شیعہ حضرات سے 25 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ حضرات سے 25 سوالات

  مولانا محمد جمال صاحب دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 4

 سوال نمبر 05: محمد بن حنفیہ جو کہ حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں اور شیعوں کے ایک فرقہ کے امام ہیں کے درمیان اور علی بن حسین معروف بزین العابدین جو کہ اثنا عشری شیعوں کے چوتھے امام ہیں کہ درمیان امامت کے مسئلے میں شدید اختلاف تھا محمد بن حنفیہ زین العابدین کی امامت کے منکر اور اپنی امامت کے مدعی تھے امام حسینؓ کے حقیقی پوتے زید بن علی بن حسین کے اپنے حقیقی بھائی باقر بن علی بن حسین (جو کہ پانچویں امام ہیں) کے ساتھ مسئلہ امامت میں شدید اختلاف تھا حتی کہ امام باقر کی امامت کے منکر تھے زید بن علی نے اس مسئلہ میں ہشام بن حکم سے مناظرہ بھی کیا تھا اور آخر تک دعوی امامت سے دستبردار نہیں ہوئے یہاں تک کہ لڑ کر شہید ہو گئے، امام جعفر صادق کی اولاد بھی آپس میں برسر پیکار رہی، عبداللہ بن افطح بن امام جعفر صادق اور ان کے بھائی اسحاق بن جعفر دونوں امامت کے دعویدار تھے، اور آپس میں ایک دوسرے کے امامت کے منکر، گیارہویں امام حسن عسکری اور ان کے حقیقی بھائی جعفر بن علی کے درمیان شدید اختلاف تھا یہاں تک کہ تفسیق اور تذلیل تک نوبت پہنچی شیعہ حضرات بھی اس سے خوب واقف ہیں ان تمام حالات کے باوجود۔ شیعہ حضرات ان بزرگان اہل بیت کو واجب التعظیم سمجھتے ہیں اگر محض اختلاف و مخالفت سبب کفر ہے تو ان بزرگانِ اہل بیت کا کیا حکم ہوگا جن کے درمیان شدید اختلاف تھا.

 سوال نمبر 06: تاریخ الاائمہ کی روایت کے مطابق پانچ اماموں کی وفات زہر خورانی سے ہوئی تھی اب سوال یہ ہے کہ ائمہ مذکورین کو زہر کی آمیزش کا علم تھا یا نہیں اگر نہیں تھا تو شیعہ حضرات کا یہ عقیدہ کہ ائمہ کو ماکان یا مایکون کا علم ہوتا ہے غلط ثابت ہوا اور اگر زہر کی آمیزش کا علم تھا مگر اس کے باوجود بھی کھایا تو خود کشی ہوئی جو کہ معصیت اور حرام ہے اور اس کا مرتکب فاسق و فاجر اور مخلد فی النار ہے۔ ائمہ کی معصومیت کا دعوی غلط ہوا حالانکہ شیعہ حضرات کے عقیدہ کے مطابق امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

سوال نمبر 07: اذان میں جو اشہدان امیرالمومنین علی ولی اللہ مذہب شیعہ میں زائد ہوا ہے اگر دعویٰ یہ ہے کہ ایسی اذان رسول اللہﷺ کے زمانہ سے مروّج اور مروی ہے تو اس کی کیا سند ہے اور اگر بعد میں اجازت ہوئی تو کس امام کے زمانہ میں؟

 سوال نمبر 08: امام مہدی کے روپوش ہونے کی کیا وجہ تھی اگر دشمن کے خوف سے رو پوشی واجب تھی تو امام حسینؓ نے یزید کے مقابلہ میں رو پوشی اختیار کیوں نہیں کی؟ اور واجب نہیں تھی تو تبلیغ دین اور رہنمائی قوم جو کہ واجب تھی اس کو ترک کر کے رو پوشی کیوں اختیار کی؟

 سوال نمبر 09: امام مہدی نے اگر رو پوشی جان کے خوف سے اختیار کی تو بے معنی تھی اس لیے کہ بقول شیعہ حضرات ائمہ کی موت ان کے اختیار میں ہوتی ہے اور اگر ایزاء جسمانی کے خوف سے روپوشی اختیار کی تو یہ اللہ کے راستے میں تکلیف برداشت کرنے نیز جہاد جیسی عبادت سے فرار تھا؟

 سوال نمبر 10: انبیاء اور ائمہ ہدایت خلق کے لیے ہوتے ہیں جب ائمہ نے تقیہ کے ذریعے حق کو چھپایا تو حق ظاہر کرنے والا کون ہوا، اور شیعہ حضرات تک حق کیسے پہنچا، اور جب ائمہ سے ہر مسئلہ میں دو زبانی ہوئی تو لوگوں نے حق کیسے پہچانا، زرارہ بن عین جو کہ اصول کافی کے راویوں میں ایک اہم راوی ہیں اور وہ روایت کرتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے ایک مسئلے میں دریافت کیا انہوں نے مجھے جواب دیا اس کے بعد اسی نشست میں ایک دوسرا شخص آیا اس نے بھی وہی مسئلہ دریافت کیا جو میں نے کہا تھا تو امام صاحب نے اس جواب سے مختلف جواب دیا جو مجھے دیا تھا، پھر اسی مجلس میں ایک تیسرا شخص حاضر ہوا اور اتفاق سے وہی مسئلہ دریافت کیا کہ جو میں نے کیا تھا،اس مرتبہ امام صاحب نے پہلے دونوں جواب سے مختلف جواب دیا جب یہ دونوں صاحب چلے گئے تو میں نے امام صاحب سے عرض کیا کہ اے رسول خدا کے فرزند عراق کے رہنے والے دو آدمی جو آپ کے شیعوں میں سے تھے آئے اور ان دونوں نے آپ سے ایک ہی مسئلہ دریافت کیا آپ نے دونوں کو مختلف جواب دیا یہ کیا بات ہوئی؟ تو امام صاحب نے فرمایا اے ذرارہ اسی میں ہماری تمہاری خیریت اور بقا ہے۔

 اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ ان تین جوابوں میں سے کون سا حق اور کون سا باطل ہے۔

 سوال نمبر11: شیعہ حضرات امام غائب کے مانند قران غائب کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں چنانچہ رسالہ نافع 21 مصنف محسن علی شاہ لکھتا ہے کہ جناب امیر نے جو قران جمع کیا تھا وہ اس وقت شیعہ سنی دونوں کے پاس موجود نہیں ہے مگر ہے ضرور کہیں بھی ہو۔

 اصول کافی صفحہ617اورصفحہ 139 کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے جو قرآن مرتب فرمایا تھا وہ موجودہ قرآن سے بالکل مختلف تھا حضرت علیؓ کی زندگی میں ان کے پاس رہا اور اس کے بعد ان کی اولاد میں سے ائمہ کے پاس رہا، اور اب وہ امام غائب کے پاس ہے، اب سوال یہ ہے کہ جس قرآن کے آپ قائل ہیں اس کو تو امام غائب لے کر غائب ہو گئے جیسا کہ مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے، اور موجودہ قران بقول شیعہ حضرات محرف اور ناقص ہے تو پھر آپ کے پاس کون سی کتاب ہے ہدایت ہے جس سے آپ ہدایت حاصل کرتے ہیں؟

 سوال نمبر 12: بقول شیعہ حضرات امام مہدی 259 ھجری میں اصلی قرآن لیکر غائب ہو گئے رسول اللہﷺ کے عہد مبارک سے امام مہدی کی غیبوبت تک تقریبا اڑھائی سو سال کی طویل مدت تک اصلی قرآن کا صرف ایک ہی نسخہ کیوں تھا، جس کو امام مہدی لے کر غائب ہو گئے، امتِ مسلمہ کتاب ہدایت بلکہ اس کے دیدار سے بھی محروم ہو گئی،

 جبکہ مذکورہ مدت میں شیعہ مکتب فکر کی حکومتیں بھی قائم ہوئیں اور اہل تشیع کا بہت ممالک میں کافی فروغ بھی حاصل ہوا ہے خصوصاً حضرت علی ؓکا دور خلافت تو اصلی قرآن کی اشاعت کا نہایت سنہرا موقع تھا، اس ڈھائی سال کی مدت میں اصلی قرآن کی اشاعت کیوں نہیں ہوئی؟

صفحہ 2 از 4