نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید - ردِ رافضیت | دفاع…

نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 1 از 6

نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید

 داستان هدایت .. شیعہ کے عظیم مبلغ سید ابوالحسن فیضی

شیعوں کے نامور مبلغ اعظم علامہ سید ابوالحسن فیضی جنھوں نے قم یونیورسٹی سے سند فراغت حاصل کی، کئی لیکچر براہ راست شیعہ راهنما آیت اللہ خمینی سے بھی سنے فراغت کے بعد پندرہ سال تک تبلیغ کی اور پھر شیعہ مذھب سے براءت کا اعلان کر دیا۔ پھر کفارہ ادا کرنے کیلئے شیعہ کے خلاف ایک کتاب لکھی جس کا نام ” نقاب کشائی“ رکھا اس کتاب نے شیعیت کا واقعی اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ۔ اس کتاب کے مقدمے میں اپنا یادگار واقعہ جس نے انکی زندگی کا رخ بدل دیا۔ خود لکھتے ہیں خود ان کی زبانی سنیے۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَعَلَى آلِهِ وَازْوَاجِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ أَمَّا بَعْدُ -

 تعارف

 بنده سید ابوالحسن فیضی مدت مدید، عرصہ دراز سے ملت جعفریہ کا نقیب مبلغ رہا ہے عزاداری سیدنا حسینؓ نہایت احترام عقیدت سے مناتا رہا، کراچی سے خیبر تک بڑی بڑی مجالس و محافل میں شامل ہو کر عظیم مبلغ کی حیثیت سے نوازا جاتا تھا۔ کربلا کے شہیدوں کے خون ناحق سے خوب لقمے تر ہوتے رہے۔ تقریباً پندرہ برس تک اپنی جعفری برادری میں امتیازی حیثیت سے سلسلہ تبلیغ جاری ساری رہا۔

 احساس زیاں

 میرے دل میں ہمیشہ یہ احساس رہا کہ ہمارے مبلغ اور ذاکرین حضرات کی علمی و عملی حیثیت بہت ہی کمزور ہے، پنجتن کی پاکیزہ اسٹیج پر سچ کی نسبت زیادہ جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے اس بھولی بھالی قوم کو خوب بے وقوف بنا کر عقل و فکر سے عاری کر دیا گیا ہے ۔ شیعان پاک کے پاکیزہ منبر پر وہ مبلغ اور ذاکر کامیاب ہوتا ہے جو فضائل و مناقب کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امہات المومنینؓ پر تبرا یعنی لعنت کرنے کے علاوہ وگتی یعنی ٹھٹھ مذاق بھی کرے۔ جو بھی تاریخ کی روشنی میں واقعات کربلا وقوع پذیر ہوئے ہیں ہمارے مبلغین حضرات اور ذاکرین حضرات بیان نہیں کرتے جو کچھ بھی بیان کیا جاتا ہے وہ سب کا سب جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے، ہنسنا ہنسانا ، رونا رلانا، بس اس کے سوا کچھ نہیں ، نہ اس فرقہ کی کوئی معیاری درسگاہیں ہیں اور نہ ہی کوئی اچھی تربیت گاہیں ہیں اور جو ہیں ان میں صرف فن تبلیغ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے یعنی ان کی درسگاہوں میں فنکار اور گلو کار تیار کیے جاتے ہیں۔

ذاکروں کی علمی و عملی پوزیشن

موجودہ دور میں ہر مبلغ کے پاس ” مصباح المجالس جس کے تین چار حصے ہیں اور مولوی نجم الحسن کراروی صاحب کے چودہ ستارے اردو میں ۔اور جناب مرزا یوسف حسین صاحب کی کتابیں ہونی چاہیں بس جناب مبلغ اعظم تیار ہو جاتے ہیں ۔ ذاکرین کے لئے مرزا انیس و دبیرکی سوز خوانی کے علاوہ سرائیکی زبان میں بند ، ڈوہڑے یاد کرنے سے اچھا ذاکر تیار ہو جاتا ہے۔ یہ ہے ان کے مبلغین و ذاکرین حضرات کا معیار علم اگر ان کا عمل دیکھو تو اکثر ان میں تارک الصلوۃ، روزہ خور ، جھوٹ گوئی، افتراء پردازی، وعدہ خلافی ، اور بد عملی جیسے محاسن کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔

وہابی شیعه

 اگر ان میں کچھ اہلِ علم یعنی عراق و ایران کے پڑھے لکھے ہیں تو عامۃ الناس میں ان کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہے اور ان کو وہابی شیعوں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ کیونکہ عوام قصہ کہانیاں اور دوہڑوں کی شوقین ہو گئی ہے اور علم سے بالکل دور ہے اور نہ ہی علم سے شغف ہے ۔ مثلاً مولوی سید محمد یار صاحب، سید گلاب شاہ صاحب، مفتی عنایت علی شاہ صاحب ، مولوی محمد حسین صاحب ڈھکو وغیرہ مگر یہ حضرات بھی تبرائی شیعہ ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا کرتے ہیں۔

غالی شیعه

 دوسرا گروہ غالی شیعہ سے پکارا جاتا ہے جن کی پورے ملک کے شیعوں میں شہرت ہے مثلاً مولوی محمد بشیر انصاری، مولوی آغا ضمیر الحسن ، مرزا یوسف حسین صاحب، مولوی شبیہ الحسنین صاحب محمدی ، مولوی نجم الحسن کراروی، وغیرہ یہ حضرات بھی اصحاب ثلاثہؓ اور امہات المومنینؓ پر ڈٹ کر تبرا یعنی لعنت کرتے ہیں۔ (ان کو شیعوں میں شیخی کہا جاتا ہے۔ از مؤلف )

ملنگان حیدر کرار

 ان میں ایک تیسرا گروہ ملنگان حیدر کرار کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کا سرغنہ ملنگ صدا حسین ہے۔ یہ گروہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے یہ لوگ سیاہ لباس میں ملبوس پاؤں میں لوہے کے کڑے ، ہاتھوں میں گلاب، بعض کے کانوں میں بالیاں سر منڈے ہوئے ، یا لمبے لمبے بالوں کی بودیاں یعنی لٹیں ، اصول دین فروع دین سے بالکل بے پروا، ان کا نظریہ صرف علی علی کرنا ہے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مغلظ گالیاں دینا ہے ان کے نزدیک صرف یہی عبادت ہے، یہ سب سے زیادہ خطرناک گروہ ہے نہ تو یہ کسی کی سنتے ہیں اور نہ بک بک کرنے سے رکتے ہیں۔ یہ لوگ قریہ قریہ بستی بستی ، شہر شہر، پھرتے نظر آتے ہیں ۔ اور مسلمانوں کے گھروں کے دروازوں پر صدا دیتے ہیں اور ہر دروازے پر تبرا کرتے ہوئے بھیک مانگتے ہیں اور بھیک مانگنے کے بہانے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعنت کرتے ہیں اور سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلا فصل کہہ کر آواز دیتے ہیں۔

ملنگوں کے نعرے

 مثلاً ان کا نعرہ یا تکیہ کلام یوں ہوتا ہے دمہ دم مست قلندر علی کا پہلا نمبر یا یوں کہتے ہیں او علی کے دشمن تجھ پر بے شمار ۔۔۔۔۔۔) کا سہ گدائی بھر کر مسلمانوں کے قبرستانوں پر ڈیرہ جما کر بیٹھ جاتے ہیں، بھنگ، چرس، افیون وغیرہ کھاتے ہیں شب و روز مذکورہ بالا نعرہ لگاتے ہیں۔

 نعروں کا مطلب

 ناظرین کی خدمت میں ذرا وضاحت کردوں پہلا نعرہ جو لگاتے ہیں دمہ دم مست قلندر علی کا پہلا نمبر“ اس نعرہ میں روافض کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ کے بعد سیدنا علیؓ خلیفہ بلا فصل ہیں اور اس میں سیدنا صدیق اکبرؓ، سیدنا عمر فاروقؓ ، سیدنا عثمان غنی ذوالنورینؓ کی خلافت کا انکار ہے۔ اور دوسرا نعرہ بے شمار والا اس نعرہ میں اصحاب ثلاثہؓ اور امہات المومنینؓ کو بے شمار لعنت کرتا ہے

ملنگوں کی مکاری فریاد

صفحہ 1 از 6