شیعہ مذھب کو خیر باد کہہ دیا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ مذھب کو خیر باد کہہ دیا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 2

شہدادکوٹ شہر سے 20کلومیٹر دور شہر میروخان میں امرونی چوک پر ایک جلسہ میں مناظر اہلِ سنت سید عبداللہ شاہ صاحبؒ اور فخر اھلِ سنت علامہ علی شیر حیدری صاحب مدظلہ صدر سپاہ صحابہؓ مدعو تھے معززین حسب معمول شیعہ کے کفر پر دلائل کے انبار لگاتے رہے۔ محمد علی نامی ایک شیعہ یہ تقریر اور وزن دار دلائل سن کر شیعہ مذہب سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا عجیب بات یہ ہے کہ محمد علی میروخان شہر میں شیعہ تنظیم کا سر پرست بھی تھا اور موصوف کا اپنا مدرسہ و امام باڑہ بھی تھا، محمد علیؒ نے نہایت جرات مندانہ اقدام کر کے امام باڑہ کو ختم کر کے اس جگہ ایک عالیشان مسجد کی بنیاد رکھ دی ہے اور وہاں روزانہ پنجگانہ نماز ادا کی جاتی ہے اور بچے قرآنی تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔

 شیعہ مذہب سے بیزاری کا ایمان افروز واقعہ

آج سے تقریبا آٹھ سال پہلے مہر محمد شریف ریاض صاحب چک نمبر 747 گ ب میں رہائش پذیر تھے ان کے والد نے انھیں ان کے نزدیکی شہر سندھیلیانوالی میں میڈیکل سٹور بنا کر دیا لہذا شریف ریاض صاحب نے میڈیکل چلانا شروع کر دیا اس میڈیکل پر کچھ شیعوں کا آنا جانا شروع ہو گیا ، ان شیعوں نے شریف ریاض صاحب کو اپنے حلقہ احباب میں لینے کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا بھی شروع کر دی، اس طرح آہستہ آہستہ شریف ریاض صاحب ان کافروں کی چال میں آگئے اور ایسے ان کے دام میں پھنسے کہ دن رات انھی کے ساتھ رہنے لگے

شریف ریاض صاحب کے والد صاحب کو علم ہوا تو انھوں نے شریف ریاض صاحب کو ان کافروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے روکنا چاہا تو شریف ریاض صاحب نے صاف صاف اپنے والد سے کہہ دیا کہ میں انھیں نہیں چھوڑوں گا کیونکہ ان کا مذھب صحیح ہے لہٰذا اگر تم نے مجھے زیادہ مجبور کیا تو میں تمہیں (یعنی والدین کو) چھوڑ دوں گا اور اسنے ایسا ہی کیا جب شریف ریاض صاحب والدین سے علیحدہ ہو گئے تو ان کافروں نے انھیں کسی طرح بھی والدین کی کمی محسوس نہ ہونے دی بلکہ ان کو ہر وقت ہر طرح خوش رکھنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی اور خوراک لباس ہر قسم کی تفریح فراہم کرتے رہتے، اس طرح شریف ریاض صاحب کو انھوں نے خوب دام میں پھنسا لیا۔ شریف ریاض صاحب چونکہ ایک اچھے مقرر بھی تھے اس لئے انھوں نے شیعی مجالس میں بطور ذاکر شریک ہونا شروع کر دیا اور خوب مجالس پڑھیں۔ ایک دن اچانک ان کا ہمارے ہاں چک نمبر 662 گ ب میں آنا ہوا ہم نے بہت اصرار کیا کہ ہم آپ کو مولانا حقنواز جھنگوی شہیدؒ کی تقریر سنانا چاہتے ہیں مگر اس نے مولانا شہیدؒ کا نام سن کر بہت بہت غلط باتیں بھی کیں مگر ہم نے صبر کرتے ہوئے اس سے اجازت لیے بغیر مولانا حقنواز شہیدؒ کی یادگار پشاور چوک والی کیسٹ ٹیپ کے ذریعہ چلادی جب مولانا شہیدؓ کی کھری کھری باتیں شریف ریاض صاحب کے کانوں تک پہنچیں تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ شخص جو کل تک کفر کا ذاکر تھا، جس کے دل میں سیدنا ابوبکرؓ، عمرؓ، وعثمانؓ کا بغض تھا اب وہ موم کی طرح پگھل رہا تھا اور اس کا دماغ پوری طرح اسلامی سانچے میں ڈھل چکا تھا ، اس نے اسی دن صرف شیعہ مذھب اور شیعی دوستی پر لعنت بھیجی بلکہ برسر عام سپاہ صحابہؓ میں شمولیت کا اعلان کیا ، والد صاحب اور والدہ صاحبہ سے معافی مانگی شیعوں سے مکمل بائیکاٹ کرنے کے بعد چک نمبر 662 گ ب میں رہائش اختیار کرتے ہوئے سپاہ صحابہؓ کی اس قدر خدمت کی کہ ہم نے ان کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے چک کی سپاہ صحابہؓ کی صدارت کیلئے انھیں متفقہ طور پر منتخب کیا ھے۔

(ماهنامه خلافتِ راشده)


صفحہ 2 از 2