مذہب اہل سنت کو کلام الہی کے مطابق پایا - ردِ رافضیت | دفاع…

مذہب اہل سنت کو کلام الہی کے مطابق پایا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 3

 آیاتِ بینات کا منظر عام پر آنا تھا کہ ایک شورش برپا ہوگئی چونکہ اس میں انہوں نے شیعہ مذہب پر بہت سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا اور شیعہ مذہب پر بہت سے اعتراضات کیے تھے اس لیے فریق مخالف کی جانب سے جواب دینا ضروری سمجھا گیا ان کی زندگی میں تو کوئی جواب دینے کی جرات نہ کر سکا مگر جب ان کی وفات ہو گئی تو ان کے ایک عزیز نے جواب میں ایک کتاب لکھی جو دو ضخیم جلدوں پر مشتمل تھی آیاتِ بینات کے وزن پر اس کا نام "آیاتِ محکمات "رکھا گیا لیکن سچ پوچھئے تو اس کتاب کی ضخامت کو خیر ضروری تفصیلات اور ضرورت سے زیادہ جلی خط سے بڑھایا گیا تھا ایک صفحہ پر قال کے عنوان سے اعتراض ہے اور دوسرے صفحہ پر اس کا جواب پھر جواب کے طور پر وہی گھسی پٹی روایات دہرا دی گئی ہیں جن کو رد کیا جاچکا تھا دونوں کتابوں کے طرز بیان اور طریقہ استدلال کو ملا کر دیکھ لیاجائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ" آیاتِ محکمات" کو لکھ کر اس کے مصنف نے گویا منہ چڑایا ہے

 مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی رائے

 مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں نواب محسن الدولۃ محسن الملک منیر نواز جنگ سید مہدی علیؒ بن سید ضامن علی حسینی اس دور کے ممتاز ترین فضلاء عالی دماغ اور ہندوستان کی جدید تعلیم یافتہ نسل کے محسنوں اور معماروں میں سے تھے اپنے مطالعہ اور فطری سلامت طبع اور غور و فکر کی صلاحیت کی بنا پر سنی مذہب اختیار کیا نواب محسن الملکؒ بڑی طاقتور شخصیت کے مالک تھے سحر بیان مقرر اور پرزور لکھنے والے تھے ان کی کتاب آیاتِ بینات اپنے موضوع پر ایک معرکۃ الآرا کتاب ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بارے میں شیعہ فرقہ کے عقیدے اور رویے کو دیکھ کر نواب محسن الملک مولوی سید محمد مہدی علی صاحبؒ نے آیاتِ بینات میں جو کچھ لکھا ہے اس پر اضافہ اور اس سے بہتر طریقے پر اس نفسیاتی و ذہنی رد عمل کا اظہار آسان نہیں جو کہ ایک سلیم الطبع انسان پر اس سے واقف ہونے کے بعد ہوتا ہے ( ماخوذ ازدین اسلام اور اولین مسلمانوں کی دو متضاد تصویریں صفحہ 60۔61)


صفحہ 3 از 3