میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا!
مولانا محمد اسماعیل میلسویمیں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا!
داستانِ ہدایت ۔۔۔۔۔۔شیخ محمد فراست
شیخ محمد فراز کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھاجو کم علم صوفیوں کی محبت میں تفضیلیت زدہ تسنن کا شکار تھا یعنی بظاہر سنی تھا مگر درحقیقت وہ تفضیلی شیعہ تھا ان کے گھر میں شہادت نامے پڑھے جاتے تھے ان کی شیعہ لڑکوں سے دوستی تھی اس کی وجہ سے وہ شیعوں کی مجالس میں بھی جاتے تھے شیعہ خطیبوں کی لفظی بھول بھلیوں سے متاثر ہو کر شیعوں کی طرف مائل ہو گئے تھے حتی کہ ایک ایسا وقت آیا کہ انہوں نے شیعہ ہونے کا اعلان کرنے کے لیے راہیں ہموار کرنا شروع کر دی لیکن اللہ تعالی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ شیعہ کے اعلان کرنے سے اور شیعی قائد کے تاثر سے کیسے بچے۔۔۔۔۔۔؟! اس کی تفصیل انہوں نے آیات بیناتِ کے شروع میں لکھی ہیں آئیے انہی کی زبانی سنتے ہیں۔
شیعہ سے متاثر ہونے کے اسباب
آیاتِ بینات کی اشاعت میری ایک دیرینہ تمنا کی تکمیل ہے کیونکہ یہی وہ میری محسن کتاب ہے جس نے مجھے گمراہی کے اندھیرے غار میں گرنے سے بچا لیا بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے اوائل میں میرے دل و دماغ پر شیعی افکار ونظریات چھائے ہوئے تھے بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ ان دنوں میں بظاہر تو اہلِ سنت مگر بہ باطن شیعہ تھا. شیعیت کی طرف مائل ہونے کے لیے میرے لیے یوں تو کئی سبب تھے مگر ان میں دو سبب بہت اہم تھے. ایک تو میرا گھریلو ماحول دوسرا میرا شیعہ دوست. میرے خاندان کے بزرگ کچھ عابد و زاہد مگر کم علم صوفیوں کی محبت میں اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے جانے انجانے میں تفضیلیت زدہ تسنن کا شکار تھے. اودھ کے اکثر گھرانوں کی طرف میرے گھر میں بھی شہادت نامہ پڑھنے اور تعزیہ داری کا رواج تھا. اسی ماحول میں میری بھی پرورش ہوئی. اور میں بذات خود سیدنا حسینؓ کی دردناک شہادت سے جو کہ مسلمانوں ہی کے ایک گروہ کے ہاتھوں ہوئی تھی. بے حد متاثر تھا اور آج بھی ہوں ـ اللہ مجھے معاف کرے ان دنوں سیدنا معاویہؓ کے بارے میں میرے خیالات بہت جارحانہ تھے اور ان کے بارے میں اکثر میری زبان سے نازیبا کلمات نکل جاتے تھے میری اس روش سے شیعہ دوستوں کو حوصلہ ملا اور انہوں نے زمین ہموار دیکھی تو دانہ ڈال کر آب پاشی شروع کر دی. ان دنوں لکھنؤ میں قصبہ جرول ضلع بہرائچ کے ایک وکیل صاحب جو کہ خطیب الایمان کے لقب سے مشہور تھے رد اہلِ سنت کرنے اور اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے شیعوں کے ایک خاص طبقہ میں کافی مقبول تھے میرے شیعہ دوست ایک طرف تو مجھے ان کی مجالس میں لے جانے لگے اور دوسری طرف خورشید خاور المعروف شبہائے پشاور اور ان جیسی مناظرانہ طرز کی کتابیں مطالعہ کے لیے دینے لگے چونکہ مجھے شیعہ سنی بنیادی اختلافی مسائل جیسے امامت تحریف قرآن اور سب صحابہؓ جیسے اصولی مسائل کا صحیح علم نہیں تھا اس لیے شیعہ خطیبوں کی لفظی بھول بھلیوں اور واقعہ کربلا کے حوالے سے ان کی فلسفیانہ موشگافیوں نیز منطقی دلائل سے متاثر ہو کر حب اہلِ بیت کے جذباتی نظریہ کی رو میں بہتا چلا گیا پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں نے اپنی شیعت کے اعلان کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کر دی مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ایک صوفی بزرگ کے ذریعے میری اصلاح مقدر تھی ـ
تم نے کوشش ہی نہیں کی
قصہ یوں ہوا کہ ان دنوں میرے گھر والوں پر قصبہ سندیلہ ضلع ہردوئی کے ایک صوفی بزرگ جن کا نام سید محمد نور الحسن شاہ عرف اچھومیاں تھا کا کافی اثر تھا جنھیں ہم لوگ دادا میاں کہتے تھے اور میرے گھر والے اپنے اہم معاملات میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے ایک دن جب وہ میرے گھر تشریف لائے تو میں نےڈرتے ڈرتے تنہائی میں اپنے اس ارادے کا اظہار کر دیا کافی دیر تک تبادلہ خیال ہوتا رہا انھوں نے بڑے غور سے میری باتوں کو سننے کے بعد فرمایا کہ میرا خیال ہے تم نے اب تک شیعہ حضرات کو ان کی مجلسوں اور ان کی مناظرانہ طرز کی کتابوں ہی کا مطالعہ کیا ہے جن کا تمہارے دل و دماغ پر گہرا اثر ہے مذہب بدلنا کوئی معمولی بات نہیں اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اہلِ سنت کی مناظرانہ طرز کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرو اور پھر دونوں مزاہب پر غور و فکر کرنے کے بعد جس نتیجے پر پہنچو اس کے مطابق فیصلہ کرو میں نے عرض کیا کہ شاید اہلِ سنت میں مناظرانہ طرز کی کتابیں کم یاب ہیں. کیونکہ اب تک میری نظر سے جو کتابیں گزری ہیں وہ سیرتِ رسولﷺ اولیاء کرامؒ کے تذکروں یا پھر مسئلہ مسائل پر مشتمل تھیں۔ میری اس بات پر انہوں نے میری طرف بہت حیرت سے دیکھا اور فرمایا کہ تمہیں دستیاب نہیں ہوئی یا تم نے کوشش ہی نہیں کی۔
دیوبندی بریلوی کا کیا سوال
لکھنؤ میں رہنے کے باوجود تمہارا یہ کہنا بڑا تعجب خیز ہے لکھنؤ تو شیعہ سنی مباحث کا گڑھ ہے. یہاں پر مولوی عبد الشکور کاکورویؒ نے شیعہ سنی مباحث پر قابل قدر کام کیا ہے خصوصا شیعوں کے عقیدہ تحریف قرآن پر تو بڑی معرکۂ الآرا کتابیں تحریر کی ہیں اگر تم کوشش کرتے تو ان کی کتاب تمہیں ضرور دستیاب ہو جاتیں میں نے عرض کیا! کہ حضرت وہ تو ایک وہابی دیوبندی نظریات کے عالم ہیں. ہم ان کی کتابیں کیوں کر پڑھیں؟ اس پر فرمایا کہ شیعہ سنی اختلافات میں دیوبندی, بریلوی کا کیا سوال اٹھتا ہے؟ دونوں خلفائے راشدینؓ کو خلیفہ برحق مانتے ہیں. دونوں اصحابِ رسولﷺ کی تعظیم کرتے ہیں. اس لیے اس معاملہ میں شیعوں کی طرف سے اٹھنے والے سوالوں کے دونوں جواب دہ ہیں۔ میں نے خود مولوی عبدالشکورؒ کی کئی کتابیں پڑھی ہیں۔ سندیلہ میں میرے والد کے ایک مرید شبومیاں ہیں جنہیں شیعہ سنی مباحث سے بڑا گہرا شغف ہے ان کے پاس اس طرح کی کتابوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہے میں آٹھ دس دن میں سندیلہ پہنچ کر ان سے تمہارا ذکر کروں گا۔ اور کوئی آتا ہوگا تو اس کے ہاتھ تمہیں کچھ کتابیں بھجوا دوں گا جب ان کتابوں کا مطالعہ کرلو تو سندیلہ آنا میں ان سے تمہاری گفتگو بھی کروا دوں گا۔
ذہن کے دریچے روشن ہو گئے اس گفتگو کے پندرہ بیس دنوں کے بعد میرے ایک عزیز کتابوں کا ایک بنڈل اور ایک خط لے کر آئے جس کا مضمون کچھ اس طرح تھا میں تمہیں آیاتِ بینات، نصیحتہ الشیعہ، تنبیہ الحائرین، ابو الائمہ کی تعلیم، قصہ قرطاس کا کفر شکن فیصلہ، قاتلان حسین کی خانہ تلاشی اور مناظرہ امروہہ کل سات کتابیں بھیج رہا ہوں۔ میں نے جس ترتیب دی ترتیب سے نام لکھے ہیں اسی ترتیب سے کتابیں پڑھنا آیاتِ بینات کو خصوصا بڑی توجہ اور غور سے پڑھنا کیونکہ یہ ایک ایسے عالم کی لکھی ہوئی ہے جو خود پہلے شیعہ تھے پھر دونوں مذاہب کے اصول و فروغ پر غور و فکر کے بعد اہلِ سنت ہو گئے تھے اگر ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد بھی ذہن مطمئن نہ ہو تو دل چاہے تو لکھنؤ میں مولوی عبدالشکور صاحبؒ سے رجوع کرنا یا پھر میرے پاس آنا میں شبومیاں سے تمہاری ملاقات و گفتگو کرا دوں گا
میں نے آیاتِ بینات کا مطالعہ شروع کیا جوں جوں کتاب پڑھتا گیا ہے ذہن کے دریچے روشن ہوتے گئے ایسا محسوس ہوا گویا کہ میں اب تک سخت ترین تاریکی میں تھا اس کے بعد نصیحتہ الشیعہ اور دیگر کتابوں کا بھی مطالعہ کیا میری بڑی بدقسمتی رہی جن دنوں میں ان کتابوں کا مطالعہ کر رہا تھا اسی درمیان حضرت مولانا عبدالشکور صاحب نور اللہ مرقدہ کا وصال ہو گیا اور ان سے ملاقات کی تمنا دل ہی دل میں رہ گئی اس کے بعد جانشین امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبد السلام صاحب فاروقیؒ اور حضرت مولانا عبدالاول صاحب فاروقیؒ کی صحبت نصیب ہوئی اور ان حضرات سے راہنمائی حاصل کرتا رہا۔
کتاب کی اشاعت کا جذبہ انہی دنوں مجھے خیال آیا جس طرح میں شیعت کا شکار ہوا جا رہا تھا اسی طرح بہت سے اللہ کے بندے جو شیعہ حضرات کی صحبت میں رہتے ہوں گے اس مذہب سے نا واقفیت کے سبب شیعہ یا نیم شیعہ ضرور بن جاتے ہوں گے اس لیے آیاتِ بینات اور نصیحتہ الشیعہ جیسی کتابوں کی اشاعت برابر ہوتی رہنی چاہیے پھر جب میں نے حضرت مولاناعبد الاول صاحبؒ سے اس بات کو ذکر کیا کہ آیاتِ بینات ہندوستان میں 1934ء کے بعد سے (جس کو ایک بڑا عرصہ ہو گیا ہے) اب تک نہیں چھپی ہے اور میں اس کی اشاعت کرانا چاہتا ہوں. تو بہت خوش ہوئے. اور انہوں نے ہی مجھے اسکی فارسی عبارتوں کے ترجمہ کی طرف متوجہ کیا ساتھ ہی خود ترجمہ کر دینے کی خواہش کا بھی اظہار فرمایا...... مگر بد قسمتی سے میں ان دنوں کاروباری الجھنوں میں ایسا پھنسا مولانا کی طرف سے بار بار اصرار کے باوجود اس کام کو انجام نہ دے سکا وقت گزرتا گیا اس درمیان دونوں مولانا حضرات بھی مالک حقیقی سے جا ملے اور میں قطعی نا امید ہوچکا تھا شاید اب کبھی اس کام کو انجام نہ دے سکوں گا مگر اللہ تعالی کو یہ کام مجھ گنہگار سے لینا منظور تھا.
ابھی دو سال قبل میرے دوستوں میں ڈاکٹر حبیب فکری صاحب لیکچرار عرب کلچر لکھنؤ یونیورسٹی ومحمد یعقوب منٹو نے کچھ اس انداز سے ہمت بندھائی کہ میں بالکل بے سروسامانی کے عالم میں بھی اس کام کے لیے کھڑا ہوگیا تب مجھے ترجمہ کا دھیان آیا اللہ تعالی نے یہ سعادت مولانا عبد السمیع قاسمی صاحبؒ استاذ دار المبلغین لکھنؤ کے نصیب میں لکھی تھی اللہ انہیں جزائے خیر دے انہوں نے اس کام کو بہ حسن و خوبی بلا معاوضہ انجام دیا۔ کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں جانشین امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب دام ضلہ العالی سے برابر مشاورت رہی مولانا پورے خلوص کے ساتھ اپنے مفید مشوروں سے مستفید فرماتے رہے اور میرے بازوئے ہمت کو سہارا دیتے رہے اس سلسلے میں دامے درمے سخنے جس طرح بھی مدد درکار ہوئ مولانا دامت برکاتہم نے اس میں کوئی دریغ نہیں فرمایا۔
شیعہ حضرات اب خود فیصلہ کریں
بات مختصر کرتے کرتے بھی کافی طویل ہو گئی مگر اس کتاب کے قارئین کی معلومات کے لیے چند باتوں کا بیان بہت ضروری ہے... مولانا محمد منظور نعمانی نے شیعہ مذہب کے تعارف اور امام خمینی کے عقائد و نظریات کے متعلق ایک کتاب ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعت لکھی تھی جس کے صفحہ198 پر سیدنا فاروق اعظمؓ کا یوم شہادت سب سے بڑی عید رسول اور خدا پر افتراء کی بدترین مثال کا عنوان قائم کرکے ملا باقر مجلسی کی زادا المعاد سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں 9 ربیع الاوّل کو سیدنا عمر فاروقؓ کے قتل کا دن قرار دیتے ہوئے اس تاریخ کی حیرت انگیز فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور روز قتل سیدنا عمرؓ کو شیعوں کی سب سے بڑی عید قرار دیا ہے. کشمیر کے ایک شیعہ مجتہد سید محمد ہمدانی نے آئینہ ہدایت کے نام سے نعمانی صاحب کی کتاب کا جواب لکھا ہے. یہ جواب کس پائے کا ہے؟ اس پر تبصرے کا تو یہ موقع نہیں ہے. البتہ ان کی ایک غلط بیانی کی نشاندہی بہت ضروری ہے. موصوف نے کتاب کے صفحہ 396 پر اس روایت کے موجود ہونے نہ ہونے پر تو کوئی بحث نہیں کی ہاں ایک ایسا سفید جھوٹ ضرور بولا جو شیعوں کے تکیہ باز بزرگوں کو ہی زیب دیتا ہے ہمدانی صاحب مولانا نعمانی کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں: موصوف یہ جان لیں شیعہ اس روز (9 ربیع الاول) کو جشن ولادت حضرت محمدﷺ مناتے ہیں.... شیعہ حضرات اب خود فیصلہ کریں کہ وہ 9 ربیع الاول کو جشن ولادت حضرت محمدﷺ مناتے ہیں یا عید زہراء ؟ہمدانی صاحب کو اس ضعیف العمری میں بھی اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہوئے بالکل شرم نہیں آئی....
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب
........شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
شیعہ حضرات کی کتابوں میں کتر و بیونت و خیانت
قارئین کرام کی آگاہی کے لیے عرض کر دوں کہ شیعہ حضرات آج بھی اپنی پرانی عادت کے مطابق کتابوں میں خیانت کر رہے ہیں.ابھی پاکستان میں قاضی نور اللہ شوستری کی مجالس المومنین کا ترجمہ محمد حسن جعفری نے کیا ہے جسے اکبر حسین جیوانی ٹرسٹ نے چھاپا ہے اس میں انہیں تمام عبارتوں کا ترجمہ غائب کر دیا ہے جن میں قاضی صاحب نے سیدنا عمرؓ کے ساتھ سیدہ ام کلثوم بنت علیؓ کے نکاح کا اقرار کیا ہے..... اسی طرح کتاب سلیم بن قیس ہلالی کے اردو ترجمہ میں وہ عبارت اڑادی گئی ہے جس میں سیدنا علیؓ کا سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا اقرار ہے۔ یہ دو تین مثالیں مجھ جیسے کم علم آدمی کو شیعوں کی کتابوں پر سرسری نظر میں مل گئیں۔ اگر علماء کرامؒ اس طرف توجہ فرمائیں تو بیسیوں مثالیں اسی قسم کی مل سکتی ہیں۔
اشاعت کے مراحل
پہلی بار یہ کتاب آیاتِ بینات 1870ء مطابق 1286ھ میں مرزا پور سے اس وقت شائع ہوئی جب مصنف علام کا سن 33 سال تھا
دوسری بار فضائل صحابہؓ کا پہلا جزء 1884 ء مطابق 1301 ھ میں مطبع مصطفائی لکھنؤ سے شائع ہوا. جس کا قطعہ تاریخ مولوی مجیب اللہ مرحوم نے یہ لکھا تھا قطعہ
ازفیض طبع مہدی دین المعی عصر.....
مطبوع شد رسالہ بے مثال و لاجواب
نام کتابوں و نیز سن طبہ اے مجیب.....
آیاتِ بینات رقم سازبا کتاب
1301،426،875ھ
اس کے بعد فضائل صحابہؓ کا دوسرا جزء 1887 ء مطابق 1304 ھ میں اور دوسرا حصہ بحث فدک والا بھی 1898 ء مطابق 1315 ھ میں مطبع مصطفائی سے شائع ہوا
تیسری بار فضائل صحابہؓ کا پہلا جزء جنوری 1934 ء مطابق 1353 ھ میں حسب فرمائش حافظ معصوم علی صاحب مرحوم یونائیٹڈ پریس لکھنؤ سے بقائے نام مصنف کے خیال سے طبع کر کے شائع کیا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں سے بھی اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے مگر ہندوستان میں عرصہ دراز سے اس کتاب کی اشاعت نہیں ہوئی تھی اب 72سال بعد ادارہ اشاعت حق اس کو شائعہ کرنے کی سعادت حاصل کر رھا ہے میں کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں ان تمام حضرات کا ممنون ہوں جنہوں نے کسی طرح اور کسی بھی سطح پر تعاون فرمایا ہے خصوصا مولانا انوارالحق قاسمی صاحبؒ استاذ دارالمبلغین لکھنؤ کو شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے شیعہ کتابوں کے حوالہ جات تلاش وتحقیق میں بھرپور رہنمائی فرمائی.... اللہ تعالی ان تمام مخلصین اور محبین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کتاب کو بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے..........آمین
خاک پائے اہلِ بیت و صحابہؓ شیخ محمد فراست
7ستمبر 2006 ء۔
ارشاد حسینؒ نے اسلام قبول کر لیا
گروٹ شہر کے ایک متعصب اور سبی گھرانے کے ایک شخص کی قسمت بدل گئی. اور اس نے اپنے وجود کو جہنم میں جانے سے بچا لیا اور پھر سپاہ صحابہؓ میں شمولیت اختیار کر لی. گروٹ شہر کے ایک شخص ارشاد حسینؒ حق کی تلاش میں راہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر کار اپنی منزل پر پہنچ گئے
.... انہوں نے شیعہ مذہب کیوں چھوڑا؟
.... وہ کیا واقعات تھے جو شیعہ مذہب چھوڑنے کا سبب بنے؟
.... شیعہ کے اس متعصب گھرانے کے اس خوش نصیب انسان کی قسمت میں انقلاب کیسے آیا؟
یہ باتیں جاننے کے لیے سپاہ صحابہؓ گروٹ کے دفتر میں ارشاد حسین صاحبؒ کو مدعو کیا گیا سپاہ صحابہؓ گروٹ یونٹ کے سیکرٹری رانا خلیل احمد صاحبؒ نے اس سلسلہ میں ان سے چند سوال کیے جو نہایت دلچسپ ہونے کے ساتھ سبق آموز بھی ہیں
آ ئیے ہم ارشاد حسین صاحبؒ کی گفتگو آپ تک پہنچاتے ہیں
رانا خلیل احمدؒ :آپ نے راہ حق کیسے تلاش کیا؟
ارشاد حسینؒ اللہ تعالی کا مجھ پر نہایت ہی کرم ہوا کہ میں ذلالت اور گمراہی سے نکل کر راہ حق پر پہنچا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی حق اسے ہی نصیب کرتے ہیں جو اس کا طلب گار ہو میرے دل میں شروع ہی سے حق کو تلاش کرنے کی طلب موجود تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج میں مسلمان ہوں میں اکثر رمضان المبارک میں سنی العقیدہ مسلمانوں کی مساجد میں تراویح سننے جایا کرتا تھا چونکہ میں شیعہ تھا اس لیے مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر قراءت سنتا رہتا میرے دل میں قرآن کی عظمت بیٹھتی چلی گئی اور شیعیت سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی بالآخر اللہ تعالی نے مجھے ہدایت سے نوازا اور میں نے شیعیت سے توبہ کرکے حقیقی اسلام قبول کر لیا۔
رانا خلیل احمدؒ: آپکا گھرانہ والدین رشتہ دار سب متعصب قسم کے لوگ ہیں اپنے گھر اتنے متعصب مذہبی ماحول کے باوجود آ پ نے شیعہ مذہب کیوں چھوڑا ؟
ارشاد حسینؒ:میرے گھر کے متعصبانہ کفریہ ماحول نے ہی مجھے شیعیت سے متنفر کیا مثال کے طور پر کسی مصیبت و پریشانی میں وہ لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں نکالتے تھے اور ان پر تبرہ کرتے تھے۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ مصیبت تو خدا کی طرف سے ہوتی ہے (سزا یا امتحان کے طور پر یا کسی اور حکمت کی بنا پر) لیکن یہ لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں کیوں نکالتے ہیں؟ اس قسم کے اور بہت سے واقعات تھے جو مجھے رفتہ رفتہ شیعت سے دور لے جاتے گئے۔
رانا خلیل احمدؒ: شیعہ ہوتے ہوئے شیعہ مذہب کے بارے میں کیا آپ کا ضمیر مطمئن تھا؟
ارشاد حسینؒ شیعہ ہوتے ہوئے شیعہ مذہب کے بارے میں میرا ضمیر مطمئن نہیں تھا۔ مجھے اکثر یہ خیال آ تا رہتا تھا کہ پتا نہیں یہ مذہب کیسا ہے ؟ حق ہے بھی یا نہیں۔ میں اکثر مجالس سنتا شیعہ لوگ ذاکروں کی بڑی تعریف کرتے میں ان ذاکروں کو عمل کے لحاظ سے آوارہ پھرتے دیکھتا۔ ان کے مذہبی ہونے کا مجھے یقین نہ آتا مجلس میں وہ ایسی گندی غیر اخلاقی گفتگو کرتے چرس چلتی، بھنگ کے اڈے قائم کیے جاتے، غلیظ گفتگو ہوتی ان باتوں کی وجہ سے میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ جس مذہب کے رہنما اس قسم کے غلیظ انسان ہوں تو اس مذہب کا اللہ ہی حافظ ہے مذہب کیا ہے جب مجلس ہو تو دوہڑے پڑھ دیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا کردیا،تو مجھے شیعہ سے نفرت سی ہوتی چلی گئی۔
رانا خلیل احمدؒ: شیعہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ ارشاد حسینؒ: بھائی میرا تو عقیدہ صاف صاف یہ ہے کہ یہ مذہب اتنا گندہ ہے کہ اس دھرتی پر شیعہ سے بڑا کافر پیدا ہی نہیں ہوا اگر یہ مذہب اچھا ہوتا تو میں اس کو کیوں چھوڑتا
رانا خلیل احمدؒ: آپ کے شیعہ مذہب چھوڑنے کے بعد آپ کے خاندان کا آپ کے ساتھ رویہ کیسا ہے ؟
ارشاد حسینؒ:اب تو ان سے میری بول چال تک نہیں ہے انہیں میرے مسلمان ہونے کابہت دکھ ہے انہوں نے مجھے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن میں نے صاف صاف کہہ دیا ہے میرے ساتھ بات نہ کرو تم کافر ہو تو ان کا جنون ٹھنڈا ہوا مجھے امید ہے کہ وہ اب میرے ساتھ زیادتی نہیں کر سکیں گے کیونکہ میں نے سپاہ صحابہؓ میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور سپاہ صحابہؓ مشکل وقت میں میرا ساتھ دے گی جیسا کہ اور بھی کئی مثالیں اس طرح کی گروٹ میں ہیں کہ سپاہ صحابہؓ کے کارکن کے ساتھ زیادتی کا سپاہ صحابہؓ بدلہ لیتی رہی ہے اور اب تو سپاہ صحابہؓ کا شیعوں پر اتنا رعب طاری ہو گیا ہے کہ وہ اس سے خوفزدہ ہیں
رانا خلیل احمدؒ: سپاہ صحابہؓ کے موقف کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ارشاد حسینؒ
سپاہ صحابہؓ حق اور صداقت کی جنگ لڑ رہی ہے میں نے سپاہ صحابہؓ کا ایک جلسہ سنا جس میں مولانا علی شیر حیدری صاحب مدظلہ نے خطاب کیا ان کے جلسہ کے بعد کے میں نے شیعہ کے کافر کافر ہونے کے نعرے لگائے مجھے اس راستے کے حق ہونے کا یقین آگیا ہے اور اب میرا ضمیر مطمئن ہے میں راۓونڈ کے اجتماع میں بھی گیا تھا مجھے ایسی روحانی مسرت ملی اور دل کو سکون ملا جو ساری زندگی نہ مل سکا ۔آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے استقامت کی توفیق عطا فرمائیں آمین
(ماہنامہ خلافتِ راشدہ جنوری 1994ء)