مرتے دم تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت کروں…

مرتے دم تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت کروں گا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 4

عبرتناک شکست کھائی اسی دوران جھنگ سے مولانا علامہ حقنواز جھنگوی شہیدؒ مجھ سے ملنے کے لئے آئے کہ ذاکر محسن رضا شاہ نقوی کون ہے اس کے بعد میرے علامہ حقنوازؒ کے ساتھ آٹھ مناظرے ہوئے پہلا مناظرہ کلمہ طیبہ پر اور مسئلہ امامت پر ہوا علامہ جھنگویؒ نے فرمایا کہ جتنے کلمے ہیں وہ سب کے سب تو انبیاءؑ کے ناموں پر ہیں اور دو ہی جزو ہیں اگر تمہارا کلمہ صحیح ہے تو پھر سیدنا علیؓ کو نبی یا رسول ہونا چاہیے میں اس کا جواب نہ دے سکا۔ انھوں نے کہا کہ اگر واقعی یہ کلمہ منصوص من اللہ ہوتا تو پہلے قرآن میں اس کا صراحتا لازمی ذکر ہوتا جیسے لا الہ الا اللہ کی اور محمد رسول اللہ کی صراحت ہے اگر قرآن میں نہیں ہے تو اپنے بارہ اماموں سے ثابت کر دو کہ انھوں نے لوگوں کو یہ پڑھایا ہو مگر میں ثابت نہ کر سکا دوسرا مناظرہ مسئلہ امامت پر ہوا اس میں انھوں نے سوال کیا کہ اہلِ سنت کے اصول دین تین ہیں (1) توحید (2) رسالت (3) معاد، ان تینوں کا تذکرہ قرآن میں بالتفصیل موجود ہے جبکہ شیعیت کے اصول دین پانچ ہیں (1) توحید (2) رسالت (3) معاد (4) عدل (5) امامت ... چار کا تذکرہ تو قرآن میں ہے لیکن امامت کا تذکرہ قرآن میں نہیں ہے حالانکہ اس کا منکر شیعہ کے نزدیک کافر ہے، میں نے کہا قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے انی جاعلك للناس اماما تو انھوں نے کہا، اس طرح تو یوں بھی قرآن میں ہے ائمة الكفر امام تو کفار میں بھی ہیں یہ تو ایک عام لفظ ہے اور جو تم خاص امامت مانتے ہو اس کا میں پوچھ رہا ہوں ۔ مگر میں جواب نہ دے سکا بہر حال آٹھ مناظرے ہوئے ان آٹھ میں ہی میں نے عبرتناک شکست کھائی۔ اس شکست کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی صداقت کا مشاہدہ بھی کر لیا بالآخر دل و جان سے اسلام قبول کر لیا اسکی تفصیل یہ ہے کہ میرے والد صاحب کا بیمار ہونا 1974ء میں

میرے والد صاحب بیمار ہو گئے

 ان کے جسم پر فالج ہو گیا تھا تو میں ان کو اپنے پاس لے گیا اور علاج کرنا شروع کر دیا پورے تین مہینے میں نے علاج کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا پھر یہ برکت والا مہینہ رمضان المبارک آیا یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس کا پہلا عشرہ بھی گزر گیا دوسرا عشرہ بھی گزر گیا تیسرا عشرہ شروع ہو گیا۔

 صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نظر آرہے ہیں

 مسلمانو ! ھسپتال کا کمرہ تھا ستائیس رمضان المبارک کی رات تھی ایک میں تھا اور دوسرا میرا والد تھا تیسری اللہ کی ذات تھی رات کا وقت تھا آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ لاہور کے رہنے والے مسلمان ! جب میں نے جائزہ لیا والد صاحب کی حالت کا تو میرے والد صاحب کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوچکے تھے چہرہ زرد تھا، آنکھوں سے پانی جاری تھا بولتے تھے تو زبان اٹکتی تھی۔ اس وقت میں نے کہا ! ابا جان! یہ مصیبت کا وقت ہے اس وقت سیدنا علی بن ابی طالبؓ کو یاد کر لو، حسن مجتبی کو یاد کر لو، شہید کربلا کو یاد کرلو، سیدہ فاطمہ الزھراءؓ سيدة نساء العالمین کو یاد کرلو جناب محمدﷺ کو یاد کرلو میں نے اپنے عقیدے کے مطابق جب پنجتن پاک پورے کیے اور میں نے کہا ابا جان ! ان سے مدد مانگ لیتے تو ہماری مصیبت دور ہو جاتی۔ مسلمانو! ابھی میرے الفاظ ختم نہیں ہوئے تھے کہ میرے والد صاحب کا پورے کا پورا بدن کانپ گیا اور ان کی چیخ نکل گئی اور کہنے لگے ” یہ ٹھیک ہے مگر مجھے

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نظر آ رہے ہیں جن کی پوری زندگی میں نے مخالفت کی سب و شتم کیا اب وہ نظر آ رہے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کہہ رہے ہیں محمد حسین تو نے پوری زندگی ہم پر سب وشتم کیا اب تیرا ٹھکانہ جھنم ہے۔ مسلمانو! میں نے اپنے کانوں سے سنا چودھویں صدی میں یہ بات اپنے کانوں سے سنی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر سب و شتم کرنے والوں کا ٹھکانہ جھنم ہے

 پاؤں تلے سے زمین نکل گئی

 بس جب میں نے یہ بات سنی یہ کوئی معمولی منظر نہ تھا معمولی مقام نہ تھا بہت بڑا انقلاب تھا کہنے والا بھی شیعہ خطیب، سننے والا بھی شیعہ خطیب، جب انھوں نے یہ بات کی کہ مجھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نظر آرہے ہیں تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اس لیے کہ یہ سب میرے مسلک کے خلاف تھا میں تو صحابہ کرام

رضوان اللہ علیھم اجمعین کو نہیں مانتا تھا ، میں تو سیدنا صدیق اکبرؓ کی خلافت کا منکر تھا جب انھوں نے یہ بات کی، یہ کوئی معمولی بات تو نہ تھی اور پھر مرتے وقت ...... اللہ اکبر ۔ صرف چند منٹ ، چند منٹ کیا چند سیکنڈوں کا فرق تھا جب وہ دنیا سے چلے مگر یہ کہہ کر جارہے ہیں کہ مجھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نظر آ رہے ہیں معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی صداقت عیاں ہے

معاف کردو

 مسلمانو! اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا مجھے معاف کر دو، مجھے معاف کر دو، تین چار مرتبہ ان کی زبان سے ٹوٹے ہوئے الفاظ نکلے کہ مجھے معاف کردو۔ بھائیو! معاف تو وہی کر سکتا ہے جس کا آدمی جرم کرے کیونکہ یہ جرم تھا خاص صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا، لہذا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہی معاف کر سکتے ہیں، نہ دنیا والے معاف کر سکتے ہیں نہ میں معاف کر سکتا ہوں خدا کی قسم اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین معاف نہ کریں تو خدا بھی معاف نہیں کریں گا۔

میں سید نہیں ہوں

صفحہ 2 از 4