نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید - ردِ رافضیت | دفاع…

نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 6

  ناظرین کو جان لینا چاہیے کہ یہ گروہ بڑا خطرناک ہوتا ہے اگر ان لوگوں کو ملامت کی جائے یا ان کے کردار سے منع کیا جائے تویہ لوگ بڑا واویلا کرتے ہیں اور ان کے واویلا کرنے پر لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک تماشہ بن جاتا ہے اور یہ مکار ملنگ رو رو کر، چیخ چیخ کر فریاد کرتے ہیں اور لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم غریب لوگوں پر بڑا ظلم ہوا ، ہم غریب لوگوں کو بھیک مانگنے سے روکا گیا بتاؤ لوگو ہم منہ کالے کہاں جائیں۔ اتنا شور کرتے ہیں کہ ہمارے ہی مسلمان بھائی اپنے بھائی کو الٹا ڈانٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کشتہ نفس اور تارک الدنیا کی گستاخی کیوں کی جلدی کرو ایسے اللہ والوں سے معافی مانگو تو اس شریف آدمی کو جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے یہ ہے ان لوگوں کا طریقہ کار یہ لوگ اسلام کے سخت دشمن ہیں ۔ بڑے بڑے بزرگان دین کے مزرات پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔

ملنگوں کا اجتماع

 جب ایام محرم یا چہلم کی تقریبات ہوتی ہیں تو یہ لوگ لاہور میں باواصدا حسین کے امام باڑہ میں جمع ہو جاتے ہیں مثلاً عشرہ ثانیہ محرم کی 12 تا 21 ان کا بہت بڑا ہجوم ہوتا ہے اسی یا نوے ذوالجناح نکالے جاتے ہیں شیخو پورہ اور فیصل آباد والی ٹریفک بند ہو جاتی ہے۔ شاہدرہ موڑ سے لے کر شیخو پورہ والی چونگی تک تقریبا دویا تین میل کا فاصلہ بنتا ہے ملنگان حیدر کرار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا ہے، تلواروں، چھریوں ، اور زنجیروں سے ماتم کیا جاتا ہے۔ یہ سارا حصہ سڑک کا خون سے لت پت ہو جاتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امہات المومنینؓ بالخصوص جناب سیدہ عائشہ صدیقہؓ بنت صدیق اکبرؓ اور سیدہ حفصہؓ بنت فاروق اعظمؓ زوجہ رسولﷺ کو وہ گالیاں دی جاتی ہیں الامان والحفیظ پولیس کے بڑے بڑے افسران اور حج مجسٹریٹ صاحبان موجود ہوتے ہیں ان کی موجودگی میں سب کچھ ہوتا ہے مگر ان کی زبان کو کوئی لگام دینے والا نہیں ہوتا

بندہ کی حاضری

بندہ گناہ گار اللہ مجھے معاف فرمائے میں بھی اس اجتماع میں دس برس تک حاضر ہوتا رہا نہ صرف میں ہی بلکہ بڑے بڑے مبلغین اور ذاکرین حضرات بھی ہوتے ہیں۔ لگاتار مجالس کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو میں بھی مجلس پڑھنے کے سلسلہ میں جاتا تھا ایک دن کی کہانی میری زبانی بھی سماعت فرمالیں۔

المناک کہانی

 اور دریافت حق غالباً سترہ تاریخ کی رات پانچ مجلسیں پڑھ چکا تھا اٹھارہ محرم کو بعداز دوپہر میں نے مجلس پڑھنی تھی مجھے کچھ بخار ہو گیا ہلکا ہلکا سر میں درد بھی تھا، میں نے مجلس پڑھنے میں معذوری پیش کی اسٹیج سیکرٹری نے باواصدا حسین کے پاس جا کر میری ناسازی صحت اور مجلس کا نہ پڑھنا بیان کیا تو فوراً پیر ملنگاں میری قیام گاہ میں جلوہ افروز ہوئے اس نے آتے ہی کہا...... یاعلی مدد تو میں نے جواب میں کہا ..... پیر مولا علی مدد ( یہ فرقہ روافض کی علیک سلیک ہے ) وہ کہنے لگا۔ فیضی صاحب اٹھو اٹھو مجلس پڑھو میں نے عرض کیا حضور والا میری صحت ناساز ہے کسی اور صاحب کو میرا وقت دے دیا جائے باواصاحب نے کہا۔ آپ کی صحت کا ابھی بندوبست کرتا ہوں آپ ٹھیک ہو جائیں گئے یہ کہا اور اپنے چیلے کو حکم دیا کہ سفید کاغذ لاؤ چیلا سفید کاغذ لے کر آ گیا تو صداحسین نے اس کاغذ پر چار فوٹو بنائے اتنے برے نقش بنائے کہ میں ضبط میں نہیں لاسکتا ، سیدنا ابوبکرصدیقؓ سیدنا عمرفاروقؓ سیدنا عثمان غنیؓ اور سیدہ عائشہؓ کے نام بھی لکھے تھے پھر اس نے کہا جاؤ لیٹرین میں ان اسماء گرامی پر پیشاب کر دو ( نعوذ باللہ منہ ) فوراً صحت یاب ہو جاؤ گے۔ مجھے ویسے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ ان ملنگان حیدر کرار کے ایسے ہی عملیات ہوتے ہیں اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں مگر آخر میں مولوی تھا کچھ چہرے پر چھوٹی چھوٹی داڑھی بھی موجود تھی، کبھی کبھی نماز وغیرہ بھی پڑھ لیتا تھا۔ میں نے کہا! باواجی چھوڑ ویسی باتیں“ میں مجلس پڑھ دیتا ہوں سرکار غازی عباس علمبردار کے صدقے سے شفا ہو جائے گی ، کوئی خاص بیماری تو ہے نہیں۔ لیکن اس نے بار بار اصرار کیا کہ میں یہ عمل ضرور کروں بالاخر طوعا و کرھا میں لیٹرین میں داخل ہوا، کاغذ کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں تھا، ابھی میں نے دروازہ بند ہی کیا تھا کہ ایک بھاری پتھر میرے سر پر لگا ، سر پھٹ گیا ، خون کا فوارہ جاری ہو گیا بڑی مشکل سے دروازہ کھولا لڑکھڑاتے قدم اٹھا تا کمرہ میں آیا، باوا میرے کمرے سے جا چکا تھا، خون سے میرے کپڑے لت پت تھے ، میں چکرا کر اپنے بستر پر گرا اور بے ہوش ہو گیا جب مجھے ہوش آیا تو فرسٹ ایڈ کے خیمے میں میرے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور ہوش میں لانے کے متعدد انجکشن لگائے جاچکے تھے کچھ دوست احباب بھی قریب جلوہ افروز تھے ، شب کی تاریخی چھا چکی تھی میرے دل میں روشنی کی لہر اٹھ چکی تھی باطل جارہا تھا حق آ رہا تھا۔

نبی کریمﷺ کی زیارت مبارکہ

ڈاکٹر صاحب نے مجھے آرام کرنے کا حکم دیا اور مجھے دوائی پلا دی گئی ، نیند کی دیوی نے اپنی گود پھیلا دی میں بستر استراحت پر محو خواب ہو گیا عالم خواب میں، میں باعث تکوین کائنات، فخر موجودات، سرکار مدینه، سرور سینه ، هادی سبل، ختم رسل حضرت محمد مصطفیﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا، آپﷺ کے تشریف لانے پر میرا کمرہ معطر منور ہوگیا ان کی مہک نے غنچے کھلا دیے اور آپﷺ نے فرمایا گستاخان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے اوپر جہنم واجب کر لی ہے، کیا تم بھی جہنم کا ایندھن بننا چاہتے ہو؟“

 بس اتنا ہی فرما کر آپﷺ غائب ہو گئے وہ بھی چلے گئے بہاروں کے ساتھ ساتھ، چاند چھپ گیا ستاروں کے ساتھ ساتھ واما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى ،

 بس پھر کیا تھا ، آنکھیں ہیں تو برس رہی ہیں نگاہیں ہے تو ترس رہی ہیں دل بے قرار ہے اس مقام پر میری آخری تقریر تھی میں حق کی تلاش میں کئی آستانے تلاش کئے ، بڑے بڑے سفر کئے ، کئی سنی مساجد کے سہارے لئے ، مگر اطمینان قلب نصیب نہ ہوا۔

دوبارہ علماء شیعہ سے رابطہ

صفحہ 2 از 6