Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صوبوں کے گورنروں سے تعاون کا مطالبہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خوشحال ریاستوں کے گورنروں کو امدادی اسباب و وسائل ارسال کرنے کے لیے فوراً خط لکھا، آپؓ نے مصر پر مقرر کردہ اپنے گورنر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا:

’’اللہ کے بندے عمر بن خطاب امیر المؤمنین کی طرف سے ابن العاص کے نام! سلام علیک، اما بعد! کیا تو مجھے اور جو میرے پاس ہیں سب کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھتا رہے گا، اور تو اور جو تیرے پاس ہیں سب کو لے کر عیش کی زندگی گزارے گا، مدد و تعاون کی ضرورت ہے، مدد و تعاون بھیجنے میں جلدی کرو۔‘‘

چنانچہ عمرو بن عاصؓ کو یہ خط ملا تو جواب میں آپ نے یہ تحریر کیا:

’’عمرو بن عاص کی طرف سے اللہ کے بندے امیر المؤمنین کے نام! سلام علیک، میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، حمد وصلاۃ کے بعد، آپ ہمیں تھوڑی سی مہلت دیں اور تھوڑا انتظار کریں، آپؓ کے پاس امداد ضرور پہنچے گی، میں آپؓ کے پاس غلے سے لدا ہوا اتنا عظیم قافلہ روانہ کرنے والا ہوں، جس کا پہلا سرا آپ کے پاس، اور آخری سرا میرے پاس ہوگا، ساتھ ہی میں اس کی تلاش میں ہوں کہ سمندری راستے سے بھی کچھ امداد بھیج سکوں۔‘‘ 

(أخبار عمر: صفحہ 115) 

چنانچہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے خشکی کے راستے آٹے سے لدا ہوا ایک ہزار اونٹوں کا قافلہ اور سمندری راستے سے تیل، اور آٹے سے لدی ہوئی بیس کشتیاں روانہ کیں، اسی طرح سامان تعاون میں پانچ ہزار چادریں اور کپڑے بھی ارسال کیے۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 115)

سیدنا عمرؓ نے شام پر مقرر اپنے تمام عمال و افسران کے نام خط لکھا کہ ’’ہمارے پاس وہ غلہ و خوراک بھیجو جو ہمارے لیے قابل استعمال ہوں، لوگ مر رہے ہیں، مگر وہی جس پر اللہ رحم فرمائے۔‘‘ 

(ألفاروق عمر: صفحہ 262)

آپؓ نے عراق اور فارس کے اپنے گورنروں کو بھی اسی طرح کا خط لکھا، اور سب نے امدادی سامان بھیجا۔ 

(ألفاروق عمر: صفحہ 263)

طبری نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے ابوعبیدہ بن جراحؓ چار ہزار اونٹوں پر غذا و خوراک لے کر آپؓ کے پاس پہنچے، حضرت عمرؓ نے انہی کو یہ ذمہ داری دے دی کہ جو لوگ مدینہ کے اردگرد پڑاؤ ڈالے ہیں ان میں یہ خوراک تقسیم کر دو۔‘‘ چنانچہ جب ابوعبیدہؓ تقسیم کر کے واپس ہوئے تو حضرت عمر بن خطابؓ نے انہیں چار ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں نے صرف اللہ کی رضامندی اور آخرت کی تیاری کے لیے یہ سب کیا ہے، دنیا کو مجھ پر مسلط نہ کیجیے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اسے لے لو، اگر بغیر مطالبہ کے ملے تو اسے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن آپؓ نے لینے سے انکار کر دیا حضرت عمرؓ نے پھر کہا: اسے لے لو، میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اسی طرح ذمہ دار بنایا گیا تھا، آپؓ نے مجھ سے اسی طرح کہا تھا جس طرح آج میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں نے بھی اسی طرح جواب دیا تھا جس طرح تم جواب دے رہے ہو، پھر بھی آپﷺ نے مجھے دیا تھا۔ یہ سن کر حضرت ابوعبیدہؓ نے وہ چار ہزار درہم قبول کر لیے، اور اپنے افسران کے ساتھ واپس لوٹ گئے، اور پھر امداد و تعاون کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 80)

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے خوراک سے لدے ہوئے تین ہزار اونٹوں کا قافلہ بھیجا نیز آٹے سے لدے ہوئے ایک ہزار اونٹوں کا قافلہ عراق سے آ پہنچا۔

(الفاروق عمر: صفحہ 262)

خوراک اور غلہ جب مہیا ہو گیا تو سیدنا عمرؓ نے انہیں مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں دور دراز دیہاتوں سے بھاگ بھاگ کر آنے والے وفود پر تقسیم کرنا شروع کیا، کچھ امدادی غلہ جات اور خوراک کو بادیہ نشینوں تک بھیجا، اور یہ حکم دیا کہ اسے تمام عرب قبائل پر تقسیم کیا جائے۔

سیدنا زبیر بن عوامؓ کا بیان ہے کہ عام الرمادہ میں حضرت عمرؓ نے بادیہ نشینوں کی امداد کے لیے آٹا، چربی اور تیل سے لدے ہوئے اونٹوں کا ایک قافلہ تیار کر کے مجھے حکم دیا کہ اس قافلہ کو لے کر سب سے پہلے نجد والوں کے پاس پہنچو، اور ان میں سے جس گھرانے کے لوگوں کو مجھ تک بھیج سکتے ہو انہیں بھیجو، اور جو گھرانے آنے کے قابل نہ ہوں انہیں ایک ایک اونٹ پورے ساز و سامان کے ساتھ دے دو، اور انہیں بتا دو کہ ہر ایک اپنے لیے دو چادریں لے، ایک ٹھنڈ کے لیے اور ایک گرمی کے لیے، نیز ان سے کہہ دو کہ اونٹ کو ذبح کر لیں، اس کی چربی محفوظ رکھ لیں، گوشت کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کر لیں، اور پھر چربی و آٹا سے تیار کردہ خوراک اپنی غذا بنالیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی روزی کشادہ کر دے۔ 

(الفاروق عمر: صفحہ 262)

سیدنا عمرؓ کو دیگر ریاستوں سے کپڑے اور غلہ کی جو مدد پہنچتی آپ ہر ہر مہینے اسے لوگوں کے پاس بھیجتے رہتے، آپ کا لنگر برابر بنٹتا رہتا، ماہر خانسامے باورچی مسلسل کھانا پکاتے رہتے، صبح ہی سے وہ کھانا پکانے میں لگ جاتے اور لوگوں کو کھانا فراہم کرتے۔

سیدنا عمرؓ نے اعلان کر دیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے قحط سالی دور نہ کی تو ہر گھرانے کے ساتھ انہی کی تعداد دوسروں کو بھی ان کے ساتھ کر دوں گا، اور اللہ تعالیٰ جو کچھ ہم کو میسر کرے گا وہ سب کو کھلاؤں گا، لیکن اگر میں اس سے بھی عاجز ہو گیا تو ہر صاحب وسعت کنبہ پر اسی کی تعداد میں دوسروں کی کفالت کا بھی اسے مکلف کروں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ زندگی بارش نازل کر دے۔ 

(الفاروق عمر: صفحہ 263)

اور ایک روایت میں ہے کہ آپؓ نے فرمایا: ’’اگر قحط نے طول پکڑا تو ہر بھوکے کو صاحب وسعت گھرانوں پر تقسیم کر دوں گا، کیونکہ لوگ آدھا پیٹ کھا کر زندہ رہ سکتے ہیں اتنے میں وہ ہلاک نہیں ہوں گے۔‘‘ 

(السیاسۃ الشرعیۃ: دیکھئے إسماعیل بدوی: صفحہ 403، محض الصواب: جلد 1 صفحہ 364)

آپ نے کئی کمیٹیاں تشکیل دے کر ان کے ذریعہ سے بہت سے قبائل کو ان کے گھروں تک غلہ و خوراک پہنچانے کا انتظام کیا، چنانچہ جب سیدنا عمرو بن عاصؓ کے سامان رسد سے لدے ہوئے اونٹوں کا قافلہ شام میں داخل ہونے لگا تو آپؓ نے کچھ لوگوں کو نگران و کارکن کی حیثیت سے یہ ذمہ داری دی کہ ان اونٹوں کے جزیرۂ عرب میں داخل ہوتے ہی انہیں مختلف علاقوں میں تقسیم کر دیں، ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، اونٹوں کو اپنے دائیں بائیں جہاں ضرورت محسوس کی تقسیم کر دیا، پھر وہ لوگ اونٹوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت، آٹا، چادر اور کپڑے وغیرہ ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے، حضرت عمرو بن عاصؓ نے مصر سے سمندری راستے سے جو غلہ بھیجا تھا آپؓ نے اسے ایک آدمی کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ اسے لے جاؤ اور اہل تہامہ کو پہنچا دو اور انہیں کھلاؤ۔ 

(اخبار عمر: صفحہ 110)