Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

’’عام الرمادۃ‘‘ میں پناہ گزینوں کا کیمپ

  علی محمد الصلابی

اسلم سے روایت ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں اہل عرب ہر چار جانب سے مدینہ پہنچنے لگے، اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے امراء کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ وفود کی ضروریات و مفادات کو پیش نظر رکھیں، میں نے ایک رات آپؓ کو فرماتے ہوئے سنا ’’شام کا کھانا ہمارے پاس کتنے لوگ کھاتے ہیں، ان کو شمار کرو۔‘‘ اگلی رات شمار کیا گیا تو کھانے والوں کی تعداد سات ہزار تھی، اور جب بیمار مردوں نیز عورتوں و بچوں کو بھی شمار کیا گیا تو ان کی تعداد چالیس ہزار تھی، پھر تھوڑے ہی دنوں بعد یہ تعداد بڑھ کر ساٹھ ہزار تک پہنچ گئی۔ یہ لوگ مسلسل انہی حالات سے دوچار رہے، یہاں تک کہ اللہ نے آسمان سے بارش نازل فرمائی، اور جب بارش ہو گئی تو میں نے دیکھا کہ آپ نے کچھ لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وفود کو اپنے گھر جانے کا حکم دیں، اور دیہات میں ان کو ان کے گھروں تک غذا اور غلہ بھیجنے کا انتظام کیا، خشک سالی سے بہت سے لوگ وفات پا گئے تھے میرے خیال میں قحط سے متاثر ہو کر دو تہائی لوگ مر گئے تھے، سیدنا عمرؓ کا دیگچہ کھانا پکانے کے لیے آگ پر چڑھایا جاتا تھا، اور صبح ہی سے کھانا پکانے والے اس پر لگ جاتے اور کرکور اور عصائد پکاتے۔ (تاریخ الذہبی: 274، کرکور ایک کھانے کا نام ہے اور عصائد ایک طرح کا کھانا، جس میں آٹے کو گھی میں گوند کر پکاتے ہیں۔)

اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے امراء کو ذمہ داریاں سونپتے ہیں اور پناہ گزینوں کا کیمپ تیار کرتے ہیں، اور انتظامی عملہ پوری تندہی سے اپنی ذمہ داریوں کو بلا کم و بیش نبھاتا ہے، دوسرے کی ذمہ داری و عمل میں دخل اندازی بالکل نہیں کرتا۔ 

(الکفاء ۃ الإداریۃ: دیکھئے عبداللّٰه قادری: صفحہ 107)

مدینہ کے قرب و جوار میں آپؓ نے اپنے افسران کو یہ ذمہ داری دے کر بھیجا کہ جو لوگ دور دور سے خشک سالی اور شدت بھوک سے متاثر ہو کر حکومتی تعاون و عطیات لینے آئے ہیں ان کے حالات کا جائزہ لیں، چنانچہ وہ لوگ ان میں کھانا اور سالن وغیرہ تقسیم کرتے اور جب شام ہوتی تو سیدنا عمرؓ کے پاس سب لوگ اکٹھے ہوتے اور ان کے حالات سے واقف کراتے، اور آپؓ ان کی دوسرے دن کی رہنمائی کرتے۔ 

(الکفاء ۃ الإداریۃ: دیکھئے عبداللّٰه قادری: صفحہ 115)

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بدویوں، اور دیہات کے باشندوں کو آٹا گھر سے خوراک تقسیم کرتے تھے، آٹا گھر ایک مالی ادارہ تھا جس کے سامان کو دور فاروقی میں ایام قحط میں وفود مدینہ میں تقسیم کیا جاتا تھا، اس میں آٹا، ستو، کھجور اور کشمش وغیرہ کھانے کی چیزیں تھیں، مصر، شام اور عراق سے پہنچنے سے پہلے یہی چیزیں ان میں تقسیم ہوتی تھیں، یہ آٹا گھر بحرانی حالت میں کافی بڑا بنا دیا گیا، تاکہ دسیوں ہزار لوگ جو تقریباً نو مہینے تک مدینہ آتے رہے اور بارش سے محروم رہے وہ سب اس کی خوراک سے مستفید ہو سکیں۔

 (المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام: جلد 2 صفحہ 37، 38)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ حکمت عملی حکومتی اداروں کی تعمیر و ترقی کے بارے میں دور اندیشی کی بہت بڑی دلیل ہے، خواہ یہ ادارے مالیاتی ہوں یا اور کوئی۔

سیدنا عمرؓ کی یہ متواضع شان کہ آپ بذات خود پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ان کی خدمت کرتے تھے، حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ ابن حنتمہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! میں نے عام الرمادہ میں دیکھا کہ اپنی پیٹھ پر اناج سے بھری ہوئی دو بوریاں اور ہاتھوں میں تیل سے بھرا ہوا ایک ڈبہ اٹھائے ہوئے تھے، وہ اور اسلم باری باری اسے اٹھاتے اور چلتے، جب حضرت عمرؓ نے مجھ کو دیکھ لیا تو کہا: اے ابوہریرہ کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے کہا: قریب ہی سے، پھر میں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا، اور اسے لے کر ہم سب ’’ضرار‘‘ پہنچے، وہاں ہماری ملاقات بیس گھرانوں پر مشتمل ایک جماعت سے ہوئی، سیدنا عمرؓ نے ان سے پوچھا: تم لوگوں کا یہاں کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا: مشقت و تنگ دستی کھینچ لائی ہے اور اس کے بعد انہوں نے مردار جانور کا چمڑا جسے وہ کھاتے تھے اور بوسیدہ ہڈیوں کا سفوف جسے وہ پھانکتے تھے، اسے ہمیں دکھایا، یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے اپنی چادر پھینک دی اور ان کے لیے کھانا پکانے اور کھلانے میں مشغول ہو گئے، یہاں تک کہ سب سیراب ہو گئے، پھر اونٹوں کو لانے کے لیے اسلم کو مدینہ بھیجا، وہ اونٹوں کو لائے، آپؓ نے ان کو اونٹوں پر سوار کیا اور ’’جبانہ‘‘ لے جا کر ٹھہرایا، پھر انہیں کپڑا دیا جسے انہوں نے زیب تن کیا، اس طرح آپؓ برابر ان کے پاس اور دوسرے مصیبت زدہ لوگوں کے پاس جاتے رہے اور خبر گیری کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے اس مصیبت کو ہٹا لیا۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 111، بحوالۂ الریاض النضرۃ)

آپ عشاء کی نماز پڑھتے پھر اپنے گھر واپس ہوتے اور برابر نماز پڑھتے، رات کا آخری وقت آ جاتا تو گلیوں میں گشت کے لیے نکلتے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے ایک رات بوقت سحر کہتے ہوئے سنا، اے اللہ! میرے ہاتھوں امت محمدیہ کو ہلاک نہ کر، اور کہتے: ’’اے اللہ! قحط زدگی سے ہمیں ہلاک نہ کر اور ہم سے اس مصیبت و آزمائش کو دور کر دے،‘‘ اور آپ ان کلمات کو بار بار کہہ کر دعا مانگتے۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 111، بحوالۃ: الریاض النضرۃ)

مالک بن اوس سے روایت ہے جن کا تعلق بنو نضیر سے ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں سو گھرانوں پر مشتمل میرے خاندان کے لوگ حضرت عمرؓ کے پاس ’’جبانہ‘‘ آئے، آپ تمام لوگوں کو جو آپ کے پاس آتے ان کو کھانا دیتے، اور جو نہیں آتا اس کے پاس اس کے گھر تک آٹا، کھجور، اور سالن وغیرہ بھیجتے، چنانچہ آپؓ ہر مہینے میری قوم کے لوگوں کے پاس بھی ان کی ضرورت کی چیزیں بھیجتے رہے۔ مریضوں کی بیمار پرسی اور وفات پا جانے والوں کے کفن دفن کا انتظام کرتے رہے، غذا کی اتنی شدید قلت تھی کہ لوگ تلچھٹ کھانے پر مجبور تھے، میں نے دیکھا اس موقع پر کئی لوگ مر گئے، آپؓ ان متوفیان کی نماز جنازہ خود پڑھاتے، آپ نے تقریباً دس متوفیان پر ایک ساتھ نمازِ جنازہ پڑھی، لیکن جب بارش کا نزول ہوا، اور لوگوں کو زندگی ملی تو آپؓ نے فرمایا: اب آپؓ لوگ صحرا کے جن جن علاقوں سے آئے تھے وہاں چلے جائیں، آپؓ نے کمزور و ناتواں لوگوں کو سواری کے ذریعہ سے ان کے گھروں تک پہنچایا۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 112، ابن الجوزی: صفحہ 61)

حزم بن ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ عام الرمادہ میں سیدنا عمرؓ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا، وہ اپنے لیے عصید (ایک قسم کا کھانا، آٹا گھی میں ملا کر پکاتے ہیں) تیار کر رہی تھی، آپؓ نے اس سے کہا: اس طرح نہیں ملایا جاتا، اور یہ کہہ کر کرچھا اپنے ہاتھ میں لے لیا، اور ملا کر دکھایا کہ اس طرح دونوں کو آپس میں ملاؤ، آپ عورتوں سے کہتے تھے: جب تک پانی گرم نہ ہو جائے اس میں آٹا نہ ڈالو، اور جب ڈالو تو تھوڑا تھوڑا ڈالو، اور کرچھے سے اسے ہلاتے رہو، اس سے آٹا تہ بہ تہ نہیں جمے گا، سیدنا عمرؓ کی بعض بیویوں نے بیان کیا ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں جب تک لوگوں کو قحط سے نجات اور زندگی کی تازگی نہ ملی تب تک لوگوں کی فکر میں آپؓ کسی بیوی کے قریب نہ گئے۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 116)

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں سیدنا عمرؓ کا پیٹ خالی ہونے اور بھوک کی شدت سے گڑگڑانے لگا، اس وقت آپؓ کی خوراک صرف تیل تھی، گھی کو اپنے لیے منع کر لیا تھا، آپؓ نے پیٹ کی گڑگڑاہٹ سن کر اپنی انگلیوں کو پیٹ میں دھنسایا اور کہا: جتنا چاہو گڑگڑاؤ، بس تیل ہی میری خوراک ہے اس وقت تک جب تک کہ سارے لوگوں کو غذا و خوراک فراہم نہ ہو جائے۔ 

(الحلیۃ: جلد 1 صفحہ 48)