شیعہ حضرات سے 25 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ حضرات سے 25 سوالات

  مولانا محمد جمال صاحب دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 4

سوال نمبر 21 : حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شان میں اللہ تعالی نے کی اذ قال لصاحبه فرمایا ہے یعنی اللہ نے ابوبکر صدیقؓ کو رسول اللہﷺ کا صحابی فرمایا تو شیعہ حضرات حضرت ابوبکر صدیقؓ کو صحابی کیوں نہیں مانتے؟ 

 سوال نمبر 22: شیعہ حضرات حضرت علیؓ کی خلافت بلا فصل ثابت کرنے کے لیے دعوت ذوالعشیرہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں(دعوت ذوالعشیرہ کی تفصیل محاضرہ3، صفحہ 29 پر ملاحظہ فرمائیں) اور اپنے دعوے کے لیے نص قطعی سمجھتے ہیں، روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دعوت ذوالعشیر کے موقع پر 40 افراد کے روبرو دعوت توحید پیش فرماتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو شخص میری اس دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں تعاون کرے گا، وہ میرا خلیفہ ہوگا اور آپ کی دلی خواہش تھی کہ تمام حاضرین اسلام قبول کر لیں لہذا یہ عین ممکن تھا کہ تمام حاضرین یا اکثر ایمان قبول کرتے ہوئے آپ کا تعاون کرنے پر آمادہ ہو جائیں، اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں خلیفہ کون ہوتا، اگر سب خلیفہ ہوتے تو اجتماع خلفہ لازم آتا اور اگر ایک ہوتا تو ترجیح بلا مرجع لازم آتی۔

 سوال نمبر 23: شیعہ حضرات کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرت علیؓ بلکہ تمام ائمہ من جانب اللہ امامت کے لیے نامزد ہیں حالانکہ روایت ذوالعشیر کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ خلافت کے لیے من جانب اللہ نامزد نہیں تھے، بلکہ حاضرین میں سے وہ شخص خلافت کا مستحق تھا جو سبقت کر کے آپ کی دعوتِ توحید پر لبیک کہہ دیتا، اور وہ کوئی بھی ہو سکتا تھا۔ اور اگر حضرت علیؓ خلافت کے لیے نامزد تھے تو آپ کا دعوت کے موقع پر یہ فرمانا کہ جو شخص میرے اس دعوت و تبلیغ کے معاملے میں تعاون کرے گا وہ میرا خلیفہ ہوگا بے معنی بات تھی اور اگر خلافت کے لیے صرف اتنی بات کافی تھی کہ شہادتین کو قبول کر لے اور تعاون کرے تو یہ کام تو ساری امت کے نے کیا ہے، اور بنی عبدالمطلب میں سے حضرت حمزہؓ، حضرت جعفر، حضرت عبیدہ ابن الحارثؓ وغیرہ نے بھی شہادتین کو قبول کیا اور تعاون بھی کیا حالانکہ یہ حضرات خلیفہ نہیں ہوئے؟

 سوال نمبر 24: حضرات شیعہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہﷺ کو یہ بات معلوم تھی کہ حضرت علیؓ اللہ کے نزدیک محبوب ترین ہیں، اور اسی وجہ سے اللہ تعالی نے حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ کے بعد خلیفہ نامزد کیا تھا، حالانکہ خود حدیث ہے طائر جس کو شیعہ حضرات حضرت علیؓ کی خلافت میں بلا فصل کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں معلوم نہیں تھا اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے عام الفاظ کے ساتھ دعا فرمائی تھی۔ 

اللہم ائتنی باحب الخلق الیک والی یاکل معی ھذا الطیرافجا علی، آپ نے فرمایا اللہ تو کسی ایسے شخص کو میرے ساتھ اس پرندہ کو کھانے کے لیے بھیج دے جو تیرے اور میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہو تو حضرت علیؓ تشریف لائے۔

اگر رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کے بارے میں احب الناس عند اللہ ہونا معلوم ہوتا تو رسول اللہﷺ دعا کے لیے عام الفاظ کی بجائے حضرت علیؓ کا نام لے کر اس طرح فرماتے اے اللہ تو حضرت علیؓ کو جو کہ تیرے اور میرے نزدیک میں احب الناس ہے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بھیج دے (حدیث طیر کی تفصیل کے لیے محاضر4/5صفحہ17 ملاحظہ فرمائیں)

سوال نمبر 25: شیعہ حضرات کے نزدیک معتبر ترین کتاب نہج البلاغہ جو کہ ان کے نزدیک حضرت علیؓ کے اقوال کا مستند ترین مجموعہ ہے میں مذکور ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے دوستوں سے فرمایا تھا 

لا تلقو عنہ مقالۃ بحق ومشورۃ بعدل فانی لست بفوق اٰن احطی و لااٰمن من ذلک فی فعلی،یعنی تم حق بات کے لیے اور انصاف آمیز مشورہ دینے سے باز نہ رہو اس لیے کہ میں خطا اور لغزش سے بالاتر نہیں ہوں، اور نہ اپنے فعل میں خطا سے مامون ہوں ظاہر ہے، کہ یہ الفاظ کسی معصوم کے نہیں ہو سکتے اگر حضرت علیؓ کا فرمان واقعہ کہ مطابق اور سچ نہیں تھا تو کذب ہے، اور کاذب معصوم نہیں ہو سکتا اور اگر واقعہ کے مطابق تھا تو حضرت علیؓ نے خود فرمایا کہ میں معصوم نہیں ہوں بہرحال دونوں صورتوں میں عصمت معدوم ہے۔

 اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ.» آمین یا رب العالمین۔


صفحہ 4 از 4