اہل سنت مسلک کا بیچ پختہ ہو گیا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل سنت مسلک کا بیچ پختہ ہو گیا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 2

شاہ صاحبؒ نے دو جماعتیں اپنے قصبہ گوہلہ میں پڑھیں، تیسری میں تھے کہ آپ کی ہمشیرہ آپ کو ٹھسکہ میراں لے گئیں وہاں تیسری سے چھٹی تک پڑھا اسی دوران میں اسکول کے بقیہ وقت اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حافظ کمال الدین صاحبؒ سے ناظرہ قرآن کریم پڑھنا شروع کیا ۔ اس دوران چند سورتیں سورۃ یٰس اور سورة تبارک الذی حفظ کرلی تھی اس طرح آپ کی ابتدائی تعلیم ایک صحیح العقیدہ سنی حافظ سے ہوئی جس کا اثر آگے چل کر بہت اچھا ہوا ۔ شاہ صاحبؒ نے ساتویں جماعت قصبہ شاہ آباد میں پڑھی اور 1926ء میں ٹھسکہ میراں میں مڈل کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد ان ٹرینڈ ٹیچر مقرر ہوگئے پھر جے وی پاس کرنے کے بعد بحیثیت اول مدرس پرائمری سکول تقرر ہوگیا دو سال بعد اجرانہ کلاں تحصیل تھانیسر تبادلہ ہو گیا۔

تمام برائیوں کی جڑ تین چیزیں

شاہ صاحبؒ کا زیادہ قیام اپنی ہمشیرہ صاحبہ کے ہاں رہا جن کے خاوند قاضی لطیف حسین صاحبؒ سنی العقیدہ تھے، نیز حافظ کمال الدین صاحبؒ کی شاگردی کےاثرات نے آپ کے فطری میلان کو قوت بخشی، مزید یہ کہ شیعہ سنی اختلاف کی تحقیق کیلئے بعض احباب کے مشورے سے شاہ صاحبؓ نے مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہؒ سے بھی خط و کتابت کی اور مولانا موصوفؒ کے مشورہ پر آپ نے مولانا عبد الشکور لکھنوی قدس سرہ کی اکثر تصانیف کا مطالعہ کیا ان سب چیزوں نے شاہ صاحبؒ کے میلان طبع میں سونے پر سہاگے کا کام کیا اور آپ نے اچھی طرح محسوس کر لیا کہ چونکہ مذہب شیعہ میں تین بنیادی چیزیں ایسی ہیں جو تمام برائیوں کی جڑ ہیں تبرّا۔۔۔تقیہ۔۔۔تمتع جو کسی مذہب میں روانہیں ہیں۔۔ ایسے مذہب سے کس طرح خیر کی توقع کی جاسکتی ہے لہذا شاہ صاحبؒ خوب غوروفکر کرنے کے بعد ایک راسخ العقید و سنی مسلمان بن گئے۔

سنی ہونے کے بعد مصائب کا سامنا

جب شاہ صاحبؒ کے سنی عقائد کا علم آپ کے شیعہ رشتہ داروں کو ہوا تو وہ آپ کے راستہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں اور پریشانیاں پیدا کرنے کے درپے ہو گئے جس سے آپ کے عزم و استقلال میں ان کی توقعات کے خلاف اضافہ ہی ہوتا گیا، جب کوئی حربہ کارگر نہ ہوا تو خاندان والے شیعوں نے آپ کے خلاف سوشل بائیکاٹ کی مہم شروع کردی یعنی سقا، بھنگی، حجام، تیلی اور کمھار وغیرہ کو شاہ صاحبؒ کے ہاں کام کرنے سے روک دیا گیا، معاشرے کے یہ تمام افراد سنی العقیدہ تھے نیز شاہ صاحبؒ کے اجداد ہی نے ان کو قرب وجوار کے دیہات سے لاکر یہاں آباد کیا تھا اور ان لوگوں کو باقاعدہ اجرت نہیں دی جاتی تھی بلکہ فصل خریف اور فصل ربیع دونوں میں ان کا معمولی سا حصہ مقرر تھا اس طرح وہ محکوم اور غلام کی طرح رہتے تھے اور اپنے آقاؤں کے خلاف قدم اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتے تھے۔

لیکن حق سبحانہ و تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے ان لوگوں کے دلوں میں رحم ڈال دیا اور انھوں نے ریاست وامارت کے دباؤ کے باوجود عقائد کے پیش نظر چوری چھپے، وقت بے وقت اور کئی کئی دن کی تاخیر سے جیسا موقع ہوتا شاہ صاحبؒ کے گھر کے کام انجام دیتے رہے اور یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا لیکن آپ کے پایہ استقلال میں ذرا بھی تزلزل واقع نہ ہوا۔

اس ناکامی و نامرادی کے باوجود بھی شاہ صاحبؒ کے شیعہ رشتہ دار اپنی فتنہ پردازیوں اور ریشہ دوانیوں سے باز نہ آئے، چنانچہ انھوں نے اپنے پروگرام کے مطابق رمضان المبارک سے کچھ عرصہ قبل انسپکٹر آف اسکولز اور دیگر حکام سے مل کر شاہ صاحبؒ کا تبادلہ مسلم اکثریت والے گاٶں اجرانہ کلاں سے خالص ہندو آبادی والے گاؤں اجرانہ خورد کے اسکول میں کرا دیا تاکہ آپ کو کھانے، پینے، نماز، روزہ اور دیگر عبادات میں تکلیف و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، یہ تمام حربے صرف اس لیے کیے جارہے تھے کہ شاید آپ پریشان ہو کر اپنے عقائد سے رجوع کرلیں۔ مگر حق سبحانہ و تعالی کی نصرت واعانت ہر ہر قدم پر آپ کے شامل حال رہی اور آپ کے عقائد و خیالات مزید راسخ ہوتے گئے۔

جب شاہ صاحبؒ اجرانہ خورد میں تبادلہ کے بعد انسپکٹر آف اسکولز کو درخواست دی جس میں اپنی خوردونوش کی تکلیف و عبادات میں خلل کا ذکر کیا تو انسپکٹر آف اسکولز نے آپ کو بلا کر کہا کہ آپ کے ہی خاندان والوں نے آکر آپ کی طرف سے درخواست کی تھی کہ آپ اس گاؤں میں تبادلہ چاہتے ہیں، اس وقت آپ کو اس سازش کا علم ہوا اور آپ نے انسپکٹر صاحب کو واقعہ کی حقیقت سے آگاہ کیا چنانچہ انسپکٹر آپ کی گفتگو سے متاثر ہوا اور فورا آپ کا تبادلا اجرانہ خورد سے اجرانہ کلاں کر دیا۔

بیعتِ و خلافت

اسی دوران شاہ صاحبؒ نے مولانا اسلام الدین کے واسطہ سے بذریعہ خط خواجہ محمد سعید قریشی ہاشمی احمد پوریؒ سے بیعت کر لی اور منشی فاضل کا امتحان 1932ء میں پاس کیا اور پھر دہلی میں ٹیچر مقرر ہوئے یہ نو سال وہاں رہے 1935ء میں خواجہ محمد سعید قریشیؒ نے شاہ صاحبؒ کو ایک خط دے کر خواجہ فضل علی قریشیؒ مسکین پوروالوں کے پاس بھیجا کہ ان کو خلافت دیدیں۔

پاکستان ہجرت اور دین اسلام کی خدمات

پاکستان ہجرت کے بعد شاہ صاحبؒ خیر پورٹامیوالی میں سکونت پذیر ہوئے 1956ء میں قرآن کریم آپ نے حفظ کیا اور پھر 1966ء میں کراچی منتقل ہو گئے اور دو کام کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیا

 (1)۔۔۔۔ طریقہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی تبلیغ و ترویج اور

(2)۔۔۔۔ تصنیف وتالیف اکیس سے زائد کتابیں سوانح، فقہ، سلوک وغیرہ موضوعات پر لکھیں "عمدة السلوك" "عمدة الفقہ" "وزبدة الفقہ" "مکتوبات معصومیه" ، "انوار معصومیه" "گلدسته مناجات" ، ان کی مشہور تصانیف ہیں۔۔۔

 شاہ صاحبؒ کی وفات 1400ھ بمطابق 1980ء کو ہوئی۔

 (ماخوذ از مقامات زواریہ)


صفحہ 2 از 2