نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید - ردِ رافضیت | دفاع…

نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 4 از 6

اور پمفلٹ شائع کیے جن میں ان کی کتاب نقاب کشائی اہل علم میں بہت مقبول ہوئی شاہ صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں شیعہ کے خلاف کتابوں کی شکل میں تحریری جہاد کر کے بیشتر زندگی کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اسی جرم کی پاداش میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ظہر کے وقت شاہ صاحب کو گھر سے اغواء کیا گیا "اغواء کی کہانی خودان کی زبانی" سنیئے۔ قریبی گاؤں پنڈگی بھٹیاں میں ہمارے مرید اصغر علی بھٹی رہتے ہیں ان کے والد صاحب نے وفات سے قبل اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو میرا جنازہ سید ابوالحسن شاہ صاحب پڑھائیں گے وہ عید سے چھ روز قبل وفات پاگئے تو وصیت کے مطابق مجھے جنازہ پڑھانے کی اطلاع ملی میں ظہر کے وقت وہاں جانے کیلئے تیار تھا، اسی اثناء میں بادامی رنگ کی بغیر نمبر پلیٹ کاریں سوار چار نوجوان آئے ان میں سے ایک کا نام اصغرعلی تھا جوان کی آپس کی گفتگو سے مجھے معلوم ہوا باقیوں کے نام میں نہیں جانتا انھوں نے مجھے اسی شخص کی نماز جنازہ پڑھانے کے سلسلے میں ساتھ چلنے کو کہا میں بالکل تیار تھا اس لئے ان کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا۔ گاڑی چل پڑی کافی وقت گزرنے کے بعد بھی مذکورہ چیک نہ آیا تو سب نوجوان ہنسنے لگے اور میرے ساتھ فحش مزاق کرنے لگے اور نعوذ باللہ اصحاب رسولﷺ کو ننگی گالیاں دینے لگے جب مجھے اصل حقیقت کا علم ہوا میں نے خداوند کی طرف مکمل توجہ شروع کر دی ، دل میں خداوند کریم سے دعا کرنے لگا۔ وہ لوگ مجھے چونیاں سے ہو کر ڈھائے کے ساتھ جنگل میں لے گئے اور جنگل کے درمیان میں جا کر انھوں نے گاڑی روکی، ایک لڑ کے نے میری داڑھی پکڑ کر گھسیٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے لڑکے نے کہا ٹھہرو پہلے اس سے پوچھ گچھ کر لیتے ہیں انھوں نے مجھے کہا تم دوبارہ شیعہ ہو جاؤ ہم تمہیں خمس کی تمام رقم دیں گے اس کے علاوہ تمہارے ہر قسم کے معاشی مسائل کے بھی ہم ذمہ دار ہیں میں نے ان کے سامنے برملا کہا۔ مجھے جو لذت شیعہ مذهب ترک کر کے حاصل ہوئی ہے میں اس کو کھونا نہیں چاہتا لہذا آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں میں دوبارہ شیعہ مذہب قبول نہیں کر سکتا" اس کے بعد اصغر علی نے مجھے گھسیٹ کر ایک گڑھے میں ڈال دیا اور لاٹھیوں سے مارنا شروع کر دیا، میرا سر پھٹ گیا۔ جسم لہولہان ہو گیا میرے منہ میں چھریاں ماریں دانت ٹوٹ گئے میں نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گر پڑا جب مجھے ہوش آیا عجیب منظر دیکھا میرے ارد گرد اونٹوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ تھا تین جنگی قسم کے آدمی میرے منہ میں پانی ڈال رہے تھے انھوں نے مجھے بتایا کہ ہم اس جنگل میں اونٹ چراتے ہیں ہمیں ایک چیخ سنائی دی ہم اس طرف آئے تو تین چار نوجوان ہمیں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر کار میں سوار ہو کر بھاگ گئے ہم نے 12 بور کا فائر بھی کیا لیکن کار دور نکل چکی تھی انھوں نے میرے زخموں سے خون صاف کیا میرے سر پر کپڑا باندھ کر مجھے چونیاں تک پہنچا دیا میں نے اپنے چک پھنچ کر ساری کاروائی انتظامیہ کے گوش گزار کی تھانہ والوں نے پرچہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا مجھے اب بھی دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن حق بات کہنے کی پاداش میں تکالیف میری راہ نہیں روک سکتی خداوند کریم مجھے استقامت نصیب فرماۓ آمین

 (ماهنامه خلافت راشده اکتوبر 1990ء)

سابق صدر جمہوریہ عراق صدام حسین کے نام کھلا خط

 سید ابو الحسن فیضی نے صدام حسین کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے ایرانی انقلاب میں خمینی ملعون کے عزائم کو واضح کیا اور اس خط سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ سید ابوالحسن فیضی صاحب کا اہلِ تشیع میں کیا مقام و مرتبہ تھا اور وہ کتنی اونچی حیثیت پر تھے اس کے باجود ان کا مذھب اہلِ سنت اختیار کرنا یہ مذھب اہلِ سنت کی حقانیت اور شیعیت کے کفر پر بین دلیل ہے وہ پورا خط ملاخطہ فرمائیں۔

 خط کی عبارت

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 محترم جناب صدام حسین صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته جناب عالی! گزارش ہے کہ آپ کا حکومت کویت پر غاصبانہ قبضہ اور پر امن سعودی عرب پر للکارنا آپ کی عظمت، شجاعت، شرافت، حوصلہ مندی، اور سیاست کے منافی ہے۔ آپ نے عرصہ نو دس برس ایران سے جنگ کی ہم اس وقت آپ کو حق پر خیال کرتے تھے آپ کے سفیر معینہ پاکستان نے علماء پاکستان کو یہ تاثر دیا کہ ہم ایران کے ساتھ اصولوں پر جنگ کر رہے ہیں، چونکہ شیعوں کے پیشوا خمینی نے ہزار ہا بندگان خدا کو موت کا لقمہ بنا دیا ہے اور خونی انقلاب سے ھلاکو اور چنگیز خان کو بھی مات کر دیا۔ جناب صدر صاحب آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے اندر 90 فیصد مسلمان شیعہ ازم اور خمینی ازم کو پسند نہیں کرتے بلکہ اس مذہب باطل کو پاکستان کے غیور مسلمان کفر و الحاد قرار دیتے ہیں آپ نے ہم اہلِ اسلام پاکستانیوں سے جانی مالی مدد چاہی ہمارے علماء حق اور مسلم جوانوں نے آپ کی ڈٹ کر مدد کی کیا آپ اس کا انکار کر سکتے ہیں ہرگز نہیں اور ساتھ ساتھ کویت اور سعودی عرب نے بھی کھل کر آپ کی مدد کی مگر افسوس کہ آپ نے اپنے محسنوں کے ساتھ غداری کی ہم اہلِ پاکستان آپ سے سوال کرتے ہیں کہ یکدم آپ نے اپنی پالیسی کیوں بدل لی ؟ آپ نے ازلی حریف سے اتنی جلدی دوستی کیوں کر لی؟ اور مفتوحہ علاقہ واپس کیوں کر دیے؟ جناب ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ اندرون عراق عبداللہ بن سبا کی ذریت اور خمینی کے حواریوں نے آپ کے ساتھ دجل کیا ہے آپ کو اندرون عراق ایسے مشیر ملے ہیں جو خاص خمینی کے تربیت یافتہ ہیں ، ان کی چکنی چپڑی گفتگو نے آپ کی سوچ کا گھارا بدل دیا ہے انھوں نے آپ کو عمر ثانی قرار دیکر یہ تاثر دیا ہے کہ تمام خلیجی ممالک پر آپ قبضہ کر لیں گے، سعودی عرب پر قبضہ کرلو، چونکہ یہ بڑا ملک ہے اگر اس پر آپ نے فتح حاصل کر لی تو باقی تمام خلیجی ریاستیں آپ کی طفیلی بن جائیں گی، آپ کا خزانہ دنیا کے خزانے میں بڑا ہوگا اور آپ بہت بڑے فاتح بن جائیں گے۔ ہماری ایرانی عسکری قوت آپ کی آرمی میں ضم ہو جائے گی آپ کے ایک اشارہ ابرو پر اپنی جانیں قربان کر دیں گے، ہمارے امام حجت مہدی یعنی قائم آل محمدﷺ

صفحہ 4 از 6