افتراء: سیدہ عائشہؓ پر توہین رسولﷺ کا الزام ۔
مولانا ابو الحسنین ہزارویافتراء: سیدہ عائشہؓ پر توہین رسولﷺ کا الزام ۔
(احیاء العلوم )
الجواب:
کس قدر حماقت اور ڈھٹائی کی بات ہے آپﷺ کے حسن معاشرت اور بیویوں سے پیار محبت کے تذکرہ کو توہین رسولﷺ کا نام دیتے ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس عکسی صفحہ کا مکمل ترجمہ لکھ دیا جائے تاکہ دھوکہ اور فراڈ سے توہین رسولﷺ کا الزام جس عبارت کو قرار دیا اس کی حقیقت معلوم ہو سکے۔
اور ایک بار آنحضرتﷺ اور سیدہ عائشہؓ کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی یہاں تک کہ دونوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو اپنے درمیان حکم اور شاہد قرار دیا آنحضرتﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کہ یا تو تم اول کہہ لو یا میں کہوں انہوں نے عرض کیا کہ آپﷺ ارشاد فرمائیں لیکن سچ ہی سچ فرمانا سیدنا ابوبکرؓ نے سیدہ عائشہؓ کو ایسا طمانچہ مارا کہ خون نکلنے لگا اور فرمایا کہ کیا حضرتﷺ سچ کے سوا کچھ اور فرمائیں گے سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے آنحضرتﷺ کی پناہ چاہی اور آپﷺ کی پشت کی جانب جا بیٹھیں آنحضرتﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ سے فرمایا کہ ہم نے تم کو اس لئے نہیں بلایا اور نہ تم سے ہمارا یہ مقصود ہے اور ایک بار کسی بات پر ناراض ہو کر سیدہ عائشہؓ نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپﷺ بھی فرماتے ہیں کہ میں پیغمبر خدا ہوں آنحضرتﷺ نے تبسم فرمایا اور حلم و کرم کی راہ سے اِس کو برداشت فرمایا اور آپﷺ سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کرتے تھے کہ تمہاری خفگی اور رضا مندی میں جان جاتا ہوں انہوں نے عرض کیا کہ آپﷺ کیسے پہچانتے ہیں۔ فرمایا کہ جب تم راضی ہوتی ہو تو تم کہتی ہو کہ قسم ہے محمدﷺ کے خدا کی اور ناراضگی کے وقت تم کہتی ہو قسم ہے ابراہیمؑ کے خدا کی۔ سیدہ عائشہؓ نے عرض کیا کہ آپﷺ بجا فرماتے ہیں واللہ میں ناراضگی کے وقت میں فقط آپﷺ کا نام ترک کرتی ہوں (باقی آپﷺ کی محبت تو دل سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتی) اور کہتے ہیں کہ اسلام میں جو اول دوستی ہوئی وہ آنحضرتﷺ کی سیدہ عائشہؓ کے ساتھ محبت تھی آپﷺ ان کو فرمایا کرتے کہ میں تیرے لئے ایسا ہوں جیسا کہ ابو زرعہ اپنی بیوی ام زرعہ کے ساتھ تھا مگر میں تجھ کو طلاق نہ دوں گا۔ سوم یہ ہے کہ ایذا کی برداشت کے ساتھ عورتوں کے ساتھ ھنسی اور مذاق و چہل قدمی بھی کرتے کہ اس سے ان کا دل خوش ہوتا ہے چنانچہ آنحضرتﷺ کا دستور تھا کہ اپنی ازواجؓ کے ساتھ مزاح فرماتے تھے اور اعمال و اخلاق میں ان کی عقلوں کے مطابق گفتگو فرماتے تھے حتیٰ کہ مروی ہے کہ آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ کے ساتھ دوڑ لگائی ایک روز سیدہ عائشہؓ آگے نکل گئیں پھر جب دوسری دفعہ دوڑے تو آپﷺ آگے نکل گئے فرمایا یہ اس روز کا عوض ہے اور حدیث میں ہے کہ اور لوگوں کی بہ نسبت آپﷺ زیادہ بیویوں سے مزاح فرماتے تھے سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حبشہ کے لوگوں کی آواز سنی کہ وہ عاشورہ کے دن کھیل رہے تھے آنحضرتﷺ نے فرمایا کیا تو ان کا کھیل دیکھنا چاہتی ہے میں نے عرض کیا ہاں۔ آپﷺ نے اُن کو بلوایا جب وہ آئے تو آپﷺ دونوں کواڑوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنا ہاتھ ایک کواڑ پر رکھ کر پھیلا دیا میں نے اپنی ٹھوڑی کی آپﷺ کے ہاتھ پر رکھ دی اور دیکھنے لگی۔
محترم قارئین مکمل صفحہ کا ترجمہ ہم نے عرض کردیا غور فرمائیے اس میں میاں بیوی کی باہمی محبت اور حد درجہ پیار کے علاوہ اور کیا ہے حسن معاشرت اور گھر والوں سے عمدہ اخلاق اور دل جوئی کی بہترین مثال ہے جو یہاں پر بیان کی گئی ہے۔ آپﷺ نے تو ان واقعات کو نہ گستاخی و بے ادبی جانا اور نہ ہی اس پر تنبیہ فرمائی بلکہ گھروالیوں سے ایسے ہی پیار محبت کا سلوک رکھنے اور حسنِ معاشرت اختیار کرنے کی ترغیب ارشاد فرمائی۔ مگر رافضی لوگوں کو اس پر اعتراض ہونے لگا ہے اور اعتراض یا دکھ کیوں نہ ہو دشمن تو زوجین کی محبت کو دیکھ کر جلتا ہی رہتا ہے۔