شیعہ حضرات سے 25 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ حضرات سے 25 سوالات

  مولانا محمد جمال صاحب دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 4

شیعہ حضرات سے 25 سوالات

 سوال نمبر 1: شیعہ عقیدہ کے مطابق خلفائے ثلاثہ کا جہاد شرعی اور اسلامی جہاد نہیں تھا بلکہ ظالمانہ خون ریزی اور غارت گری تھی اس لیے کہ جہاد ایک خالص اسلامی فریضہ ہے جس کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے اور یہ مقصد کافر سے ادا نہیں ہو سکتا بقول امام باقر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد چار صحابہؓ حضرت علی، حضرت مقدادؓ،حضرت سلیمان فارسیؓ اور حضرت ابوذرؓکے علاوہ تمام صحابہؓ مرتد ہو گئے تھے(ترجمہ حیات القلوب حصہ دوم صفحہ 923 ملا باقر مجلسی بحوالہ الاجوتیہ الاربعين)

 مذکورہ شیعی عقیدہ کے مطابق خلفائے ثلاثہؓ کے زمانہ کی تمام کاروائیاں ناجائز تھیں اور ان میں حاصل ہونے والا تمام مال حرام اور ناجائز تھا اور ان لڑائیوں میں شریک ہونے والے تمام صحابہؓ بشمول حضرت علیؓ ظالم اور جابر تھے اور جن حضرات نے مذکورہ مال غنیمت حصہ لیا وہ حرام اور ناجائز تھا حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں ایران فتح ہوا اور ایرانی شہزادی شہر بانو قید ہو کر مال غنیمت میں شامل ہوئیں اور بقول شیعہ حضرات غارت گری کا مال جب تقسیم ہوا تو ایرانی شہزادی شہر بانو حضرت حسینؓ کے حصے میں آئیں اور ان سے حضرت حسینؓ کے صاحبزادے علی بن حسین معروف بزین العابدین جو کہ شیعوں کے چوتھے امام پیدا ہوئے اب سوال یہ ہے کہ حرام مال سے حاصل کی ہوئی باندی کو مردانہ تصرف میں رکھنا کیسا ہے اور اس باندی کی اولاد کیسی ہوگی اور آئندہ نسل کا کیا حکم ہوگا؟

 سوال نمبر 2: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں بنو حنفیہ کے مرتدین سے جہاد کیا تھا جس میں حضرت علیؓ بھی شریک تھے اور مال غنیمت میں خولہ نامی ایک باندی قید ہو کر آئی تھی بقول شیعہ حضرات اس غارت گری کے مال میں سے مذکورہ باندی حضرت علیؓ کے حصے میں آئی تھی اور اس باندی سے حضرت علیؓ کے صاحبزادے محمد بن حنیفہ پیدا ہوئے تھے اب سوال یہ ہے کہ حضرت علیؓ کا خولیٰ نامی باندی کو قبول کرنا اور مردانہ تصرف میں رکھنا جائز تھا یا نہیں اگر جائز تھا تو اس کی کیا دلیل ہے اور اگر ناجائز ہے تو گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے حالانکہ معصوم سے گناہ کبیرہ کا ارتکاب محال ہے اور حضرت علیؓ شیعہ عقیدہ کے مطابق معصوم ہیں۔

 سوال نمبر 3: حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کافریا مرتد تھے یا نہیں اگر نہیں تھے تو ان پر تبرہ کرنا اور لعنت بھیجنا کیسا ہے بقول شیعہ حضرات شیخینؓ پر لعنت بھیجنا نہ صرف جائز بلکہ صبح و شام لعنت بھیجنے سے ستر نیکیاں حاصل ہوتی ہیں جیسا کہ اہل تشیع کی کتاب مفتاح الجنان میں لکھا ہے ٫ان لعن الشیخین 

 فی کلی صباح و مساع موجب لسبعین حسنتا۔

(مفتاح الجنان بحواله مختصر تحفہ 235)

اور اگر کافر یا مرتد تھے جیسا کہ شیعوں کی معتبر کتاب آیات بینات میں صحابہ کرامؓ کے بارے میں لکھا ہے کہ: ہر کہ در کفراں شک کند کا فرست

 شیعہ حضرات کی دوسری مستند کتاب حق الیقین میں لکھا ہے چوتھے امام زین العابدین نے فرمایا ابوبکرؓ و عمرؓ دونوں کافر تھے جو ان کو دوست رکھے وہ بھی کافر ہے تو حضرت علیؓ نے اپنے لخت جگر حضرت ام کلثومؓ کا جو کہ حضرت فاطمہؓ کے بطن سے تھی حضرت عمرؓ سے نکاح کیوں کیا؟ اور اگر حضرت عمرؓ نے جبراً نکاح کر لیا تھا جیسا کہ بس شیعہ کا خیال ہے تو حضرت علیؓ نے مزاحمت کیوں نہیں کی جبکہ حضرت علیؓ الشجع صحابؓہ تھے خاص طور پر حضرت عمرؓ پر حضرت علیؓ کو دیکھ کر لرزہ طاری ہو جاتا تھا جیسا کہ شیعہ حضرات کی کتابوں میں مذکور ہے۔

 سوال نمبر 04: شیعہ حضرات آپسی اختلاف کو عداوت اور دشمنی پر محمول کرتے ہیں حالانکہ اختلاف کے لیے دعوت اور دشمنی لازم نہیں حضرت امام ابو حنیفہ سے صاحبین نے بہت سے مسائل میں اختلاف کیا ہے حالانکہ اس سے اختلاف کو کوئی دشمنی اور عداوت پر محمول نہیں کرتا اگر بزعم شیعہ حضرات اختلاف کے لیے دشمنی اور عداوت لازم ہے تو 12 اماموں نیز بعض اہلِ بیت کے درمیان یہی اختلاف تھا، صاحب فصول ابو مخنف سے روایت کرتے ہیں 

ان الحسین بن علی یبداؤل کراھۃ لمافعلہ اخوہ الحسن من صلع معاویہ ویقول لو جن جز کان انفی کان اھب الی فعله اخی۔۔۔(بحوالہ جوتیہ الاربعین تفسیر صافی 389)

ترجمہ: جب حضرت حسنؓ نے امیر معاویہؓ سے صلح کر لی تو حضرت حسینؓ اپنی سخت ناراضگی اور ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ کاش اس صلح کی بجائے میری ناک کاٹ جاتی تو بہتر تھا مگر اختلاف و محالفت کے لیے بقول شیعہ حضرات عداوت و دشمنی لازم ہیں جس کی وجہ سے اہل بیت سے اختلاف رکھنے والا ان کا دشمن ہے اور دشمنی اہل بیت سے موجب کفر ہے تو امام حسن اور حسینؓ کے درمیان خلع ہلاکت کے مسئلہ میں شدید اختلاف تھا اور اختلاف کے لیے چونکہ بقول شیعہ حضرات عداوت و دشمنی لازم ہیں لہذا امام حسنؓ اور حسینؓ کے بارے میں کہ درمیان بھی دشمنی ثابت ہوئی جو کہ طرفین کے لیے موجب کفر ہے لہذا جو توجیح حسنین کے اختلاف کی ہوگی وہی توجیح دیگر صحابہؓ کے اختلاف کی ہوگی۔۔۔

صفحہ 1 از 4