شیعہ حضرات سے 25 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ حضرات سے 25 سوالات

  مولانا محمد جمال صاحب دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 4

 سوال نمبر 13:  بقول شیعہ حضرات صحابہؓ نے قرآن محرف کر دیا سوال یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے قرآن کو کیوں محرف ہونے دیا؟ اور بزور شمشیر تحریف کو کیوں نہیں روکا؟ جبکہ صحابہؓؓ میں حضرت علیؓ سب سے زیادہ بہادر تھے، جس کی وجہ سے آپ کواسد اللہ کا لقب ملا تھا، زور آور اورطاقتور ہونے کے علاوہ بقول شیعہ حضرات جناب حضرت علیؓ کے پاس اسم اعظم، انگشتری سلیمانی، عصائے موسی بھی تھے۔ اگر اسم اعظم کو پڑھ کر اور انگشتری کو پہن کر اور عصائے موسی کو ہاتھ میں لے کر ذرا اشارہ کر دیتے تو قرآن میں تحریف کرنے والے دشمنانِ خدا اور رسول آنِ واحد میں بھی بھسم ہو جاتے، حضرت علیؓ اپنی نظروں کے سامنے قرآن کو محرف اور برباد ہوتے ہوئے خاموش تماشائی بنے ہوئے دیکھتے رہے، حضرت علیؓ تو حضرت علیؓ ہیں ایک معمولی مسلمان جس کے اندر ذرا برابر بھی ایمانی حرارت ہو قرآن کو اس طرح برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا، کم از کم اپنی خلافت کے زمانہ میں اصلی قرآن کی اشاعت فرما دیتے تاکہ شیعہ حضرات کو اصلی قرآن کی زیارت نصیب ہو جاتی۔

سوال نمبر 14: بروایت امام جعفر صادق تقیہ کا تارک ایسا گنہگار ہے، جیسا کہ نماز کا تارک ایک تو امام حسینؓ نے یزید کے مقابلے میں تکیہ کیوں نہیں کیا حتیٰ کہ پوری جماعت کو شہید کرادیا۔

 سوال نمبر 15: حضرت علیؓ نے کوفہ کی جامعہ مسجد میں برسرِ ممبر ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں شیخینؓ کی بارہا تعریف فرمائی یہاں تک کہ فرمایا کہ جو شخص مجھے شیخینؓ کی فضیلت دے گا میں اس کو مفتری کے مانند کوڑوں کی سزا دوں گا،حضرت علیؓ نے یہ تقیہ مردوں سے کیا تھا یا زندوں سے؟ اگر زندوں سے کیا تھا تو اس کی کیا ضرورت تھی؟ اس لیے کہ کوفہ میں سب حضرت علیؓ کے حمایتی اور عاشق تھے، اگر کوئی منافق ہو بھی تو اس سے کہا خوف،اگر مردوں سے خوف کی وجہ سے تقیہ کیا تھا تو یہ خلاف عقل ہے۔

 سوال نمبر 16: بقول شیعہ حضرات حضرت علیؓ زندگی بھر تقیہ کرتے رہے اور بزعم خود مرتد اور کافروں کے پیچھے نماز پڑھتے رہے، کبھی ایک لفظ ان کی مخالفت میں نہیں بولے، یہاں تک کہ اپنی صاحبزادی ام کلثومؓ ایک کہنہ مشق مرتدو کافر حضرت عمؓر کو دے دی، حتیٰ کہ اپنے زمانہ خلافت میں بھی تقیہ کا لباس زیبِ تن کیے رہے،متعہ جیسی نفع بخش چیز جس کو حضرت عمرؓ نے حرام کر دیا تھا حلال نہ کر سکے اور نہ ہی باغ فدک کو واپس لے سکے، تو بالفرض اگر شیخینؓ کے زمانے میں خلافت مل بھی جاتی تو کیا فائدہ ہوتا؟ اس وقت بھی لباس تقیہ میں ملبوس ہو کر وہی کرتے جو اپنی خلافت کے زمانے میں کیا۔

سوال نمبر17: خلعت امامت جو کہ شیعی عقیدہ کے مطابق رسالت نبوت کے مانند من جانب اللہ عطا کردہ ہوتی ہے تو کیا رسول اور امام کے لیے جائز ہے کہ اپنی رسالت و امامت سے کسی کافر کے حق میں دستبردار ہو جائے، اور خلعت امامت اس کے گلے میں ڈال دے اگر جائز نہیں ہے تو امام حسن نے خلعت امامت امیر معاویہؓ کو سپرد کر کے حرام کا ارتکاب کیوں کیا؟ حالانکہ شیعہ حضرات کے عقیدہ کے مطابق امام معصوم ہوتا ہے، اور اگر امام حسنؓ کا امیر معاویہؓ سے صلح کر کے خلعت امامت سے دستبردار ہونا جائز تھا تو حضرت امام حسینؓ نے جائز کام پر امام حسنؓ کو کیوں برا کہا، یہاں تک کہ فرمایا کہ کاش اس صلح کی بجائے میری ناک کاٹ دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ ( بحوالہ مذکورہ)۔

 سوال نمبر 18: ابن مطہر حلّی کی روایت کے مطابق 18 ذی الحجہ 10 ہجری کو غدیرخم کے مقام پر صحابہؓ کے مجمع میں رسول اللہﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور بقول شیعہ یہ حضرت علیؓ کی خلافت کا اعلان عام تھا، تو پھر بروایت امام باقر رسول اللہﷺ نے مرض الوفات میں حضرت عباسؓ کو طلب فرما کر انصار اور مہاجرین کے رو برو یہ کیوں فرمایا کہ اے عباسؓ میں انتقال کرنے والا ہوں، لہذا تم میری خلافت قبول کر کے مجھے خلیفہ بنانے کے اہم کام سے سبکدوش کردو حضرت عباسؓ نے فرمایا کہ خلافت کے لائق تو حضرت علیؓ ہیں، مجھ میں اس کے تحمل کی صلاحیت نہیں ہے،

 اب سوال یہ ہے کہ مرض الوفات سے تقریبا تین ماہ قبل بقول شیعہ حضرات غدیر خم کے مقام پرحضرت علیؓ کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا اور انصار و مہاجرین کے مجمع میں اس کا اعلان بھی فرما دیا تھا۔ تو اب حضرت عباسؓ کے خلیفہ بنانے کے کیا معنی، اور اگر بالفرض بنایا تھا تو حضرت عباس کو خلافت کی پیشکش کر کے حضرت علیؓ کو عہدہ خلافت سے معزول کر دیا۔

سوال نمبر 19: شیعہ حضرات ائمہ اثنا عشریہ کے لیے عصمت ثابت کرتے ہیں اور یہ عقیدہ یہ رکھتے ہیں کہ امام پیدائشی معصوم ہوتا ہے،اور ثبوت میں آیت تطہیر

 اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا۔

کو پیش کرتے ہیں حالانکہ آیت تطہیر کی دلالت ثبوت عصمت پر نہیں ہے اس لیے کہ آیت میں اہل بیت کے نجاست سے پاک ہو جانے کی خبر نہیں دی گئی بلکہ ان امور پر عمل کرنے کی دعوت دی گئی ہے جن پر عمل کرنے سے طہارت حاصل ہوتی ہے، اگر اللہ تعالی کو اہل بیت کے لیے اسباب طہارت مقصود ہوتی تو عبارت اس طرح ہوتی اذھب اللہ عنکم الرجس و طھّرکم تطھیرا۔۔کہ اللہ تعالی نے تم لوگوں کو گندگی اور نجاست سے پاک کر دیا معلوم ہوا کہ آیت تطہیر کی دلالت اثبات عصمت پر نہیں ہے، اس کے برخلاف آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اہل بیت کو پاک صاف کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا ہے، اور پاک صاف اسی چیز کو کیا جاتا ہے جو گندی اور ناپاک ہو، پہلے ہی سے پاک صاف ہو تو اس کو پاک کرنے کی کیا ضرورت ہے یہ تو تحصیل حاصل ہے۔

 سوال نمبر 20:  اگر کوئی شیعہ کسی سنی سے صحیح بات بلا تقیہ کہنا چاہے تو کس طرح کہے چونکہ تقیہ کے لیے شیعوں کے یہاں کوئی شدید قید نہیں ہے لہذا شیعہ کی ہر بات میں تقیہ کا احتمال ہے۔ اگر کوئی شیعہ مخاطب کو اپنی بات کا یقین دلانے اور باور کرانے کے لیے کہتا ہے کہ میں یہ بات بلا تقیہ کہہ رہا ہوں تو اس کی کیا دلیل ہے کہ بلا تقیہ میں تقیہ نہیں ہے لہذا بیان فرمائیں کہ مخاطب کو بات کے بلا تقیہ ہونے کا یقین دلانے کی کیا صورت ہوگی؟

صفحہ 3 از 4