود ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی تدفین روضۂ اطہر میں ہو گی اگر سیدنا حسنؓ کی تدفین روضۂ اطہر میں ہو جاتی تو اِس حجرہ پاک میں مزید کسی اور کی تدفین کیلئے جگہ موجود نہ ہوتی یوں اُس حدیث کا صادق ہونا متعذر ہو جاتا لہٰذا تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ نے انتظام ہی ایسا فرمایا اور حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ آپؓ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔ دور حاضر کے محقق و مدقق عالم حضرت مولانا محمد نافع صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ 

ان موصوف کی تمنا تھی کہ روضۂ رسولﷺ میں دفن ہونے کی سعادت حاصل ہو جائے آنجناب نے ام المومنین سیدہ عائشہؓ سے اس کی اجازت طلب کی تھی اور ان موصوفہؓ نے اجازت دے دی تھی لیکن بقول بعض مؤرخین اس معاملہ میں بعض بنو امیہ حائل ہوئے اور اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا کہ اس موقعہ پر کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے تو اس موقعہ پر جناب عبد اللہ بن عمرؓ اور جناب ابو ہریرہؓ نے سیدنا حسینؓ کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ آپ کے برادر جناب سیدنا حسنؓ نے اس بات کی وصیت کی تھی کہ اگر جناب نبی اقدسﷺ کے روضۂ اقدس میں دفن ہونے کے معاملہ میں فتنہ کھڑا ہو جانے کا خطرہ ہو جائے تو مجھے جنت البقیع میں ہماری جدہ (دادی اماں) کے پاس دفن کر دیں اور بقول بعض مؤرخین فرمایا کہ مجھے اپنی والدہ کے پہلو میں دفن کر دیا جائے۔ روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں۔ 

 عن ابن عمرؓ قال حضرت موت الحسن فقلت للحسين اتق الله و لا تثر فتنة و لا تسفك الدماء ادفن اخاك الى جنب امه فانه قد عهد بذالك اليك

 (سیر اعلام النبلا للذهبی جلد3 صفحه 184 تحت ترجمه الحسن بن علیؓ میر

 (2) مختصر تاریخ ابن عساکر لابن منظور صفحہ 41 جلد 7 کے تحت ترجمه الحسن بن علیؓ بحوالہ فوائد نافع لشیخ الاجل حضرت مولا نا محمد نافع حصہ دوم صفحه 164)

 جس کتاب کا عکس اِس حوالے سے دیا گیا ہے تقریباً ملتا جلتا مفہوم اس میں بھی وہی ہے۔ لہٰذا یہ الزام سراسر جھوٹ کی کرشمہ سازی ہے کہ سیدہ عائشہؓ نے سیدنا حسنؓ کو روضۂ اطہر میں دفن ہونے سے منع کیا ہے ہاں فتنہ کے تدارک اور خوان کرائے جانے کی صورت کو روکنے کی کوشش ضرور کی ہے جیسا کہ مذکورہ کتاب کے عکسی صفحہ سے پوری طرح عیاں ہے۔