Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خود کو دوسروں کے لیے نمونہ بنا کر پیش کیا

  علی محمد الصلابی

’’عام الرمادہ‘‘ میں قحط کے موقع پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے کھانے کے لیے گھی سے چپڑی ہوئی روٹی لائی گئی، آپؓ نے ایک بدوی آدمی کو بلایا تاکہ وہ بھی آپؓ کے ساتھ کھانے میں شریک ہو جائے، بدوی نے کھانے میں شریک ہو کر کھانا شروع کیا اور گھی کو لقمہ سے پلیٹ کے کنارے لا کر شوق سے کھانے لگا۔ سیدنا عمرؓ نے اس سے کہا: ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گھی کبھی میسر نہیں آیا؟ بدوی نے کہا: جی ہاں، فلاں فلاں وقت سے آج تک نہ میں نے گھی اور روغن چکھا ہے اور نہ کسی کو یہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی بات سن کر سیدنا عمرؓ نے قسم کھا لی کہ جب تک میری عوام کو فراخی کی زندگی نہ مل جائے اس وقت تک نہ وہ گوشت کھائیں گے اور نہ گھی کو ہاتھ لگائیں گے۔ تمام راوی اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عمرؓ نے اس قسم کو پورا کرنے کا عزم مصمم کر لیا تھا اور اسی وجہ سے جب بازار میں گھی اور دودھ سے بھرے ہوئے ڈبے فروخت ہونے کے لیے آئے، تو حضرت عمرؓ کے غلام نے آپؓ کے لیے چالیس درہم میں ایک ڈبہ گھی اور ایک ڈبہ دودھ خریدا اور لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آیا، اور کہا: امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کی قسم کو پورا کر دیا، اور آپؓ کو بہت اجر و ثواب ملا، اب بازار میں دودھ اور گھی کے ڈبے آ گئے ہیں اور میں نے انہیں چالیس درہم میں خرید لیا ہے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: تم نے مہنگی قیمت میں خریدا، ان دونوں کو اللہ کے راستے میں صدقہ کر دو، میں ناپسند کرتا ہوں کہ اسراف کا لقمہ کھاؤں، اور اس کے بعد ہی فرمایا: میں رعایا کے دکھ درد کو کیسے سمجھ سکوں گا جب تک کہ میں بھی ان کی حالت سے نہ گزروں۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 78)

حضرت عمر فاروقؓ کی زبان سے نکلا ہوا آخری جملہ ایک تابناک اور زرّیں قول ہے، جس میں پوری انسانیت کے لیے سیاست کے عظیم الشان اصولوں میں سے ایک اصول پنہاں ہے، قابل غور ہے یہ جملہ کہ: ’’میں رعایا کے دکھ درد کو کیسے سمجھ سکوں گا جب تک کہ میں بھی ان کی حالت سے نہ گزروں۔‘‘ 

(فن الحکم: صفحہ 71)

’’عام الرمادہ‘‘ میں حضرت عمرؓ قحط سے اس قدر متاثر ہوئے کہ آپؓ کے جسم کا رنگ بدل گیا، عیاض بن خلیفہ کا بیان ہے کہ میں نے ’’عام الرمادہ‘‘ میں حضرت عمرؓ کو اس حال میں دیکھا کہ ان کا جسم سیاہ پڑ گیا تھا، حالانکہ آپؓ عربی تھے، گھی اور دودھ کھاتے تھے، لیکن جب قحط نے تمام لوگوں کو اپنی زد میں لے لیا تو آپؓ نے دودھ اور گھی کو اپنے لیے منع کر لیا اور تیل کھانے پر اکتفا کرنے لگے، یہاں تک کہ آپؓ کے جسم کا رنگ بدل گیا اور آپؓ نے بھوک کی کافی مشقتیں برداشت کیں۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 314)

اسلم کا بیان ہے کہ ہم آپس میں کہتے تھے: اگر ’’عام الرمادہ‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے ہم سے قحط سالی کو نہ دور کیا تو ہمیں یقین ہے کہ سیدنا عمرؓ مسلمانوں کے تئیں اپنی واجبات و ذمہ داریوں کے شدید احساس و غم سے وفات نہ پا جائیں۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 315، محض الصواب: جلد 1 صفحہ 363)

سیدنا عمرؓ اکثر روزہ رکھتے تھے۔ 

(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 362)

 عام الرمادہ میں صرف شام کو تیل اور روٹی سے ملا ہوا کھانا کھاتے تھے، قحط سالی کے موقع پر ہی ایک دن لوگوں نے کچھ اونٹوں کو ذبح کیا اور سب نے کھایا، لیکن بہترین گوشت آپؓ کے لیے رکھ دیا، جب کوہان اور کلیجے کا منتخب گوشت ہنڈیا میں رکھ کر آپؓ کے سامنے لایا گیا تو آپؓ نے فرمایا: یہ کہاں سے ملا؟ لوگوں نے بتایا کہ اے امیر المؤمنین! آج ہم نے اونٹ ذبح کیا تھا، اسی میں سے یہ گوشت ہے۔ آپؓ نے فرمایا: افوہ! ہائے! افسوس! میں کتنا برا حاکم ہوں، اگر میں ان اونٹوں کے بہترین گوشت کھاؤں، اور لوگ ان کی ہڈیاں کھائیں، اٹھاؤ، لے جاؤ اس برتن کو اور مجھے دوسرا کھانا دو، پھر آپؓ کے سامنے روٹی اور تیل پیش کیا گیا اور آپ اپنے ہاتھ سے روٹی توڑ کر تیل میں ملا کر کھانے لگے، پھر فرمایا: اے یرفا (’’یرفا‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دربان تھا، جاہلیت کا زمانہ پایا اور اسلام کا بھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس نے عمر فاروق کے ساتھ حج کیا) سن! گوشت کے اس برتن کو ’’یثمع‘‘(مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے، جہاں سیدنا عمرؓ کی موقوفہ جائیداد تھی) والوں تک پہنچا دو، میں تین دن سے ان کے پاس نہیں گیا ہوں، میرا خیال ہے کہ انہوں نے اب تک کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا ، لے جاؤ اور ان کے سامنے اسے رکھ دو۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 312، الشیخان بروایۃ البلاذری: صفحہ 294)

یہ ہے اسلامی سیاست و حکومت کا فن اور یہ ہے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مثالی شخصیت کہ آپؓ اپنی خواہشات اور ضرورتوں پر رعایا کی ضروریات و خواہشات کو ترجیح دیتے ہیں اور آپ کی رعایا آپ سے عمدہ کھانا کھاتی ہے۔ آپ امیر المؤمنین ہیں لیکن حکومت اور زندگی کے بوجھ کو اپنی رعایا سے کہیں زیادہ اٹھانے کو تیار ہیں، اور رعایا کے مقابلے میں کئی گنا مشکلات و مصائب سے دوچار ہوتے ہیں۔ مزید برآں احتیاط اور احساس ذمہ داری کا یہ دائرہ آپ کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس احتیاط اور ورع و تقویٰ کی حدود و قیود کا دائرہ اپنے خاندان تک وسیع کرنا چاہتے ہیں، تاکہ آپ کے اہل خانہ رعایا کے دکھ درد اور تکلیف کو ان سے زیادہ محسوس کریں۔

چنانچہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں قحط کے موقع پر آپؓ نے ایک دن اپنے ایک لڑکے کے ہاتھ میں ایک خربوزہ دیکھا، فوراً اس کو ٹوکا اور کہا: کیا خوب، کیا خوب، امیر المؤمنین کی اولاد! امت محمدیہ بھوک سے لاغر ہوتی جا رہی ہے اور تو پھل کھاتا ہے؟ بچہ روتے ہوئے بھاگ گیا اور حضرت عمرؓ مسلسل اپنی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ آپؓ نے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپؓ کو بتایا گیا کہ ان کے بچے نے ہتھیلی بھر کھجور کی گٹھلیوں کے بدلے اسے خریدا ہے۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 315، محض الصواب: جلد 1 صفحہ 363)

اللہ کے سامنے فرائض و واجبات حکومت کی جواب دہی کا احساس آپؓ پر غالب رہا جس کے نتیجہ میں آپؓ نے خود کو نفس پرستی سے دور رکھا، اور ایسے وقت میں جب کہ دنیا قحط و خشک سالی کا سامنا کر رہی تھی، آپؓ نے ہر شرعی وسیلہ و سبب اختیار کیا، بکثرت نمازیں پڑھتے، پیہم استغفار کرتے اور ہمہ وقت مسلمانوں کو غذا فراہم کرنے کی کوشش میں رہتے، اپنی پوری رعایا کے لیے فکر مند تھے، وہ بھاگ کر مدینہ آ گئی ہو یا اپنے گھروں میں بادیہ نشین رہی ہو، اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے آپؓ نے اپنی پوری طاقت و صلاحیت جھونک دی، اور پھر ان تمام مشقتوں کو اٹھانے کے بعد نفس پر سختی اور ایسی سختی کی کہ اس کی عظمت و معنویت کا کیا کہنا! قحط زدہ پوری دنیائے انسانیت نے اعتراف کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ عام الرمادہ میں قحط کو دور نہ کرتا تو ہمیں ایسا یقین ہونے لگا تھا کہ کہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تئیں اپنے واجبات کے شدید احساس و غم سے وفات نہ پا جائیں۔ 

(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 362)