مذہب اہل سنت کو کلام الہی کے مطابق پایا - ردِ رافضیت | دفاع…

مذہب اہل سنت کو کلام الہی کے مطابق پایا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 3

مختلف مذاہبِ کے اسی گہرے مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے بائیس سال کی عمر میں شیعہ مذہب ترک کر دیا اور ایک راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہوگئے آیاتِ بینات کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں

" میں اپنے خدائے بزرگ و برتر کا ہزار ہزار شکر کرتا ہوں کہ میں ان چند آدمیوں میں سے ہوں جنہوں نے اپنی نجات کی امید پر دونوں مذاہبِ کے اصول پر انصاف سے غور کیا اور مذہب اہلِ سنت کو کلامِ الٰہی کے مطابق پاکر اور مذہب امامیہ کواس کے مخالف دیکھ کر اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنے اور تمام کنبے قبیلے سے جدا ہونے میں کچھ کسی کا لحاظ و خیال نہیں کیا اور اِمامیہ مذہب کو جو مصرع" برعکس نام نہند زنگی را کافور" کے مطابق ائمہ کرام کے عقائد کے مخالف ہے، چھوڑ کر سچا مذہب اہلِ سنت والجماعت اختیار کیا"

 آیاتِ بینات کی تصنیف کی ضرورت

آیاتِ بینات کی تصنیف کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کی داستان خود مصنف کی زبان قلم سے سنیئے وہ لکھتے ہیں!

" چونکہ میرے عزیز و اقارب اور بھائی بھتیجے اکثر اپنے قدیم مذہب (شیعہ) پر ہیں اور مجھے گمراہ جانتے ہیں اس لیے میں ان پر دلائل عقلیہ کو ظاہر کرتا ہوں جنہوں نے میرے دل کو ان کے مذہب سے متنفر کیا اور ان شواہد نقلی کو بیان کرتا ہوں جن کے سبب سے میں نے مذہب اھلِ السنت والجماعت کو اچھا جان کر اختیار کیا، اسی واسطے میں یہ رسالہ اہلِ سنت والجماعت کی خوبیوں میں لکھتا ہوں، خدا کرے میرے اور بھائی اس کو نظر انصاف سے دیکھیں اور اپنے باطل عقیدوں کو چھوڑیں------اللھم آمین"

نواب محسن الملک مرحومؒ نے جب اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر مذہب اہلِ السنت والجماعت اختیار کرلیا تو لوگوں میں بڑی چہ میگوئیاں ہوئیں بعض حضرات نے ان کے اعزہ سے تبدیلی عقائد کا سبب دریافت کیا جس کے جواب میں ان کو بتایا گیا

" خود مہدی علیؒ کی مذہبی معلومات محدود اور ناقص تھیں اس لیے انکے بعض ملنے والوں نے بہکا سکھا کر انھیں اپنی راہ پر لگا لیا"

یہ بات محسن الملک مرحومؒ کو بھی معلوم ہوئی انھیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے یہ کتاب لکھنی پڑی اس میں انھوں نے پوری طرح بتا دیا کہ

" میں نے ناقص معلومات کی بنا پر مذہب تبدیل نہیں کیا بلکہ مذاہبِ کے گہرے مطالعہ نے مجھے اس اقدام پر مجبور کیا ہے"

 آیاتِ بینات کا مختصر تعارف

جہاں تک آیاتِ بینات کا تعلق ہے,تحفہ اثنا عشریہ کے بعد اپنی نوعیت اور شان کی یہ ایک منفرد تصنیف ہے، یہ نقش ایک ایسی ہستی سے نے تیار کیا ہے جو شیعہ مذہب کی تمام جزائیات و تفصیلات اور باریکیوں سے واقف تھی اور جس نے دونوں مذاہبِ کا عمیق مطالعہ کرکے شیعہ مذہب کی خامیوں اور کوتاہیوں کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا اس کتاب میں انھوں نے اپنی تحقیقات کے نتائج جمع کیے ہیں نیز اس کتاب میں بعض وہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں جن سے عام طور پر لوگوں کو واقفیت نہیں تھی مثلاً طینت کا مسئلہ کافی پڑھے لکھے لوگ بھی اس عقیدہ کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جو اس مسئلہ سے وابستہ ہے, محسن الملکؒ نے عام آدمیوں کو نہ صرف اس سے روشناس کرایا بلکہ اس کے علاوہ اور بھی متعدد عجائبات و طلسمات ہیں جن کو اس کتاب نے بے نقاب کیا ہے کتاب کا انداز بیان نہایت دلکش ہے اس میں سنجیدگی، وقار اور اثر و تاثیر ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، ہر بات کی تائید یا تردید میں کئی کئی دلیلیں پیش کے گئی ہیں اور وہ سب ہی قوی ہیں ، کتاب کا موضوع اگرچہ مذہبی مسائل ہیں لیکن لہجہ یا عبارت میں کہیں بھی یبوست کی جھلک دکھائی نہیں دیتی بلکہ بعض جگہ مصنفؒ نے مزاحیہ اور ظریفانہ اندازِ اختیار کر کے زبان کے حسن کو اور بھی نکھار دیا ہے ۔ یہ کتاب مناظرہ کرنے والوں کے لیے تو ایک قیمتی تحفہ ہے ہی، انکے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ایک قابل مطالعہ کتاب ہے، ہر شخص کے واسطے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو تازہ اور عقائد کو مضبوط کرنے کےلیے یہ کتاب نہایت توجہ سے پڑھے، اگر ایسا کیا گیا تو یقین ھے کہ راہ راست سے بھٹکنے کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے اس کتاب کا انداز بیان مناظرانہ نہیں بلکہ محققانہ اور بڑی حد تک ناصحانہ ہے انکی اس محنت اور وسعت مطالعہ اور صحت نقل و اقتباس کو اگر کوئی دیکھ لے تو داد دئیے بغیر کوئی انصاف پرور نہیں رہ سکتا، جو کچھ لکھا اکثر و پیشتر خود شیعہ علماء اور مجتہدین کرام کی کتابوں سے اخذ کیا اور ہر جگہ حوالے بھی دیتے گئے نہ کہیں نقل و اقتباس میں کتربیونت کی اور نہ کہیں مناظرانہ انداز میں مخالف کو نیچا دکھانے کی کوشش فرمائی بلکہ ناصحانہ و مشفقانہ انداز میں بات سمجھائی

انہوں نے اس کتاب" آیاتِ بینات" کے علاؤہ اور بھی متعدد کتابیں لکھیں اور حق یہ ہے کہ انکے قلم سے اس کتاب کے علاؤہ کوئی اور کتاب نہ نکلتی اور نہ کوئی مضمون لکھتے پھر بھی انکی یہی کتاب انکے وسیع مطالعہ اور ذوق کے لیے شاہد و عادل ہوتی اور اس بات کی دلیل قاطع ہوتی کہ محسن الملکؒ ایک بے لاگ حق پسند اور بے تعصب محقق تھے انکی تقاریر کا مجموعہ" تقاریر محسن الملک" کے نام سے چھپا ہے اور انکی سوانح عمری بھی "سوانح محسن الملک" کے نام سے شائع ہوئی ہے آیاتِ بینات کی تالیف کے بعد موصوف پینتالیس سال زندہ رہے لیکن اس طویل عرصہ میں شیعہ اس کتاب کا جواب نہ دے سکے

ان کا انتقال بتاریخ 9 رمضان 1325ء ھ بمطابق 16 اکتوبر 1907 ء بمقام شملہ ہوا

 انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

آیاتِ محکمات اور اس کی حیثیت

صفحہ 2 از 3