ملک شام کی فوجی چھاؤنیاں
علی محمد الصلابیدمشق کی فوجی چھاؤنی:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بالترتیب تین لوگ اس کے ذمہ دار اعلیٰ بنے:
1۔ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما
2۔ سوید بن کلثوم رضی اللہ عنہ
3۔ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما
حمص کی فوجی چھاؤنی:
اس کے پہلے ذمہ دار حضرت ابو عبیدہ عامر بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، پھر عبادہ بن صامت، پھر عیاض بن غنم، پھر سعد بن عامر بن خذیم، پھر عمیر بن سعد، پھر عبداللہ بن قرط رضوان اللہ علیہم اجمعین بالترتیب اس کے ذمہ دار رہے۔
قنسرین کی فوجی چھاؤنی:
اس کے اولین ذمہ دار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، پھر حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ اس کے ذمہ دار بنے۔
فلسطین کی فوجی چھاؤنی:
اس کے اولین ذمہ دار یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد حضرت علقمہ بن مجرز رضی اللہ عنہ تھے۔
اردن کی فوجی چھاؤنی
یہ ’’طبریہ‘‘ میں واقع تھی، اس کے اولین ذمہ دار شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ ذمہ دار ہوئے۔ طاعون عمواس میں جب یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی وفات ہو گئی تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق اور اردن کی فوجی چھاؤنیوں کی بھی ذمہ داری سنبھالی۔
(تاریخ الدعوۃ: صفحہ 341)
درحقیقت اللہ کی رضا جوئی کی خاطر جذبہ جہاد نے بہت سارے صحابہ و علماء تابعین کو ان مقامات کی طرف کوچ کرنے پر ابھارا جنہیں شہری حیثیت اور سرحدی حفاظت حاصل ہو چکی تھی، دور دراز علاقوں کو چھوڑ کر یہاں آ کر آباد ہونے کے پیچھے ان کا یہ جذبۂ صادق بھی کار فرما تھا کہ وہ اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت، قرآن و سنت کی تعلیم اور جہاد فی سبیل اللہ میں بھرپور حصہ لیں، اس طرح مدینہ منورہ، بصرہ، کوفہ، دمشق اور فسطاط گنجان آبادی والے شہر بن گئے۔ لوگ وہاں حصولِ علم اور جہاد کی نیت سے منتقل ہوئے یا فوجی دیوان میں نام درج کرانے اور سرکاری عطیات حاصل کرنے، یا تجارت اور دیگر صنعت و حرفت سیکھنے اور وسیع کرنے کی نیت سے وہاں آباد ہوئے، نتیجتاً ان تمام اسباب و وسائل نے ان شہروں کو تہذیب و تمدن کا منارہ بنا دیا جہاں مختلف علوم و معارف اور مختلف صنعت و حرفت کی نمو و ترقی ہوئی۔
(اقتصادیات الحرب فی الاسلام: صفحہ 250)