افتراء: سیدہ عائشہؓ کو مختلف مغالطوں میں مبتلا کر کے میدانِ جنگ میں لایا گیا ۔
مولانا ابو الحسنین ہزارویافتراء: سیدہ عائشہؓ کو مختلف مغالطوں میں مبتلا کر کے میدانِ جنگ میں لایا گیا۔
(امام ابو حنیفہؒ کی سیاسی زندگی)
الجواب
یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ سیدہ عائشہؓ کا یا اکابرین لشکر کا ارادہ سیدنا علیؓ کے ساتھ لڑائی کا تھا۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدثؒ فرماتے ہیں۔
اور نکلنا ان (سیدہ عائشہؓ وغیر ہم) کا با ارادہ لڑائی امیر کے نہ تھا محض واسطے مصلحت آپس کے اور پورا کرنے قصاص عثمانؓ کے اور لشکر امیرؓ سے قاتلوں کو نکال دینا تا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں کی باتوں سے وہم میں پڑ کر میدان میں نکل پڑے۔ وہ مطمئن ہو کر سیدنا علیؓ کے ساتھ شریک کار ہوں۔ (تحفہ اثناء عشریہ مترجم صفحہ685)
اِن حضرات کا ارادہ بھی ہرگز جنگ اور لڑائی کا نہ تھا جو قصاصِ عثمانؓ کا مطالبہ کر رہے تھے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ وغیرہ کا وہ ارشاد اِس وضاحت کیلئے کافی ہے جو تحقیقی دستاویز کے صفحہ577 پر عکسی صفحہ میں موجود ہے۔ وہ الفاظ یہ ہیں يصلح الله ذات بينهم(کہ سیدہ عائشہؓ سے عرض کیا)
تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی برکت سے ان دونوں جماعتوں میں صلح کروا دے۔ لیجئے حضورﷺ یہ صفحہ تو آپ کی کتاب کے عکسی صفحات میں موجود ہے جو آپ کی طرف سے اہلِ سنت پر الزام دینے کیلئے جمع کیے گئے ہیں آپ کے اس اعتراض کی وضاحت آپ کے دیئے ہوئے عکسی صفحوں سے دستیاب ہوگئی۔ لہٰذا یہ قرار دینا کہ سیدہ عائشہؓ کو مختلف مغالطوں میں مبتلا کر کے میدان جنگ میں لایا گیا محض فراڈ اور دھوکہ ہے۔ اِن قافلے والوں میں اکابرین قافلہ کا یہ بالکل خیال اور ارادہ نہ تھا کہ جنگ ہوگی البتہ سبائی ذریت نے وہ ظلم ملت اسلامیہ پر کیا جو ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوا ان سبائیوں کی حرکات سے جنگ ہوئی نہ کہ اِن حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ارادہ یا ضد سے۔ جب ارادۂ جنگ کیلئے سفر ہی نہ تھا تو اسے مغالطوں میں مبتلا کرنا اور جنگ میں لانا کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟