نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید - ردِ رافضیت | دفاع…

نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 6

 بہت سارے دشمن پیدا ہو گئے ، مخالفتوں نے سر اٹھائے ، کچھ مجبوریاں پیش نظر تھیں، بیوی اور بال بچوں کا بھی مسئلہ در پیش تھا اس لیے دوبارہ شیعہ علماء سے مراسم استوار کئے چونکہ ملنگان حیدر کرار سے شدید نفرت ہو چکی تھی اس لئے مجالس عزا میں بھی جانا کم کر دیا، میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں فرقہ روافض میں علم کی بہت کمی شدت سے محسوس کرتا ہوں اس لیے میں نے سوچا علمی مشاغل شروع کر دوں کوئی درس و تدریس کیلئے اچھی سی جگہ مل جائے اور بجائے تقریر کے تحریر سے اپنی گمراہ قوم کو هدایت کروں ۔ اس واسطے میں نے اہلِ علم علماء سے روابط قائم کیے اور مشورے بھی لیے تو میرے اس ارادے کو بڑا سراہا گیا۔

مدرسہ بنانے کا پروگرام اور علماء کی میٹنگ

میاں چنوں ضلع ملتان میں ایک اچھا سا قصبہ ہے وہاں کے مومنین سے رابط قائم کیا ۔ خوب غور و خوض سے ایک میٹنگ بلائی گئی اس میں طے ہوا کہ فی الحال مرکزی امام بارگاہ میں تدریس کا سلسلہ شروع کرو اس کے بعد کوئی وسیع جگہ تلاش کر لیں گے۔ اور یہ بھی طے پایا کہ ایک عظیم الشان اجلاس کیا جائے مختصراً عرض کروں ملک کے نامور مبلغین کو دعوت نامے دیے گئے اور مہمان خصوصی جناب آغا مرزا مرتضی پویا کو بلایا گیا اور اتفاق رائے سے مدرسہ کا نام مدرسہ دار العلوم الحیدریہ رکھا گیا اور مرکز امام بارگاہ میاں چنوں میں مورخہ 26 و 27 اپریل 1979ء بمطابق 27 29 جمادی الاولی بروز جمعرات و جمعہ ہمارا اجلاس شروع ہوا جس کی ہم نے چار نشستیں کیں۔ ملک کے علماء کرامؒ کو مدعو کیا گیا اور ملک کے مشاھیر ذاکرین کرام کو بھی بلایا گیا تھا اور بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا تھا۔

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِل

مگر افسوس کہ آخری اجلاس میں ایک ذمہ دار مبلغ نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور جناب سیدنا عمر فاروقؓ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے، میں نے جب ٹوکا تو علماء کرامؒ اور عوام نے بہت برا محسوس کیا اور اس پر ایک طویل گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا پورے ملک کے روافض حضرات میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ فیضی صاحب مرتد ہو رہے ہیں، میرے مقابلہ میں مناظرین حضرات کو بلایا گیا، مجھے ضد ہوچکی تھی گو میں بے یار و مددگار ہو کر رہ گیا تھا مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر پورا بھروسہ تھا میں نے قرآن کریم کی سورۃ نور کی سترہ آیات ربانی پڑھ کر سیدہ اماں عائشہ صدیقہؓ کی طہارت و پاکدامنی بیان کی تو مناظر صاحب حق کے سامنے نہ ٹھہر سکے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ( حق آگیا، اور باطل کھسک گیا) کا نقشہ سامنے آگیا۔

 ناظرین ......

 یہ تھوڑی سی میری سرگزشت ہے جو میں نے بیان کر دی ہے اگر تمام واقعات جو وقوع پذیر ہوئے ہیں میں بیان کروں تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی ان شاء اللہ تھوڑا تھوڑا کر کے میں اپنی تقریروں میں بیان کرتا رہوں گا اب میں اس فرقہ باطلہ کی پوزیشن پیش کرنے کی سعادت حاصل کر کے قضائیں ادا کروں گا و ما توفیقی الا بالله بقلم خود سید ابوالحسن فیضی

 (ماخوذ از نقاب کشائی )۔

 اغواء اور قتل کرنے کی کوشش

 جب اللہ رب العزت نے سید ابوالحسن فیضی صاحبؒ کو ایمان کے نور سے منور کیا اور انھوں نے مذھب شیعہ سے براءت کا اعلان کر کے اسلام قبول کر لیا اب اگر تو شاہ صاحب اسلام قبول کرنے کے بعد خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتے اور اللہ اللہ شروع کر دیتے تو ان کی جان کو کوئی خطرہ نہ تھا لیکن انھوں نے اسلام کی حقانیت تسلیم کر لینے کے بعد بقیہ زندگی گوشہ تنہائی میں گزارنے کی بجائے شیعہ کے کفر کے خلاف جہاد کرنا اپنا فرض منصبی سمجھا اور اسی مقصد کیلئے انھوں نے کئی کتابیں

صفحہ 3 از 6