مفتوحہ شہروں میں فوجی چھاؤنیاں
علی محمد الصلابیمفتوحہ ممالک کے تمام شہروں میں اور خاص طور سے شام کے شہروں میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جن فوجی چھاؤنیوں کو قائم کیا انہیں آپؓ نے اجناد لشکر کا نام دیا، چنانچہ آپؓ نے ان شہروں میں فوجی چھاؤنیاں بنائیں، ان میں فوج کے رہنے کے لیے بیرکیں بنائیں گھوڑوں کے اصطبل بنائے جن میں بیک وقت کم از کم چار ہزار گھوڑے ساز و سامان اور پوری تیاری کے ساتھ ہر وقت تیار رہتے تھے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 138، تاریخ الدعوۃ: صفحہ 341)
ایسی تیاری کا مقصد محض یہ تھا کہ اگر اچانک ضرورت پیش آ جائے تو معمولی وقت میں چھتیس ہزار 36000 سے زیادہ شہسوار مجاہدین کا یہ دستہ صرف ملک شام سے میدانِ جنگ کے لیے فوراً نکل پڑے، ہر فوجی چھاؤنی میں آپؓ نے گھوڑوں کے لیے وسیع و عریض چراگاہ بھی تیار کرائی تھی، اور حکم الہٰی کی تنفیذ میں رمزی علامت کے طور پر ہر گھوڑے کی ران پر داغ کر یہ لکھ دیا جاتا:
جَیْشُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔
ترجمہ:یعنی یہ لشکر اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے وقف ہے۔
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ ۞ (سورۃ الأنفال: آیت 60)
ترجمہ: '’اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کر سکو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو ڈراؤ گے، جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے۔‘‘