فرمان فاروقی کہ ان عمارات میں بھلائی ہے جو تمہیں حد اعتدال میں رکھیں اور اسراف تک نہ لے جائیں کی مختصر توضیح
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول کا مقصد یہ تھا کہ شریعت کی نگاہ میں قابل تحسین مکان وہ ہے جس کی تعمیر و تزئین میں انسان اسراف و بے جا مصارف سے محفوظ رہے اور دائرہ اعتدال سے آگے نہ بڑھے، البتہ حضرت عمرؓ نے مکانات کی تعمیر میں اسراف سے منع تو کیا لیکن اس کی حد بندی کی، کیونکہ ہر شہر اور علاقے میں اسراف و فضول خرچی اور اعتدال و مصارف کا مخصوص عرف و مزاج ہوتا ہے۔ لہٰذا دنیوی معاملات میں عاملین شریعت، اور اعتدال پسند مسلمانوں کا طبقہ جس مقدار و معیار کو عرف و عادت مانتا ہو گا وہی مقدار و معیار معتبر ہو گا۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 23 صفحہ 19، 20)